پنجاب سے دوسرے صوبوں کو آٹے کی فراہمی پر پابندی غیر قانونی ہے، قیمت پر شہرت نہ کمائی جائے،ایف پی سی سی آئی

غذائی بحران کا اندیشہ، خیبر پختونخواہ زیادہ متاثر ہو رہا ہے،غضنفر بلور

جمعہ مئی 17:44

پنجاب سے دوسرے صوبوں کو آٹے کی فراہمی پر پابندی غیر قانونی ہے، قیمت ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) فیڈریشن آف پا کستا ن چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈ سٹر ی کے صدرغضنفر بلورنے کہا ہے کہ حکومت پنجاب نے رمضان المبارک میں سبز تھیلے میں سستا آٹا فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے فائدے کے بجائے الٹانقصان ہو رہا ہے۔ الیکشن سے قبل کئے جانے والے اس فیصلے کے ساتھ ہی دوسرے صوبوں کو آٹے کی فراہمی پر بھی پابندی عائد کر دی ہے جوبنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی، غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام ہے۔

ایف پی سی سی آئی کے صدرغضنفر بلورنے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ اب پنجاب کی فلور ملز اب دوسرے صوبوں کو آٹا فراہم نہیں کر سکتیں جس سے انکا کاروبار متاثر ہونے کے علاوہ ملک بھر میں غذائی بحران پیدا ہونے کا اندیشہ ہے جبکہ صوبہ خیبر پختونخواہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔

(جاری ہے)

حکومت پنجاب نے یکم رمضان سے فلور ملز کا کوٹہ کم کر دیا ہے، انھیں سرکاری گندم پیسنے پر مجبور کر دیا گیا ہے، پرائیویٹ گندم پیسنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ آٹا مقامی سطح پر یا کسی دوسرے صوبہ کو فروخت کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے ۔

پنجاب کی فلور ملیں اب صرف سبز تھیلے میں آٹا بھر کر مقامی منڈی میں بھیج سکتی ہیں جبکہ اگر کسی مل میںکسی بھی برامڈ کے آٹے کاخالی تھیلا بھی نظر آ جائے تو اسکے مالک کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کر لی جاتی ہے جس سے خوف کی فضاء پیدا ہو گئی ہے۔اگر کسی دکان میں پرانے سٹاک کا کوئی تھیلا نظر آ جائے تو اسکے مالک کے خلاف بھی فوری مقدمہ درج کر لیا جاتا ہے۔

فلور ملز مالکان کو حکومت کے علاوہ کسی قسم کا کوئی کام کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور نہ وہ اپنا آٹا کسی دوسرے صوبہ کو بھیج سکتے ہیںجس سے بارہ سے سولہ گھنٹے چلنے والی فلور ملز اب تین سے چار گھنٹے تک چل رہی ہیں جبکہ اس فیصلے سے ہزاروں مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں، یوٹیلیٹی سٹورز سے بھی آٹا غائب ہو گیا ہے ،صوبائیت کو بھی ہوا مل رہی ہے جو ملکی سالمیت کے تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔

ان اقدامات سے ملک بھر میں آٹے کی قلت پیدا ہو رہی ہے ۔ صوبائی حکومت ایسے اقدامات نہ کرے جس سے غذائی سیکورٹی کا مسئلہ جنم لے اور فلور ملز کی جانب سے ملک گیر ہڑتال کی صورت میں رمضان پیکج بھی ناکام ہو جائے۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی اس معاملہ کا نوٹس لے اور ملکی مفاد میں فیصلہ کرے۔