انتظامی اداروں کی نااہلی کے باعث سجی کوٹ خونی آبشار مجموعی طور پر 18 انسانی جانیں نگل چکی

جمعہ مئی 21:59

ایبٹ آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) انتظامی اداروں کی نا اہلی کے باعث سجی کوٹ خونی آبشار 18 انسانی جانیں نگل گئی ہے۔ حویلیاں سجیکوٹ کے مقام پر خونی آبشار میں نہانے پر مکمل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سجی کوٹ خونی آبشار میں ایبٹ آباد کے دو نوجوان بھائی اسد اور احسن ولد غلام فرید دو روز قبل نہاتے ہوئے گہرے پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے تھے جبکہ اسی روز غازی کا ایک تیسرا شخص بھی جاں بحق ہوا تھا۔

تفصیلات کے مطابق جھیل مین چھلانگ لگا کر کودنے سے مجموعی طور پر 18 قیمتی جانیں ضا ئع ہو چکی ہیں۔ واضح رہے کہ گہرے پانی میں تیراکی کی تربیت کے بغیر جانا اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے، قیمتی جانوں کا ضیاع انتظامی اداروں کی غفلت کا نتیجہ ہے، گرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی نوجوان، بچے اور بوڑھے ٹھنڈے پانیوں کی طرف قدرتی طور پر مائل ہوتے ہیں، متعلقہ محکمے ایسے تمام گہرے پانی کی نشان دہی اور ان میں نہانے کی مکمل پابندی عائد کریں۔

(جاری ہے)

ان مقامات پر حکومت کی طرف سے روک ٹوک نہ ہونے کی وجہ سے حادثات معمول بنتے جا رہے ہیں، خطرنا ک گہرے پانی کی نشان دہی اور ان میں نہانے کی کوشش کرنے والوں کو روک ٹوک کا مناسب بندوبست کیا جائے، اکثر شہری لاعلمی میں گہرے پانیوں میں چھلانگ لگانے کے باعث جاں بحق ہوئے ہیں۔

متعلقہ عنوان :