تہاڑ جیل کو کشمیری نظربندوں کیلئے بدنام زمانہ گوانتا ناموبے بنادیاگیا ہے ،ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی

جیل میں نظربندوں نفسیاتی طور پر ناقابل برداشت اذیتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، نوہٹہ میں مسجد میں نمازیوں پر مہلک ہتھیاروں کا استعمال قابل مذمت ہے، ترجمان

جمعہ مئی 16:58

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیرمیں جموںوکشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے کشمیری نظربندوںکی حالت زار پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ نئی دلی کی تہاڑ جیل کوشبیر شاہ سمیت وہاں نظر بند حریت رہنمائوں کیلئے بدنام زمانہ گوانتا نامو بے جیل بنادیاگیا ہے ۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ تہاڑ جیل میں نظربند رہنماء سخت ترین ایام سے گذر رہے ہیں کیونکہ اُنہیں نفسیاتی طور پر ناقابل برداشت اذیتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوںنے کہاکہ کشمیری نظربندوں کو یا تو چھوٹے سیلوں میں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے یا پھر بڑے سیلوں میں خطرناک مجرموں کے ساتھ روا گیا جن کے ساتھ وہ خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوںنے جیل انتظامیہ پر زوردیاکہ وہ جیل میں نظربند تمام کشمیری رہنمائوں خاص طورپر شبیر شاہ کی حفاظت اور انہیں علاج معالجے کی سہولتیں فوری فراہم کرے۔

انہوںنے جیل میں شبیر شاہ کی تیزی سے گرتی ہوئی صحت پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ انہیں ایک چھوٹی سے کوٹھری میں قید رکھا گیا ہے ۔ ترجمان نے بھارتی فورسز کی طرف سے سرینگر کے علاقے نوہٹہ میں جامع مسجد کے اندر نمازیوں پر آنسو گیس اور پیلٹ گنز کا بے دریغ استعمال کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ جامع مسجد احاطے میں فورسز اہلکاروںکی طرف سے مہلک ہتھیاروں کے استعمال واضح ہو گیا ہے کہ انہیں نہتے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور کرنے کیلئے طاقت کے وحشیانہ استعمال کی کھلی چھوٹ حاصل ہے ۔