شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے قانونی ماہرین کا تین روزہ اجلاس اختتام پذیر ،ْ علاقائی سلامتی سمیت دیگر امورپر تبادلہ خیال

شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے قانونی ماہرین کے منعقدہ اجلاس میں انسداد دہشت گردی و شدت پسندی میں علاقائی تعاون بڑھانے کیلئے مختلف تجاویز زیر بحث لائے گئے ،ْ دفتر خارجہ

جمعہ مئی 22:37

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے قانونی ماہرین کا تین روزہ اجلاس 23سے 25تک اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ جس میں علاقائی سلامتی سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ مہمان وفود نے اجلاس کے لئے شاندار انتظامات کرنے پر پاکستان کی تعریف کی۔جمعہ کو دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اجلاس میں ایس سی او کے آٹھ رکن ملکوں چین،،قزاخستان،کرغیزستان،،بھارت،،،روس،،تاجکستان،ازبکستان اور پاکستان کے قانونی ماہرین اور ایس سی او ریٹس کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

ایس سی او ۔ریٹس کا قیام 2001میں تاشقند میں عمل میں لایا گیا تھا جس کا مقصد دہشتگردی،علیحدگی پسندیاور شدت پسندی کا خاتمہ کرنا ہے۔ایس سی او کے مستقل آرگن کی حیثیت سے یہ تبادلہ خیالات کیلئے علاقائی فورم ہے۔

(جاری ہے)

کونسل ،ایس سی او۔ریٹس کی اعلی ترین فیصلہ سازی باڈی ہے جبکہ ایس سی او کونسل کے فیصلے قانونی ماہرین ورکنگ گروپ تیار کرتے ہیں جس کا اجلاس ہر کونسل اجلاس سے قبل تین بار منعقد ہوتا ہے۔

ماہرین کی سطح پر یہ اجلاس رضاکارانہ بنیادوں پر باری باری ہر رکن ملک میں منعقد کیا جاتا ہے۔ایس سی او ۔ریٹس کونسل کا اگلا اجلاس رواں سال اکتوبر میں کرغیزستان کے دارالحکومت بشکیک میںمنعقد ہوگا۔ترجمان کا کہنا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے قانونی ماہرین کے منعقدہ اجلاس میں انسداد دہشت گردی و شدت پسندی میں علاقائی تعاون بڑھانے کیلئے مختلف تجاویز زیر بحث لائے گئے۔قانونی ماہرین نے انتظامی اور تنظیمی امور پر بھی بحث کی۔