کشمیر کونسل اور حکومت کے تعاون سے سٹیڈیم کی تعمیر شروع کی گئی تھی جس پر بیشتر کام ہو چکا ہے‘ بقیہ کام مکمل کرنے کے لیے محکمہ سپورٹس نے اے ڈی پی ‘سال 2017-18میں نیو سکیم فیز IIشامل کی تھی متذکرہ سکیم کا پی سی ون رقمی 282.729 ملین روپے مرتب کر کے متعلقہ فورم کو ارسال کیا جا چکا ہے

وزیر سپورٹس چوہدری محمد سعید کا اسمبلی اجلاس میں رکن اسمبلی ملک نواز کے سوال کا جواب

جمعہ مئی 17:44

مظفرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) جمعتہ المبارک کے دن بجٹ اجلاس کا آغاز سپیکر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر کی صدارت میں ہوا۔ تلاوت کلام پاک و نعت شریف کے بعد وقفہء سوالات کے دوران ملک محمد نواز ممبر اسمبلی کی جانب سے سکندر حیات سٹیڈیم کوٹلی کی تعمیر نو کے حوالے سے پوچھے گئی سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر سپورٹس چوہدری محمد سعید نے کہا کہ کشمیر کونسل اور حکومت کے تعاون سے سٹیڈیم کی تعمیر شروع کی گئی تھی جس پر بیشتر کام ہو چُکا ہے۔

بقیہ کام مکمل کرنے کے لیے محکمہ سپورٹس نے ADP سال 2017-18میں نیو سکیم فیز IIشامل کی تھی متذکرہ سکیم کا پی سی ون رقمی 282.729 ملین روپے مرتب کر کے متعلقہ فورم کو ارسال کیا جا چُکا ہے۔ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ 6ماہ میں گرائونڈ فنگشنل ہو تاکہ سپورٹس کی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہو سکے۔

(جاری ہے)

تعمیراتی کام عرصہ 2سال میں مکمل کر لیا جائے گا۔ اجلاس میں چیئر مین مجلس منتخبہ راجہ جاوید اقبال نے دی آزاد جموں و کشمیر فنانس ایکٹ 2018ء پر کمیٹی کی مفصل رپورٹ ایوان میں پیش کی ۔

ایوان نے کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں فنانس ایکٹ 2018ء کے قانون کو پاس کر لیا۔ اپوزیشن ممبر سردار صغیر چُغتائی نے بجٹ تقریر میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ووٹرز نے ہم پر بھاری ذمہ داریاں عائد کر رکھی ہیں۔ ہم نے عوامی مسائل بھی حل کرنے ہیں اور ایوان کے وقارکو بھی قانون کے مطابق بلند کرنا ہے۔ بجٹ میں بہتری کی گنجائش موجود ہے اپوزیشن کے حق کو بھی کُھلے دل سے تسلیم کیا جانا چاہیے۔

جب لیڈرز کے ساتھ ہوتے ہیں تو تعریفیں کرتے لوگ نہیں تھکتے۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ اداروں کے ساتھ کھڑا ہوں۔ آزاد کشمیر میں آمدن کے اہداف تب ہی حاصل ہو سکتے ہیں جب ہم ملکر ٹورازم کو فروغ دیں گے۔ اس سے ہمارے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔ انفراسٹرکچر کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاحوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دی جائیں۔ اُنہوں نے کہاکہ سارے نظام کو بہتر اور شفاف بنائیں۔

ہم بہتری میں تعاون ضرور کریں گے لیکن جہاں خامی ہو گی اُس کو منظر پر ضرور لائیں گے۔ کل کوئی آکر ہمارا احتساب کرے اس سے بہتر ہے کہ ہم خود احتسابی کے عمل کو فروغ دیں تا کہ عوامی مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ کسی کو بھی اُنگلی اٹھانے کا موقع نہ ملے۔ تحریک آزادیء کشمیر ہمارا بنیادی ماٹو ہے اُس میں بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔