سردارایازصادق سےچوہدری نثارکی ملاقات،پارٹی امورپرتبادلہ خیال

کوئی شک نہیں رہا نگران وزیراعظم کی تقرری کامعاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جائیگا،نگراں وزیراعظم کیلئےپہلی ترجیح تصدق حسین جیلانی کی نظرآرہی ہے۔سابق وفاقی وزیرداخلہ کی میڈیا سے غیررسمی گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ مئی 17:06

سردارایازصادق سےچوہدری نثارکی ملاقات،پارٹی امورپرتبادلہ خیال
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔25 مئی 2018ء) : پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء چوہدری نثار علی خان نے اسپیکر قومی اسمبلی سردارایاز صادق سے ملاقات کی، جس میں سیاسی صورتحال اور آئندہ انتخابات سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے آج اسپیکرچیمبرمیں سردارایاز صادق سے ملاقات کی۔

اس موقع پرسابق وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئی شک نہیں رہا نگراں وزیراعظم کی تقرری کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا۔ نگراں وزیراعظم کے لیے پہلی ترجیح تصدق حسین جیلانی کی نظر آرہی ہے۔چودھری نثار نے ایک سوال ’’عمران خان آیندہ وزیراعظم بننے میں کامیاب ہوسکتے ہیں‘‘  پر کہا کہ یہی سوال میرا آپ سے ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں کہ پی ٹی آئی میں شامل ہونیوالے انتخابات میں کامیاب ہوں۔ ہرسیاسی جماعت کےالیکٹ ایبل اپنے اپنے ہوتے ہی۔ چوہدری نثار نے واضح کیا کہ آیندہ عام انتخابات میں چار حلقوں سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قومی اسمبلی کے دو اور صوبائی اسمبلی کی دو حلقوں سے الیکشن لڑوں گا۔ انہوں نے ایک سوال ’’ کیا آپ کے موقف کو پذیرائی مل رہی ہے؟‘‘ کے جواب میں کہا کہ 95 فیصد ایم این اے میرے ہم خیال تھے لیکن کوئی میرے مئوقف کوعملی جامہ پہنانے والا بھی تو ہونا چاہیے۔

واضح رہے قائد ن لیگ نوازشریف اور سابق وزیرداخلہ کے درمیان بعض معاملات پراختلافات سپریم کورٹ میں پاناما کیس کے فیصلے کے بعد شروع ہوئے۔ تاہم حالات کے ساتھ ان اختلافات میں شدت آتی گئی۔ ان اختلافات کے باعث ن لیگ کے سیاسی مخالفین نے خوب فائدہ بھی اٹھانا چاہا۔ لیکن سیاسی مخالفین چوہدری نثار کو قائل کرنے سے قاصر رہے۔۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے پارٹی صدر بننے کے بعد چوہدری نثار پھر ن لیگ کے اجلاسوں میں بھی شریک ہورہے ہیں۔ چوہدری نثار کل فاٹا بل پاس کرنے کیلئے قومی اسمبلی اجلاس میں بھی شریک ہوئے۔اس موقع پرچوہدری نثار وزیراعظم کی نشست کے ساتھ والی نشست پربیٹھے رہے اور ن لیگی ارکان سے گپ شپ بھی کرتے رہے۔