ڈی جی پلانٹ پروٹیکشن کی آئندہ ہفتے برمی املی کے درآمدی پرمٹ جاری کرنے پر آمادگی

آن لائن سسٹم کے ذریعے درآمدی پرمٹ اور ریلیز آرڈر حاصل کرنے کیلئے طریقہ کار واضع کرلیا گیا کسی معتبر لیباٹری کی تصدیق ہونے سے پہلے نئے کنسائنمنٹ کی اجازت نہیں دے سکتے،سیکریٹری تجارت یونس ڈھاگہ

جمعہ مئی 18:54

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) وفاقی سیکریٹری تجارت یونس ڈھاگہ کی صدارت میں ڈائریکٹرجنرل پلانٹ پروٹیکشن ڈاکٹر وسیم، ڈائریکٹرجنرل ٹریڈ پالیسی محمد اشرف، عاطف عزیزاور ڈائریکٹر ٹیرف اشفاق احمد کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں سیکریٹری تجارت کی 8ماہ کی مسلسل کوششوں اور کاوشوں کے بعد ڈائریکٹرجنرل پلانٹ پروٹیکشن نے آئندہ ہفتے برمی املی کے درآمدی پرمٹ جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ آن لائن سسٹم کے ذریعے درآمدی پرمٹ اور ریلیز آرڈر حاصل کرنے کیلئے طریقہ کار واضع کیا ہے،جبکہ محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کی جانب سے ریلیز آرڈر اپ لوڈ کرنے میں 3سے 4دن کا وقت لگ جاتا تھا جو عملدرآمد میں تاخیر کا سبب بنتا ہے جس کے باعث درآمد کنندگان کو غیر ضروری تحویل اور ڈیمریج چارجز کی ادائیگی کرنی پڑتی تھیں۔

(جاری ہے)

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس طریقہ کار کو تیز کیاجائے گا۔تاہم ڈبے میں بند خوردہ اشیاء جیسا کہ انناس وغیر ہ میں سیکریٹری تجارت کو بتایا گیا کہ معروف برانڈ کی اشیا کو بلا ضرورت دوبارہ سے ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ، ان اشیا پر درآمدی ممالک کی جانب سے مختلف بشمول صحت کے سرٹیفائڈ ہوتے ہیں، اس پر سیکریٹری نے وضاحت طلب کی کہ اس میں کیا ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب چھالیہ کی درآمدات پر سیکریٹری تجارت کو بریفنگ دی گئی کہ چیف کلکٹر کراچی سے چھالیہ کی درآمدگی کی اجازت مانگی گئی تو چیف کلکٹر نے وزارت خزانہ کی جانب سے اجازت نامہ طلب کیا۔ اس کے رد عمل میں سیکریٹری تجارت کا کہنا تھا کہ وہ قانون کے مطابق اجازت نہیں دے سکتے البتہ اس سلسلے میں وہ ان تمام کنٹینر کو درآمدی ممالک میں واپس بھجوانے کے لئے بات کرسکتے ہیں تاکہ پاکستانیوں کا اربوں روپے کا رزمبادلہ واپس مل سکے۔

اجلاس میں سیکریٹری تجارت یونس ڈھاگہ نے کہا کہ کسی معتبر لیباٹری کی جانب سے تصدیق ہونے سے پہلے نئے کنسائنمنٹ کی اجازت نہیں دے سکتے، جس پر سیکریٹری کو بتایا گیا کہ پی سی ایس آئی آرکی جگہ ایس جی ایس لیبارٹری کی رپورٹ لازمی ہے۔ وزارت پلانٹ کاپی سی ایس آئی آرپر اثرو رثوق ہے۔ اس موقع پر سیکریٹری کو پی سی ایس آئی آراور ایس جی ایس کی رپورٹس بھی دکھائی گئیں جس میں پی سی ایس آئی آرکی جانب سے 106مثالیں تھیں جبکہ ایس جی ایس کی جانب سے 6ظاہر کی گئیں تھی۔

تاہم سیکریٹری تجارت یونس ڈھاگہ نے برہمی کا اظہار کیا اور ممبران سے وضاحت طلب کی۔ واضع رہے کہ وزارت خزانہ کی جانب سے واحدایس جی ایس لیباریٹری کی رپورٹ چھالیہ کے نمونوں کے لئے قابل قبول ہے۔ بعد ازاں پاکستان کریانہ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین وسیم الرحمان،کے سی سی آئی کے سابق صدر ہارون اگرکا وفاقی سیکریٹری تجارت یونس ڈھاگہ سے ملاقات کی جس میں سیکریٹری تجارت سے بیشتر معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔۔

متعلقہ عنوان :