فاٹا کے صوبے میں ضم ہونے کے بعد ہنگامی بنیادوں پر بیس ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کی بھرتی کی اجازت طلب کر لی

جمعہ مئی 21:58

فاٹا کے صوبے میں ضم ہونے کے بعد ہنگامی بنیادوں پر بیس ہزار سے زائد پولیس ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) فاٹا کے صوبے میں ضم ہونے کے بعد ہنگامی بنیادوں پر بیس ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کی بھرتی کی اجازت طلب کر لی ہے جبکہ مجموعی طور پر عدالتوں کے قیام ، تھانہ جات کے قیام ، ڈی پی اوز کے دفاتر کے قیام ، ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر کے قیام کے حوالے سے بھی بھرتیاں کی جائیگی فاٹا سیکرٹریٹ ، ٹیسکو ، فاٹا ڈویولپمنٹ اتھارٹی سمیت فاٹا کے مختلف پراجیکٹس اور محکموں کو خیبر پختونخوا حکومت کے ماتحت کرنے اور پیسکو میں ضم کرنے کے لئے اقدامات شروع کر دیئے ہیں فاٹا کے صوبے میں ضم ہونے کے حوالے سے صوبے کے اہم محکموں میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیئے ہیں ذرائع نے بتایا ہے کہ وقاق کے ماتحت بعض اداروں کو صوبے کے ماتحت کردیا جائے گا فاٹا سیکرٹریٹ کاوجود ختم کر دیا جائے گا ۔

(جاری ہے)

فاٹا کے تمام ملازمین کے تبادلوں اور تعیناتیوں کے اختیارات بھی صوبائی حکومت کے پاس آ جائینگے ۔۔خاصہ دار فورس اور لیویز فورس کے مستقبل کے حوالے سے بھی لائحہ عمل طے کیا جارہا ہے کہ انہیں خیبر پختونخوا پولیس میں ضم کیا جائے یا انہیں مکمل طور پر ختم کر دیا جائے خاصہ دار فورس اور لیویز فورس کی تربیت نہ ہونے کے باعث انہیں خیبر پختونخوا پولیس میں ضم کرنے کی مخالفت کی گئی ہے ۔ پولٹیکل ایجنٹ کے دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین کے بارے میں بھی لائحہ عمل طے کیا جارہاہے