صحرا کی گہرائی میں ایرانی میزائل پروگرام جاری، رپورٹ

پاسداران انقلاب ایران کے علاقے شاہرود میں پروگرام کی حفاظت پر مامور، نیویارک ٹائمز

جمعہ مئی 20:24

نیویارک(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) امریکی معروف اخبار نیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ ایران صحرا کی گہرائی میں میزائل پروگرام کو ترقی دے رہا ہے،پاسداران انقلاب ایران کے علاقے شاہرود میں پروگرام کی حفاظت پر مامور ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کیلیفورنیا ریاست میں ہتھیاروں کے محققین کی ایک ٹیم نے بیلسٹک میزائل کی ترقی سے متعلق ایرانی پروگرام کے حوالے سے نئی تفصیلات کا پتہ چلایا ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ مذکورہ محققین کو ملنے والے شواہد کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب شمالی ایران کے علاقے شاہرود کے ایک صحرا میں بیلسٹک میزائلوں کی ترقی اور ان کے تجربات کے اس خفیہ پروگرام کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

اخبار کے مطابق محققین نے کئی ہفتوں تک مصنوعی سیاروں کے ذریعے اس تنصیب کی تصاویر لیں۔ یہاں انہوں نے ملاحظہ کیا کہ رات کے اندھیروں میں جدید میزائلوں کے انجن اور ان کے ایندھن پر کام کیے جانے کے حوالے سے توجہ مرکوز ہے۔

اس بات کا امکان ہے کہ یہ تنصیب صرف درمیانے فاصلے کے میزائلوں کو ترقی دینے پر کام کرے جو واقعتا ایران کے پاس موجود ہیں۔البتہ رپورٹ کے نتائج کا جائزہ لینے والے پانچ دیگر ماہرین کے نزدیک اس بات کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں کہ ایران طویل فاصلے کے میزائل کو ترقی دے رہا ہے۔انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے محقق مائیکل ایلمن جنہوں نے تنصیب کی تصاویر پیش کیں، ان کا کہنا ہے کہ تحقیق بعض ایسی پیش رفت کا پتہ دے رہی ہے جو باعث تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے ابتدائی اقدامات ظاہر ہو رہے ہیں جن کے مطابق اگر تہران خواہش مند ہوا تو وہ پانچ سے دس برس بعد(ICBM) کے لیے بحری جہازوں کی تیاری کے سلسلے میں رابطہ کار نظام وجود میں لا سکتا ہے۔کیلیفورنیا میں میڈلبری انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اسٹڈیز کے محققین کے مطابق جنرل حسن تہرانی شمالی ایران کے علاقے "شاہرود" میں تحقیق کر رہا تھا جہاں 2013 میں میزائل کا تجربہ کیا گیا۔

متعلقہ عنوان :