سرگودھا، ڈسٹرکٹ اینڈ ٹیچنگ ہسپتال میں20 کروڑ سے زائد کی لاگت کی ایم آر آئی اور سی ٹی سکین مشین ٹیکنیکل سٹاف کی عدم دستیابی کے باعث غیر فعال

غیر تربیت یافتہ آپریٹنگکے باعثکروڑوں کی مشینری خراب ہونے کا اندیشہ مریض ایم آر آئی کروانے کیلئے پرائیوریٹ ہسپتالوں میں لوٹنے پر مجبور

جمعہ مئی 22:45

سرگودھا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) سرگودھا ڈویژن کے واحد ڈسٹرکٹ اینڈ ٹیچنگ ہسپتال میں20 کروڑ سے زائد کی لاگت سے ڈسٹرکٹ اینڈ ٹیچنگ ہسپتال میں ایم آر آئی اور سی ٹی سکین مشین نصب ہونے کے باوجود ، ٹیکنیکل سٹاف کی عدم دستیابی کے باعث غیر فعال،ان ٹرینڈ لوگوں کی آپریٹنگ سے کروڑوں کی مشینری خراب ہونے کا اندیشہ،مریض ایم آر آئی کروانے کیلئے پرائیوریٹ ہسپتالوں میں لوٹنے پر مجبور ،ہسپتال انتظامیہ خاموش،ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ ٹیچنگ ہسپتال میں سرگودھا ڈویژن کے چاروں اضلاع خوشاب ،میانوالی ،بھکر اور سرگودھا کے علاوہ ،جھنگ ،منڈی بہاولدین سمیت دیگر اضلاع کے لوگ بھی علاج معالجے کی سہولیات کیلئے آتے ہیں ، 20 کروڑ سے زائد کی لاگت سے جدید ایم آر آئی مشین اور ،سٹی سکین مشین نصب کی گئی تھی ہسپتال میں ،ایم آر آئی مشین کو چلانے کیلئے سٹاف کی کمی کے باعث آج تک یہ مشین فعال نہیں ہو سکی ، ہسپتال میں موجود مریضوں کے گٹنوں کا یا ریڈ کی ہڈی کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے وہ بھی غیر تربیت یافتہ سٹاف کرتا ہے ، جبکہ ایم آر آئی مشین کو چلانے کیلئے ایک عدد ریڈیالوجسٹ ، میڈیکل آفیسر ، کمپیوٹر آپریٹرز ، ریڈیو گرافرٹیکنیشن، سٹاف نرسس سمیت دیگر عملہ کا تربیت یافتہ ہونا بہت ضروی ہے طب ہی یہ دنوں مشینیں مریضوں کو سہولیات فراہم کر سکتی ہے ہسپتال انتظامیہ کی عدم دلچسپی کے باعث مہینوں گزر جانے کے بعد بھی دونوں مشینوں پر مکمل سٹاف تعینات نہیں کیا گیا نہ ہی مریضوں کو سہولیات فراہم کی گئی ، خانہ پوری کیلئے چند غیر تربیت یافتہ لوگ ان دونوں مشییوں پر چند گنے چنے ٹیسٹ کر رہے ہیں ، ان ٹرینڈ لوگوں کے آپریٹ کرنے سے کروڑوں روپے کی مشینری خراب ہونے کا اندیشہ ہے،دوسری طرف میلوں سفر کرکے ایم آر آئی کروانے والے مریض نجی ہسپتالوںمیں بھاری رقوم ادا کرکے یہ ٹیسٹ کروانے پر مجبور ہیں ، جس کے باعث شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کی ہے کہ فوری طور پر ان دونوں مشینوںپر مکمل عملہ کی تعیناتی کا نوٹیفیکشن جاری کیا جائے اور تربیت یافتہ سٹاف سے ہی ان مشینوں کا آپریٹ کروایا جائے تاکہ کرڑوں روپے کی یہ مشینری لاکھوں لوگوں کو بہتر سہولیات فراہم کر سکے۔

متعلقہ عنوان :