سی پیک کی تکمیل سے گوادر چمن کے ذریعے افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک سے منسلک ہوگا، پورا خطہ ترقی کرے گا، میاں زاہد حسین

جمعہ مئی 18:13

سی پیک کی تکمیل سے گوادر چمن کے ذریعے افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک ..
کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ چمن پاکستان سمیت افغانستان اور ایران کے تاجروں کے لئے بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے، قلیل سرمایہ کاری سے بہترین محل وقوع کا حامل شہر اور تجارتی مرکز چمن بلوچستان کی معاشی ترقی میں خاص کردار ادا کر سکتا ہے، چمن پاکستان سے افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک کے درمیان اہم تجارتی مرکز بننے کیلئے ہر اعتبار سے نہایت موزوں شہر ہے، اگر حکومت اور ادارے توجہ دیں تو پاکستان،، افغانستان اور ایران کیلئے تجارتی مرکز کی حیثیت رکھنے والا یہ شہر برآمدات، زرمبادلہ اور روزگار بڑھانے کا بہترین سبب بن سکتا ہے۔

میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ کوئٹہ سے تقریباً 200 اور کراچی سے 900 کلومیٹر کے فاصلہ پر یہ شہر کاروباری سرگرمیوں کے لئے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔

(جاری ہے)

روزگار اور کاروبار کی جدید سہولیات نہ ہونے کے باوجود ہر شخص کاروباری سرگرمیوں میں مصروف نظر آتا ہے، اگر حکومت توجہ دے، اور کاروباری سرگرمیوں کی ترقی و ترویج کے لئے اقدامات کرے تو چمن پاکستان سے وسط ایشیاء ممالک کے مابین بین الاقوامی منڈی کا موثر کردار ادا کر سکتا ہے، اگر موجودہ ریلوے لائن کو وسط ایشیاء تک وسیع کردیا جائے تو نہ صرف چمن شہر معاشی ، تجارتی اور معاشرتی طور پر ترقی کرے گا بلکہ پورے صوبے اور ملک کی معاشی ترقی میں خاص کردار ادا کرے گا اور پاکستان باآسانی یورپی منڈیوںتک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔

پالیسی ساز اور حکومتی ادارے اگر اس شہر میں انفراسٹرکچر کی بہتری، ٹرانسپورٹ کے نظام میں ترقی اور مقامی تاجروں کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے اقدامات کریں تو یہ شہر قومی معیشت اور زرمبادلہ میں اضافے کیلئے بہترین کردار ادا کرسکتا ہے۔ چمن شہر افغانستان سے کوئٹہ اور کراچی کے راستے پورے ملک کو خشک میوہ جات کے ساتھ ساتھ انگور ، آڑو، خوبانی، سیب اور دیگر پھلوںکی ترسیل کے لئے خاص شہرت رکھتا ہے ۔

چمن کے حقیقی پوٹینشل کو حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ یہاں پر تعلیمی مواقع فراہم کئے جائیں، شہر میںمفت تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں اور شہر میں یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔میاں زاہدحسین نے کہا کہ چمن کی کاروباری کمیونٹی کو درپیش مسائل کو چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی سفارشارت کی روشنی میں حل کئے جائیں۔ ملک میں بجلی اور گیس کی فراہمی کی صورتحال کافی بہتر ہوئی ہے، اس بہتری سے چمن کو اسکا جائز حصہ فراہم کیا جائے۔

سی پیک کے تحتM-8کے ذریعے چمن اور افغانستان کو گوادر سے ملا یا جائیگا جس سے شہر میں نہ صرف سرمایہ کاری بڑھے گی بلکہ ملکی و غیر ملکی منڈیوں تک اموال تجارت کی براستہ چمن ترسیل آسان ہوگی، جس سے شہر یقینی طور پر فیض یاب ہوگا۔N-25کی تعمیر سے قلات ، کوئٹہ اور چمن منسلک ہوگا، جبکہ سی پیک کے دیگر پراجیکٹس کی تکمیل سے دنیا منفرد گہرے پانیوں والی بندرگاہ گوادر قراقرم ہائی وے کے ذریعے سے چین اور چمن کے ذریعے سے افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک سے منسلک ہوگی جس سے پورا خطہ فائدہ اٹھائے گا۔