چھالیہ کے کنسائمنٹس کی ری شپمنٹ کا مسئلہ حل،سیکرٹری تجارت اجازت دینے پررضامند

درآمدکنندگان کی درخواست پرنمونے ٹیسٹ کے لیے ایس جی ایس لیبارٹری بھیجے جائیں گے، یونس ڈھاگا سیکریٹری تجارت نے کے سی سی آئی کے سابق صدر ہارون اگر،وسیم الرحمان ودیگر کے ساتھ اجلاس میں یقین دہانی کروادی

جمعہ مئی 18:13

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) وزارت تجارت نے چھالیہ کی ری شپمنٹ کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کردی ہے ساتھ ہی املی کے امپورٹ پرمٹ جاری کرنے کی یقین بھی دہانی کروائی ہے۔اسلام آباد میں سیکریٹری تجارت یونس ڈھاگا اور درآمدکنندگان کے اجلاس میںڈی جی پلانٹ پروٹیکشن ڈاکٹر وسیم، ڈی جی ٹریڈ پالیسی محمد اشرف ،عاطف عزیز، ڈائریکٹر ٹیرف اشفاق احمد جبکہ درآمدکنندگان کی جانب سے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری( کے سی سی آئی) کے سابق صدر محمد ہارون اگر،پاکستان کریانہ مرچنٹس ایسوسی ایشن( پی کے ایم ای) کے چیئرمین وسیم الرحمان ودیگر شریک تھے۔

پاکستان کریانہ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین وسیم الرحمان نے سیکریٹری تجارت کو بتایا کہ چھالیہ کی ری شپمنٹ کے مسئلے پر ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے کراچی میں چیف کلکٹر سے ملاقات کی اور چھالیہ کے کنسائمنٹس کی ری شپمنٹ کی اجازت دینے کی درخواست کی۔

(جاری ہے)

چیف کلکٹر نے کہاکہ وہ وزارت تجارت سے اس حوالے سے اجازت حاصل کریں گے۔سیکریٹری تجارت یونس ڈھاگا نے کہا کہ جب قانون موجود ہے تو پھر اس کی اجازت کیوں نہیں دی گئی۔

وہ اس ضمن میں بات کریں گے اور ان کو ہدایت کریں گے کہ مذکورہ اشیا کو ان کے ممالک میں واپس بھیجنے کی اجازت دی جائے تاکہ لاکھوں پاکستانیوں کے زرمبادلہ کو بچایا جاسکے۔سیکریٹری تجارت یونس ڈھاگا کا کہنا تھا کہ کسی بھی قابل اعتبار لیبارٹری کی کلیئرنس کے بغیر درآمدکنندگان کوئی بھی کنسائمنٹ ریلیز کروانے کے مجاز نہیں ہوں گے جس پر وسیم الرحمان نے بتایا کہ پی سی ایس آئی آر کے بجائے ایس جی ایس لیبارٹری کی رپورٹ کو لازمی قرار دیا جائے کیونکہ محکمہ پلانٹ پروٹیکشن پی سی ایس آئی آر میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرتا ہے ۔

سیکریٹری تجارت کو چھالیہ کے کنسائمنٹس کی مختلف رپورٹس بھی دکھائی گئیں جو پی سی ایس آئی آ اور ایس جی ایس کو ٹیسٹ کے لیے ایک ہی دن نمونے ارسال کیے گئے جس میں یہ فرق واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ پی سی ایس آئی آر کی رپورٹ میںایفلاٹوکسن لیول 106ظاہرکیا گیا ا اس کے برعکس ایس جی ایس کی رپورٹ میں یہ لیول صرف 6 تھا۔سیکریٹری تجارت نے رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے ڈی جی پلانٹ پروٹیکشن ڈاکٹر وسیم کو ہدایت کی کہ وہ نمونے ٹیسٹ کے لیے ایس جی ایس کو بھیجیں۔

ڈاکٹر وسیم نے مزاحمت کی کہ ایس جی ایس کو نمونے کیوں ارسال کیے جائیں تو سیکریٹری تجارت نے کہا کہ ایس جی ایس کیوں نہیں کیا وہ درآمدکنندگان سے پیسے لیتے ہیں یا پھر وہ ٹیسٹ مناسب طریقے سے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ڈاکٹر وسیم نے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا جس پر وزارت تجارت نے ایس جی ایس کو تسلیم کرتے ہوئے کہاکہ چھالیہ کے نمونے ٹیسٹ کے لیے صرف ایس جی ایس کو ہی بھیجے جائیں گے۔

وسیم الرحمان نے سیکریٹری تجارت کو بتایا کہ امپورٹ پرمٹ اور ریلیز آرڈر کے حصول کے لیے حال ہی میں آن لائن سسٹم متعارف کروایا گیا ہے ۔محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کی سست روی کی وجہ سے ریلیز آرڈر کے اجراء میں 3سے 4دن لگ جاتے ہیں جس کی وجہ سے درآمدی مال کی کلیئرنس تاخیر کا شکار ہوجاتی ہے اور اس کے نتیجے میں درآمد کنندگان کو غیر ضروری ڈی ٹینشن اور ڈیمرج کی مد میں اضافی ادائیگی کرنا پڑتی ہے جس سے درآمد کنندگان کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لہٰذا ریلیز آرڈر کے اجراء جلد ازجلد ممکن بنانے کے اقدامات کیے جائیں۔

سیکریٹری تجارت کو کین میں پیک اشیاء کے بارے میں بھی بتایا گیا کہ غیر ضروری طور پر دنیا کے مشہور برانڈز کو دوبارہ ٹیسٹ کیا جاتا ہے حالانکہ یہ برانڈ دنیا بھر میں برآمد کیے جاتے ہیں اور صحت عامہ سے متعلق مختلف سرٹفیکیٹس بھی رکھتے ہیں جس پر سیکریٹری تجارت نے کہاکہ وہ اس مسئلے کا جائزہ لیں گے کہ وہ اس پر کیا کرسکتے ہیں۔