کوئٹہ، تحریک انصاف کا ورکر مرزا خان کے بہیمانہ قتل اور قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مظاہرہ

حکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان میں امن کی بحالی برقرار رکھنے میں ناکام ہو چکی ہے، قائدین کا مظاہرے سے خطاب

جمعہ مئی 21:57

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے زیراہتمام پارٹی ورکر مرزا خان کے بہیمانہ قتل اور قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قاسم خان سوری بسم اللہ آغا ‘ قاری عبیداللہ درانی سمیت دیگر کی قیادت میں مظاہرہ کیا گیا مظاہرین نے بینرز ‘ پلے کارڈز اور پارٹی کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے جن پر نعرہ درج تھے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے قاسم خان سوری ‘ بسم اللہ آغا ‘ قاری عبیداللہ ‘ منورہ منیر سمیت دیگر نے کہا کہ حکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان میں امن کی بحالی برقرار رکھنے میں ناکام ہو چکی ہے جس کی وجہ سے آئے روز ٹارگٹ کلنگ ‘ دہشت گردی ‘ اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتی کی وارداتوں میں عام شہری موت کے منہ میں جارہے ہیں تاحال ان بے گناہ شہریوں کے قتل میں ملوث ملزمان کو پولیس اور انتظامیہ گرفتار نہیں کرسکتیں جس کی وجہ سے ان کے اہلخانہ اور شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے مقررین نے کہا کہ حکومت امن کی بحالی کے بلندو بانگ دعوے کررہی ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے کہ پانچ روز قبل کوئٹہ کے نواحی علاقے جتک اسٹاپ مشرقی بائی پاس پر موبائل فون کی دکان پر ڈکیتی کے دوران نامعلوم ڈاکوئوں نے مزاحمت کرنے پر مرزا خان کو قتل کر دیا اور فرار ہوگئے تاحال پولیس ملزمان کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کرنے میں مکمل طورپر ناکام رہی جس سے ان کے اہلخانہ عزیز و اقارب اور پارٹی ورکروں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے مقررین نے حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ فوری طورپر ملزمان کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزادے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں مقتول مرزا خان کے والد نے اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تاحال میرے بیٹے کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے ہمیں شدید تشویش ہے حکومت فوری طورپر میرے بیٹے کے قاتلوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دے مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں نعرہ بازی کرتے ہوئے پرامن طورپر منتشر ہوگئے ۔