اسامہ بن لادن کی حوالگی کے لئے امریکہ اور پاکستان میں خفیہ ڈیل ہوئی تھی

اسامہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی کی اطلاع امریکہ کو آئی ایس آئی کے ایک سابق افسر نے دی تھی: سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی

muhammad ali محمد علی جمعہ مئی 20:27

اسامہ بن لادن کی حوالگی کے لئے امریکہ اور پاکستان میں خفیہ ڈیل ہوئی ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی کا دعوی ہے کہ اسامہ بن لادن کی حوالگی کے لئے امریکہ اور پاکستان میں خفیہ ڈیل ہوئی تھی جبکہ اسامہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی کی اطلاع امریکہ کو آئی ایس آئی کے ایک سابق افسر نے دی تھی۔ تفصیلات کے مطاق سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی نے القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کے حوالے سے تہکہ خیز انکشافات کیے ہیں۔

پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی نے خفیہ ایجنسیوں اور ان کے کارناموں کے بارے میں شائع ہونیوالی کتاب "دا سپائی کرونیکل: را، آئی ایس آئی اینڈ دی الیوژن آف پیس" میں کئی تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی حوالگی کیلئے امریکہ اور پاکستان میں خفیہ ڈیل ہوئی تھی جبکہ اسامہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی کی اطلاع امریکہ کو آئی ایس آئی کے ایک سابق افسر نے دی تھی۔

(جاری ہے)

اسد درانی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ نائن الیون حملوں کے ماسٹر مائنڈ اسامہ بن لادن کو امریکہ حوالے کرنے کی باقاعدہ ڈیل ہوئی تھی ۔اسامہ بن لادن پر حملہ کرنے سے پہلے جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ امریکیوں کی ملاقات ایک بحری جہاز پر ہوئی جس میں تمام معاملات طے پا گئے تھے ۔ اس ملاقات کے علاوہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی امریکی جنرل ڈیوڈ پیٹریاس سے بھی خفیہ ملاقات ہوئی، اسامہ کے بارے میں دونوں ممالک ایک پیج پر تھے۔

 اس درانی کہتے ہیں کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سب سے پہلے پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے ایک ریٹائرڈ افسر نے امریکیوں کو بتایا کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں مقیم ہے ، لیکن میں اس افسر کا نام نہیں بتاؤں گا اور نہ ہی میں اس کو اتنی پبلسٹی دینا چاہتا ہوں ۔کسی کو نہیں پتہ کہ 50 ملین ڈالرز میں سے اسکو کتنے ملے، لیکن اب وہ شخص پاکستان سے غائب ہے ۔ اسامہ بن لادن کو مارا نہیں گیا تھا بلکہ زندہ امریکیوں کے حوالے کیا گیا تھا۔