کراچی، شدید گرمی اور رمضان المبارک کے باعث خون کے عطیات میں 70فیصد کمی

عوام خون کے عطیات دیں تاکہ خون کی کمی کو پورا ،تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کو خون فراہم کیا جاسکے،ڈاکٹرثاقب حسین انصاری

جمعہ مئی 17:15

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) شدید گرمی اور رمضان المبارک کے باعث خون کے عطیات میں 70فیصد کمی واقع ہوگئی ہے،جس سے تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے عمیر ثنا فاونڈیشن کے جنرل سیکریٹری اور معروف ماہر امراض خون ڈاکٹر ثاقب حسین انصاری نے عوام سے اپیل کی ہے کہ خون کے عطیات دیں تاکہ خون کی کمی کو پورا کیا جاسکے اور تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کو خون فراہم کیا جاسکے ۔

انہوں نے بتایا کہ شدید گرمی اورطویل روزوں کے باعث شہریوں کی جانب سے خون کے عطیات نہیں دئیے جارہے ہیں اور ہمیں خون بالخصوص او گروپ کے خون کی کمی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اگر یہی صورتحال رہی تو ضرورت مند مریضوں کو خون فراہم کرنا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کالجز و جامعات کی چھٹیاں ہو گئی ہیں اور اب جامعات میں بلڈ کیمپس بھی نہیں لگ سکتے نہ طلبا خون کا عطیہ دے رہے ہیں ایسے میں بچوں کیلئے شدید پریشانی بن رہی ہے عید بھی آرہی ہے بیمار بچے بھی چاہتے ہیں کہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ ہنسی خوشی عید منا سکیں اس لئے جوانوں کو چاہیے کہ وہ اس رمضان میں مریض بچوں کو عیدی کے طور پر خون کاعطیہ دیں تاکہ ا ن میں زندگی کی امنگ پیدا ہو سکے ۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ بزرگ افراد اور خواتین خون کے عطیات نہ دیں لیکن نوجوان اور جوان افراد افطاری کے بعد خون کے عطیات دیں اس سے ان کی صحت پر کوئی مضر اثرات نہیں پڑیں گیبلکہ یہ فائدہ مند ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خون عطیہ کرنے سے ہارٹ اٹیک میں کمی ، قوت مدافعت میں اضافہ اور انسانی جسم میں پرانے خون کی جگہ نیا ، صحت منداور تازہ خون بن جاتا ہے جبکہ موٹاپے میں بھی کمی ہوتی ہیانہوں نے بتایا کہ خون عطیہ کرنے سیہیپٹائیٹس ،ایچ ائی وی ایڈ ز سمیت دیگر بیماریوں کے بھی ٹیسٹ ہو جاتے ہیں کہ آیا وہ ان بیماریوں میں مبتلا تو نہیں ہیں اس لئے عوام خون کا عطیہ کریں۔