جعلی اسناد اور معافی ناموں کے ذریعہ سنٹرل جیل سے رہا ہونے والے 15 قیدیوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ زور پکڑ گیا

جمعہ مئی 22:48

ہری پور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) جعلی مذہبی اسناد اور معافی ناموں کے ذریعہ سنٹرل جیل ہری پور سے رہا ہونے والے 15 قیدیوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ زور پکڑ گیا، نیب قیدیوں کی گرفتاری یقینی بنا کر واقعہ میں ملوث جیل افسران کے خلاف کارروائی کرے۔ تفصیلات کے مطابق سنٹرل جیل ہری پور سے 16 قیدیوں کو جعلی اسناد اور معافی ناموں کے ذریعہ سزا مکمل ہونے سے قبل ہی رہا کر دیا گیا تھا جن میں بیشتر منشیات کے مقدمات میں سزا یافتہ تھے۔

محکمانہ انکوائری میں ملوث افسران اور اہلکاروں کو سزائیں دینے کی سفارشات بھی کی گئیں لیکن صرف ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ زمان خان بابر اور سینئر اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ نورالبصرکو جبری ریٹائر کیا گیا جبکہ دیگر کو معمولی سزائیں اور وارننگ دیکر چھوڑ دیا گیا۔

(جاری ہے)

ایک سال سے زائد کا وقت گذرنے کے بعد نیب خیبر پختونخوا نے معاملہ کا نوٹس لیا اور محکمانہ انکوائری رپورٹ طلب کی لیکن حیران کن امر ہے کہ رہا ہونے والے 16 قیدیوں میں سے صرف ایک ہی قیدی کو واپس لایا گیا جو اپنی سزا پوری کر کے رہا ہو چکا ہے، دیگر قیدی تاحا ل فرار ہیں جن کی گرفتاری کیلئے محض ڈی پی اوز کو خطو ط لکھے گئے لیکن وہ تاحال گرفتار نہیں ہو سکے۔

مذکورہ معاملہ کی 24 نومبر 2016ء کی ایک پریس رپورٹ میں نشاندہی کی گئی تھی کہ 16 قیدیوں کو جعلی اسناد اور معافی ناموں کے ذریعہ رہا کیا گیا جس پر 28 نومبر 2016ء کو اس وقت کے سپرنٹنڈنٹ جیل ہری پور خالد عباس نے سو موٹو نوٹس لیکر اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا اور انہوں نے 5 دسمبر 2016ء کو معاملہ کی جانچ پڑتال کیلئے سپرنٹنڈنٹ صاحبزادہ شاہجہان کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی قائم کر دی جس میں اس وقت کے سپرنٹنڈنٹ داسو جیل کوہستان زاہد خان بھی شامل تھے جنہوں نے سنٹرل جیل ہری پور کا کئی بار دورہ کیا اور جیل کے 2013ء سے 2016ء تک کے چار سالہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی جس دوران انکشاف ہوا کہ سولہ قیدیوں کو جعلی اسناد اور معافی ناموں کے ذریعہ رہا کیا گیا ہے جن میں انتہائی مہارت کا مظاہرہ کیا گیا ہے جس کی رپورٹ آ ئی جی جیل خانہ جات اور صوبائی حکومت کو پیش کی گئی جس کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے یکم مارچ 2017ء کو سپرنٹنڈنٹ خالد عباس سمیت 7 افسران اور ایک وارڈر کو معطل کر کے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے گریڈ 20 کے آفیسر فرخ سیر کو انکوائری آفیسر مقرر کر کے انکوائری کے احکامات دیئے۔

ذرائع کے مطابق معطل ہونے والے افسران اور اہلکاروں کے براہ راست مبینہ طور پر ملوث ہونے اور انکوائری افسر کی ملوث افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کے باوجود بھی ڈپٹی سپر نٹنڈنٹ زمان خان بابر اور سینئر اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ نور البصر کو جبری ریٹائر کر کے دیگر میں بعض کو وارننگ اور معمولی سزا دیکر چھوڑ دیا گیا اور ان کے خلاف کوئی باقاعدہ کارروائی نہیں کی گئی حالانکہ وہ محکمانہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی اور دھوکہ دھی میں ملوث تھے۔ سیاسی و سماجی حلقوں نے نیب خیبر پختونخوا سے مذکورہ کیس میں رہا ہونے والے دیگر 15 قیدیوں کو بھی گرفتار کروا کر مقدمہ کی از سر نو انکوائری کر کے ملوث جیل افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ عنوان :