ملائشیا میں کمسن بچوں کو ملنے کیلئے جانیوالی خاتون کو شوہر نے بھائی سمیت گرفتار کرادیا

اقراء کی والدہ کی حکومت پاکستان ، آرمی چیف اور چیف جسٹس سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل

جمعہ مئی 20:31

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) لاہور سے ملائشیا میں کمسن بچوں کو ملنے کے لیے جانے والی خاتون کو اسکے شوہر نے بھائی سمیت ملائشیا میں گرفتار کرادیا،اقراء کی والدہ نے حکومت پاکستان ، آرمی چیف اور چیف جسٹس سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کردی۔تفصیلات کے مطابق لاہور کی رہائشی اقراء مظفر کے دو کمسن بچوں داد اور دریاب کو دو ستمبر 2017ء کو اسکا شوہر طاہر حسین ملائشیا لے گیا۔

طاہر حسین نے اپنی بیوی اقراء کو بچوں سمیت ایک گیسٹ ہائوس میں رکھا ،طاہر کی پہلے سے دو بیویاں ہیں،ایک بیوی ملائشین روحہ اونگ جبکہ دوسری اسکی کزن ساجدہ ہے،دونوں بیویاں بے اولاد تھیں جبکہ اقراء سے دو بیٹے پیدا ہوئے۔ بیٹے پیدا ہونے کے بعد ساہیوال کے رہائشی طاہر حسین اور اسکی ملائشین بیوی کی نیت میں فتور آگیا۔

(جاری ہے)

طاہر حسین نے پلاننگ کے تحت اقراء کو گیسٹ ہائوس میں نیند کی گولیاں کھلائیں اور بچوں کو اپنی بہن ساجدہ پروین کے ساتھ ملکر اغوا کرکے لے گیا۔

دکھوں کی ماری بے چاری اقرا کمسن بچوں کے حصول کے لیے پاکستان میں رہ کر قانونی اور عدالتی جنگ لڑتی رہیِ اور ناکامی کے بعد اس نے اپنے چھوٹے بھائی فیضان کے ساتھ ملائیشیا کا رخ کیا ۔ اقرا اور اسکا بھائی 21مئی 2018ء کوپاکستان سے ملائشیا گئے۔ اقرا اور اسکے بھائی کی ملائشیا میں موجودگی کا علم ہونے پر اسکے شوہر طاہر حسین نے دونوں کو ملائشیا کے تھانے آئی پی ڈی سرڈن میں گرفتار کرادیا۔