پاکستان کو دورہ کریں گے یا نہیں، نیوزی لینڈ کے کرکٹرز نے فیصلہ سنا دیا

دورہ پاکستان ،نیوزی لینڈ کے کھلاڑیو ں نے تحفظات کا اظہار کر دیا، فیصلہ 15دن میں ہوگا تمام کھلاڑی دورہ پاکستان سے انکاری نہیں ہیں، کچھ سیکیورٹی کلیئرنس پر ٹور کیلئے تیار جبکہ بعض دبئی میں ہی کھیلنے کے خواہاں ہیں، حتمی فیصلہ 15روز کے اندر سیکیورٹی رپورٹ ملنے کے بعد کیا جائے گا،کیویزکرکٹرز ایسوسی ایشن کے چیف ہیتھ ملز

جمعہ مئی 20:59

پاکستان کو دورہ کریں گے یا نہیں، نیوزی لینڈ کے کرکٹرز نے فیصلہ سنا دیا
ویلنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) کرکٹرز ایسوسی ایشن کے چیف ہیتھ ملز نے کہا ہے کہ سب ہی اس دورے سے انکاری نہیں، کچھ سیکیورٹی کلیئرنس پر ٹور کیلئے تیار جبکہ بعض دبئی میں ہی کھیلنے کے خواہاں ہیں، حتمی فیصلہ 15روز کے اندر سیکیورٹی رپورٹ ملنے کے بعد کیا جائے گا۔نیوزی لینڈ کی ٹیم نے اکتوبر نومبر میں یو اے ای میں پاکستان کیساتھ تین ٹیسٹ، اتنے ہی ون ڈے اور ٹوئنٹی 20 میچز کی سیریز کھیلنی ہے، پی سی بی کی جانب سے کیوی ٹیم کو دو ٹوئنٹی 20 میچز پاکستان میں کھیلنے کی دعوت دی گئی تھی جس پر نیوزی لینڈ کرکٹ نہ صرف غور کررہا ہے بلکہ اس نے سیکیورٹی صورتحال کے جائزے کیلیے ریگ ڈکسن کی خدمات حاصل کرلی ہیں۔

اب معلوم ہوا ہے کہ کیوی پلیئرز نے اس ٹور کے حوالے سے خدشات کا اظہار کردیا ہے۔

(جاری ہے)

جس سے نیوزی لینڈ ٹیم کے 15برس بعد پاکستان کے ٹور کے امکانات کم پڑنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ فی الحال نیوزی لینڈ کرکٹ کو سیکیورٹی رپورٹ کا انتظار ہے، 15دن میں اس بارے میں حتمی فیصلے کا امکان ہے۔چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ وائٹ اور کرکٹ پلیئرز ایسوسی ایشن باس ہیتھ ملز دونوں نے ہی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پلیئرز کی جانب سے اس ٹور پر خدشات کا اظہار کیا گیا ہے تاہم بورڈ نے واضح کیا ہے کہ اس بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرنے کیلئے وہ کھلے ذہن سے چیزوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ملز کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دورے کے حوالے سے کھلاڑیوں کی آرا منقسم ہے، سب ہی اس ٹور کیخلاف نہیں ہیں، کچھ کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ اگر سیکیورٹی کلیئرنس ملتی ہے تو ان کو کوئی اعتراض نہیں جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ کیا ہم دبئی میں ہی نہیں رک سکتے۔ ذرائع نے واضح کیا ہے کہ اگر آدھے پلیئرز پاکستان کے ٹور سے انکار کرتے ہیں تو پھر نیوزی لینڈ اپنی کمزور ٹیم نہیں بھیجے گا۔

بیٹنگ کوچ کریگ میک ملن کا ٹور پر جانے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ وہ 2002کی اس ٹیم میں شامل تھے، جس کے کراچی میں ہوٹل کے سامنے بم بلاسٹ ہوا تھا۔نیوزی لینڈ کے مارک کولز اس وقت پاکستان ویمنز ٹیم کے کوچ ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ مجھے پاکستان میں قیام کے دوران سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اگر کیوی ٹیم اس ٹور پر راضی ہوتی ہے تو یہ پاکستان کرکٹ کیلئے بہت زیادہ فائدہ مند ہوگا۔