فرض شناس افسر جمیل ہاشمی کو 35 سال بعد محکمہ بدر کردیا گیا

مافیا کے دبائو پر ان کا تبادلہ موٹروے پولیس کر دیا گیا فیصلے پر دکھ ہوا،کوئی شخص ایک روپے کی کرپشن بھی ثابت نہیں کر سکتا،اس طرح کا سلوک سمجھ سے بالاتر ہے، جمیل ہاشمی

جمعہ مئی 18:54

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) سپریم کورٹ پر حملہ آور ہونے والی لیگی خواتین کارکنوں کو احتساب عدالت کے باہر گرفتاری کا حکم دینے والے فرض شناس افسر کو 35سال بعد محکمہ بدر کر کے ان کی خدمات موٹروے پولیس کے سپرد کر دی گئیں،12اپریل 2018 کو سابق وزیرا عظم نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ آنے کے بعد بڑی تعداد میں لیگی کارکنوں نے نعرے بازی کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی بلڈنگ کے اندر گھسنے کی کوشش کی جس کو پولیس حکام کی جانب سے روکنے میں ٹال مٹول سے کام لیا گیا ایس پی سٹی اور ایس پی سپریم کورٹ جائے وقوعہ سے ناصرف غائب ہوگئے بلکہ سیل فون تک بند کردیا گیا جس کے بعد ایس ایس پی سکیورٹی جمیل ہاشمی نے ایوب کنٹرول پر مجسٹریٹ کو بھجوانے کا حکم دیا جبکہ ایس ایچ او سیکریٹریٹ بھی سپریم کورٹ کے گیٹ پر موجود تھے ایس پی سپریم کورٹ کی جانب سے روایتی انداز میں خواتین اہلکاروں کو بلڈنگ سے دور رکھا گیا بعدازاں جب لیگی خواتین کارکنوں نے سپریم کورٹ کی عمارت میں داخل ہوکر بداخلاقی پر مبنی زبان استعمال کرنا شروع کی تو ایس پی سپریم کورٹ سے افسران کا رابطہ معطل ہوگیا ایس ایس پی سکیورٹی جمیل ہاشمی نے خواتین کی نفری کو فوری طور پر موقعہ پر بھیجوا نے کا حکم دیا ایس ایس پی سکیورٹی کے پاس بروقت تین محاذوں پر کام کررہے تھے تھے سپریم کورٹ اور اس گردنواح میں سکیورٹی کی ذمہ داری ایس پی سٹی احمد اقبال حسن کے پاس ایس پی سپریم کورٹ کا بھی چارچ تھا لیکن پولیس افسران کی جانب سے نااہلی کا مظاہرہ کیا گیا 1983 میں بطور پروبیشنل تھانیدار جوائن کرنے والے افسر جمیل ہاشمی پر تمام حقائق واقعات کا ملبہ ڈالتے ہوئے انہیں بچی کی شادی سے ایک روز قبل ضلع بدرکرنے کی نوید سنادی گئی انسپکٹر جنرل پولیس سلطان اعظم تیموری کو دئیے جانے والے بیان میں ایس ایس پی سکیورٹی کے تمام حقائق سے آگاہ کیا لیکن اس کے باوجود مافیا کے دباؤ کی وجہ سے انہیں محکمہ بدر کردیا گیا اگر ایس ایس پی سکیورٹی کی 35سالہ خدمات پر روزشنی ڈالی جائے تو 1997 میں پنجاب کے ڈکیٹوں کے گروہ جن کی سر کی قیمت 10لاکھ روپے رکھی گئی تھی کو نہ صرف پولیس مقابلے میں پکڑا بلکہ پولیس مقابلے میں شہید ہونے والے جوان کی پانچ بیٹوں کی شادی کے اخراجات بھی اس جمع پونجی سے ادا کئے گئے 1995 میں امریکہ ایمبیسی پر لاکٹ کی تفتیشی میں بھی اہم رول ادا کیا اور پاکستان خاص طور پر اسلام آباد میں غیر ملکی ایم جی اوز کو بھی قانون کی گرفت میں لایا گیا 12اپریل کو سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والے لیگی کارکنوں کی گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے بطور ایس ایس پی سکیورٹی جمیل ہاشمی کے نے ان کی تفصیلات طلب کی تو انہیں بتایا گیا کہ سپریم کورٹ پر حملہ آور ہونے والی خواتین میں اکثریت ایسی خواتین کی تھی جو اکثر احتساب کورٹ کے باہر بھی دیکھائی دیتی ہے جس پر ایس ایس پی سکیورٹی نے مذہ کورہ بار خواتین کو شناخت کرکے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا لیکن انسپکٹر جنرل پولیس کی اوپر کی جانے والی مخبری کی وجہ سے کیڈٹ تبدیل کرکے ایس پی جوائن کرنے والے فرض شناس افسر کو محکمہ بدر کرکے اس کی کردار کشی شروع کردی گئی اس حوالے سے ایس پی جمیل ہاشمی نے آن لائن کے استفسار پر بتایا کہ وہ انسپکٹر جنرل پولیس کو دی گئی سٹیٹمنٹ کو متنازعہ نہیں بنانا چاہتے فیصلے سے شدید صدمہ ہوا مافیا کے خلاف 35سال لڑا ئی محکمہ کی خدمت کی کوئی شخص ایک روپے کی کرپشن ثابت نہیں کرسکتا تمام تر حقائق کے باوجود اس طرح کا سلوک کرنا سمجھ سے بالاتر ہے واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر بعدازاں انکوائری کئے بغیر پولیس افسران کو عہدوں سے ہٹادیا گیا لیکن ایس پی سٹی کی دوبارا تعیناتی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے جس سے دیگر افسران کی کردار کشی شروع کردی گئی ہے جو کہ وفاقی دارلحکومت کا جرائم کنٹرول کرنے کے حوالے سے حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے