بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی ریسرچ ونگ نے سابق قوم پرست حکمرانوں کے دورکو تباہ کن قرار دے دیا

جمعہ مئی 17:27

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی ریسرچ ونگ نے سابق قوم پرست حکمرانوں کے دور کو مکران میں انسانی ترقی کے حوالے سے سب سے ناکام اور تباہ کن دور قرار دیا ہے۔۔ اپنے تحقیقی رپورٹ میں بی این پی عوامی ریسرچ ونگ نے سابق قوم پرست حکمرانوں کی کارکردگی کو خاص طور پر ان کے گڑھ مکران ڈویزن کی تاریخ کا ناکام ترین دور قرار دیا ہے جہاں انسانی ترقی کے تمام انڈیکس منفی رہے۔

۔ تعلیم،، صحت اور روزگار کے شعبے میں سابق قوم پرست حکمران کوئی نمایاں کارکردگی دکھانے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے۔۔ زراعت گلہ بانی اور ماہی گیری تجارت کو شدید نقصان پہنچا۔اس کے علاوہ سی پیک کے منصوبوں سے کوئی حصہ وصول نہ کیا جاسکا۔ لیکن غیر متعلقہ لوگوں اور شخصیات کو کسی معقول جواز کے بغیر لاکھوں ایکڑ زمین مفت دی گئی۔

(جاری ہے)

بی این پی عوامی ریسرچ ونگ نے اپنی رپورٹ کی تفصیلات میں بتایا ہے کہ سابق قوم پرست وزیر اعلی' کے حلقہ انتخاب مکران میں پرائمری تعلیم کی عمر کے ہزاروں بچے اس کے دور میں اسکولوں سے باہررہے اور ان کو اسکولوں میں لانے اور تعلیم دینے کی کوئی جامع منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔

کئی۔اسکول عمارتوں سے محروم ہیں اور معصوم بچے کھلے آسمان تلے شدید سردی یا تپتی دھوپ میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں جبکہ زیادہ تر پرائمری اسکولوں میں تمام جماعتوں کے لئے فقط ایک ہی ٹیچر دستیاب ہے۔۔ جو ٹیچر اور طالب علم دونوں پر ظلم کے مترادف ہے۔ ثانوی، اعلی' ثانوی اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹی میں معیاری تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے مکران کے ہزاروں طالب علم کراچی،، لاہور،، اسلام آباد اور دیگر مہنگے شہروں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں جہاں ایک طرف ان کو شدت پسند گروہوں کے حملوں کا سامنا ہے تو دوسری طرف تعلیم کے حصول کے لئے کئی گنا زیادہ اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں جو مکران کے غریب والدین کے لئے اضافی بوجھ ہیں۔

صحت کے شعبے کا حال یہ ہے کہ سابق قوم پرست وزیر اعلی' خود اپنے آبائی شہر تربت میں کوئی نیا ہسپتال قائم نہ کرسکے جبکہ پہلے سے موجود ہسپتالوں میں سہولتوں کے فقدان اور خاص طور ہسپتال میں مختلف امراض کے ماہر ڈاکٹرز نہ ہونے اور داخل ہونے کی سہولت کے نہ ہونے کی وجہ سے مریض کو کراچی لے جایا جاتا ہے اور بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے اکثر مریض جانبر نہیں ہوتے۔

۔اس کے علاوہ سابق قوم پرست وزیر اعلی' اپنا وزیر صحت ہونے کے باوجود تحصیلوں میں دیہی صحت مرکز اور دور دراز کے دیہات کو گشتی علاج و معالجہ کی سہولت بھی فراہم نہ کرسکے۔علاوہ ازیں ان کے وزیر صحت کی بدعنوانی کی وجہ سے اکثر اوقت جو دوائیاں ہسپتالوں اور دوا خانوں کو فراہم کی جاتی تھیں وہ زیادہ تر جعلی یا زائدامیعاد ہوتی تھیں جس کی وجہ کئی قیمتی جانیں ضایع ہوئیں۔

روزگار کی صورتحال بہت بہتر ہوسکتی تھی اگر چالیس ہزار نوکریاں ضایع نہ کی جاتیں۔ ہزاروں ملازمتیں نہ ملنے کی وجہ لاکھوں لوگوں کی معیار زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ جبکہ ستر ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز ضایع ہونے کی وجہ سے نجی روزگار کے شعبے کو شدید نقصان پہنچا۔۔ یہ رقم زراعت کی ترقی، پانی زخیرہ کرنے، گلہ بانی اور ماہء گیری کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبوں پر لگائے جاسکتے تھے۔

رقم ضایع ہونے کی وجہ سے مذکورہ بالا شعبوں کی پیدوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ سابق قوم پرست وزیر اعلی' کے دور میں مکران میں تجارت کو شدید نقصان پہنچا خاص طور پر سرحدی تجارت ختم ہی ہو کر رہ گئی ہے جو مکران کے لوگوں کا معاشء قتل کے مترادف ہے۔ انڈیا اور افغانستان کے ساتھ کشیدگی کے باوجود پاک افغان اور پاک انڈیا سرحدی تجارت کا حجم کئی ارب روپے روزانہ ہے اگر سابق قوم پرست وزیر اعلی' چاہتے تو پاک ایران سرحد کی تجارت کو بھی آسان اور قانونی بنانے کا اہتمام کرسکتے تھے۔

جس سے مکران کی معیشت میں زبردست اضافہ ہوتا تربت گوادر اور پنجگور سمیت کئی شہروں میں خوشحالی آتی لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہوسکا۔ سابق قوم پرست حکومت کی روشن خیالی کی حالت یہ ہے کہ وہ آج تک صنعتی شعبے کا آغاز ہی نہ کرسکی ہے جبکہ مکران میں زراعت، گلہ بانی اور ماہی گیری سے وابستہ صنعتوں کے وسیع امکانات موجود ہیں۔۔بجلی کی طویل ترین دورانیوں کے لوڈشیڈنگ کی وجہ سے مکران کی سماجی زندگی شدید متاثر ہے لوڈ شیڈنگ کم کرنے اور متبادل ذرایع سے بجلی حاصل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔

۔ خاص طور پر سولر انرجی اور ونڈ ملز کے ذریعے بجلی حاصل کرکے نہ صرف شہروں قصبوں بلکہ دیہات تک بجلی کم۔قیمت پر آسانی سے فراہم کی جاسکتی تھی جس سے نہ صرف لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوتا بلکہ گلہ بانی اور زراعت کو بھی فائدہ پہنچتا۔امن وامان کے لئے بھاری اخراجات برداشت کئے جا رہے ہیں جبکہ اس کام کے لئے مکمل طور پر مسلح افواج پر انحصار کیا جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود امن و امان کی بحالی اب تک دیوانے کا خواب ہی ثابت ہوئی ہے۔

۔ مسلح افراد کے ساتھ تصادم کی وجہ سے فورسز کے جوانوں اور عوام الناس کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ جو سابق قوم پرست وزیر اعلی' کی سب سے بڑی ناکامی ثابت ہوئی ہے۔۔اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے سول اداروں مثلا" پولیس اور لیویز کی کارکردگی کو موثر بنانے کے لئے نہ کوئی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی رقم مختص کی گئی ہے۔

سابق قوم۔پرست وزیر اعلی' سی پیک معاہدوں کے دستخط کرنے والوں میں شامل رہے ہیں لیکن پچاس ارب ڈالر کے ترقیاتی رقم میں بلوچستان کا حصہ صفر ہے حتی' کہ سی پیک کا کوہ نور گوادر آج پانی کے بوند بوند کو ترس رہا ہے۔ جبکہ اس کے بجائے لاکھوں ایکڑ زمین غیر متعلقہ اشخاص اور اداروں کو بغیر کسی معقول جواز کے الاٹ کی گئی ہیں۔ خاص طور پر تربت پنجگور گوادر میں صورتحال بہت ہی خراب ہے جبکہ سابق قومپرست وزیر اعلی' نے گڈانی کو وفاق کے حوالے کرکے گریٹر کراچی کا حصہ بنانے میں ایک مجرمانہ کردار ادا کیا ہے۔

گڈانی کو وفاق کے حوالے کرنے سے بلوچ تشخص کو خطرہ پیدا ہوگیا ہے جو انتہائی تشویشناک بات ہے۔۔۔۔سابق قوم۔پرست وزیراعلی'اپنے ان تمام ناکامیوں اور قوم دشمن اور عوام دشمن اقدامات پر نادم ہونے کے بجائے تربت کے چند نمائشی منصوبوں کا کریڈٹ لینے کی کوشش کررہے ہیں۔ نمائشی منصوبوں پر لاگت سے کئی گنا زیادہ خرچ کرکیاپنے رشتیداروں کو تو ضرور فائدہ دیا گیا ہے لیکن اس طرح کے منصوبوں سے عوام کی سماجی اور معاشی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔