پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے ارکان کا فاٹا کے حوالے سے بل پیش ہونے کی تحریک کی مخالفت، اجلاس سے واک آئوٹ

جمعہ مئی 18:25

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے ارکان نے فاٹا کے حوالے سے بل پیش ہونے کی تحریک کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان بالا کے اجلاس سے واک آئوٹ کیا۔ جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران وزیر قانون محمود بشیر ورک نے بل ایوان میں پیش کیا تو پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان خان کاکڑ کھڑے ہو گئے اور کہا کہ وہ اور دیگر ارکان اس پر بات کرنا چاہتے ہیں۔

چیئرمین نے انہیں بل کے حوالے سے اظہار خیال کی اجازت دے دی جس کے بعد انہوں نے بل کے حوالے سے ایوان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا کی ایک تاریخ ہے، اس پارلیمان میں ایسے بھی لوگ ہیں جن کے آبائو اجداد انگریزوں کی چاکری کرتے تھے۔ فاٹا کا علاقہ نہ ہوتا تو آج بھی برصغیر پر انگریز حکمران ہوتا۔

(جاری ہے)

واحد ہماری جماعت کے منشور میں 40 سال سے ہے کہ ایف سی آر کا خاتمہ کیا جائے۔

فاٹا کے عوام گرینڈ جرگوں کے ذریعے فیصلے کرتے تھے۔ وہاں جرائم بے نام تھے۔ ریپ، اغواء برائے تاوان جیسے جرائم کا وجود نہ تھا۔ میران شاہ، میر علی میں ہزاروں دکانوں کو ڈھیر کر دیا گیا۔ فاٹا کے عوام دہشت گرد نہیں تھے، ان پر دہشت گردی مسلط کی گئی۔ باہر سے دہشت گرد لائے گئے تھے۔ آئین کے آرٹیکل 247 کی خلاف ورزی ہو رہی ہے جس کے تحت صرف صدر فاٹا کے حوالے سے قانون تبدیل کر سکتے ہیں۔

فاٹا کے عوام انضمام نہیں چاہتے۔ اس ایوان میں ریکارڈ پر یہ بات ہے کہ وزیر سیفران نے کہا کہ فاٹا کے عوام انضمام نہیں چاہتے۔ کل جو ہوگا اس کے ذمہ دار یہ جماعتیں ہوں گی۔ پارلیمان کو ڈائریکشن دی جا رہی ہے کہ جلد سے جلد یہ کرو حالانکہ پارلیمان کو ڈائریکشن دینی چاہئیں۔ اس کے ساتھ ہی سینیٹر عثمان کاکڑ اور ان کی پارٹی کے ارکان ایوان سے واک آئوٹ کر گئے۔۔