امریکی سفارتخانے نے ملک میں حکومتی اہلکاروں کی جانب سے امریکی شہریوں اور سفارتی عملے کو ہراساں کرنے کا الزام عائد کردیا

پاکستان میں حکومتی اہلکار اور عام شہری امریکی سفارتکاروں اور پاکستان میں رہنے والے امریکن شہریوں کو ہراساں کرتے ہیں ، جس سے سفارتی عملی کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اس سے متعلق باقاعدہ طور پر حکومت کو مطلع کیا جاچکا ہے ، جس پر حکومت نے کوئی ایکشن نہیںلیا گیا، ترجمان گریگ میک الون کی آن لائن سے گفتگو

جمعہ مئی 22:02

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) پاکستان میں قائم امریکی سفارتخانے نے ملک میں حکومتی اہلکاروں کی جانب سے امریکی شہریوں اور سفارتی عملے کو ہراساں کرنے کا الزام عائد کردیا۔آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے سفارتخانے کے ترجمان گریگ میک الون کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حکومتی اہلکار اور عام شہری امریکی سفارتکاروں اور پاکستان میں رہنے والے امریکن شہریوں کو ہراساں کرتے ہیں ، جس سے سفارتی عملی کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

اس سے متعلق باقاعدہ طور پر حکومت کو مطلع کیا جاچکا ہے ، جس پر حکومت نے کوئی ایکشن نہیںلیا گیا۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان میں امریکہ کے مختلف ترقیاتی کاموں کا سلسلہ جاری ہے۔امریکی امداد کے تحت چلنے والے تعلیمی ، ثقافتی اور ترقیاتی کاموں میں مختلف امریکی اور پاکستانی لوگ کام کرتے ہیں، جس کے دوران پاکستانی حکومتی اہلکار امریکی سفارتکاروں کو ہراساں کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

گریگ میک الون کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں حکومت پاکستان کو تحریر ی طور مطلع کرچکے ہیں مگر حکومت کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔ اس سلسلے میں ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ امریکی اہلکاروں کی طرف سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ۔ جب تحریر ی طور مطلع کیا جائے ، پاکستان اس پر کاروائی کرے گا۔ اس سے قبل امریکہ میں پاکستانی سفارتکاروں پر سفری پابندیاں عائد کی گئیں تھیں اس کے جوابی اقدام میں پاکستان نے امریکی سفارتکاروں پر سفری پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو دی گئی رعایتی سہولیات واپس کردی گئیں تھیں اور انہیں وفاقی دارالحکومت اور قونصلیٹ دفاتر میں چالیس کلو میٹر کی حدود کے باہر جانے کیلئے پیشگی اجازت کی شرائط عائد کردیں۔

جس کی وجہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی جانب سے پاکستان میں امریکی سفارتکاروں سے برے سلوک کے واویلا کیا۔۔۔۔۔۔۔ شمیم محمود

متعلقہ عنوان :