اسلام نے ہی علم فلکیات اور سائنسی سوچ کو کیسے پروان چڑھایا ،سربراہ دبئی رصدگاہ

علم فلکیات نے صحرا میں عرب زندگی میں اہم کردار ادا کیا ،ہمارے پاس آسمان ہے، زمین ہے اور سمندر،گفتگو

جمعہ مئی 17:00

دبئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) دبئی رصدگاہ گروپ کے چیف ایگزیکٹو حسن الحریری نے کہاہے کہ اسلام کے آغاز سے علم فلکیات کی راہ ہموار ہوئی ،اس نے ستارہ شناسی کی حوصلہ شکنی کی اور اس کے نتیجے میں سائنسی سوچ پروان چڑھی تھی جس نے تمام تہذیبوں ہی کو متاثر کیا ہے۔یہ باتیں دبئی رصدگاہ گروپ کے چیف ایگزیکٹو حسن الحریری نے عرب ٹی وی سے بات چیت میں کہیں ،انھوں نے کہا کہ علم فلکیات نے صحرا میں عرب زندگی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ہمارے پاس آسمان ہے، زمین ہے اور سمندر ہے۔آسمان ہمیشہ اس تکون کا اہم حصہ رہاہے۔انھوں نے بتایا کہ اسلام سے پہلے کے قدیم دور میں لوگ آسمان کی طرف اس کی خوب صورتی کی بنا پر دیکھتے تھے ،وہ اس کو دیکھ کر اپنے وقت کا تعیّن کرتے، کیلنڈر بناتے ،سمت کا تعیّن کرتے اور اس کی روشنی میں سفر کرتے تھے۔

(جاری ہے)

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہم بہ طور مسلمان سورج سے وقت کا تعیّن کرتے اور اس کے طلوع وغروب اور ڈھلنے کی بنیاد پر اپنی نمازیں ادا کرتے ہیں۔

ہم چاند کی رؤیت پر اپنے اسلامی مہینے کا تعین کرتے، روزہ وحج کا اہتمام کرتے اور عید کی خوشیاں مناتے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ یہ نظام فلکی تو ہماری زندگی کا لازمی جزو ہے اور یہ کوئی اضافی چیز نہیں ہے۔حسن الحریری نے بتایا کہ مسلم تہذیبوں نے رصدگاہیں تعمیر کیں، فلکیات کے آلات بنائے،فلکیات کی لیبارٹریوں میں تبدیلیاں کیں اور انھیں از سرنو استوار کیا۔انھوں نے ستاروں کی نقل وحرکت کے مشاہدے کے لیے آلات بنائے۔

متعلقہ عنوان :