حیدرآباد پریس کلب پر مختلف تنظیموں اور افراد کا اپنے مطالبات کی حمایت میں الگ الگ مظاہرے

جمعہ مئی 22:50

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) حیدرآباد پریس کلب پر مختلف تنظیموں اور افراد نے اپنے مطالبات کی حمایت میں الگ الگ مظاہرے کئے۔ یو تھ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام سندھ میں جبر ی طو ر پر لا پتہ کیئے گئے افراد کی با زیا بی کیلئے حیدرآباد پر یس کلب کے سامنے گذشتہ روز شروع کی گئی 72گھنٹے کی بھو ک ہڑتال دوسرے روز بھی جاری رہی اور بھوک ہڑتالی کیمپ کے دوسرے روز اظہار یکجہتی کیلئے مختلف قومپرست جماعتوں کے رہنمائوں سمیت سول سوسائٹی کے نمائندوں اور وکلاء میر آزاد پنہور،،ڈاکٹر نیاز کالانی ،نواز شاہ،انور حبیب،امجد پلیجو،علی پلھ،ذولفقار ہالیپوٹو اور انسانی حقوق کے چیئرمین داکٹر اشو تھاما سمیت دیگر نے پہنچ کرچیف جسٹس آف پاکستان اور انسانی حقوق کی تنظیمو ں سے اپیل کی کہ معاملے کا نو ٹس لیکر جبر ی طو ر پر لا پتہ کیئے گئے افراد کو ظا ہر کر کے آزاد کیا جا ئے،اس موقع پریو تھ ایکشن کمیٹی کے رہنما ئو ں نے خطاب کر تے ہو ئے کہا کہ سندھ سے جبر ی طو ر پر لا پتہ کیئے گئے افراد کی گمشد گی کے خلاف کر اچی میں انکے ورثاء نے احتجاج کیا تو انہیں سخت تشد د کا نشانہ بنا یا گیا اور سندھ کی بیٹیو ں کی تذ لیل کی گئی جس پر پورا سندھ سراپا احتجاج ہے ،انہو ںنے کہا کہ ملک کے پر امن شہریو ں کو گھر وں سے اٹھا کر لا پتہ کر نا ملک کے آئین اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور گذ شتہ کئی عر صہ سے سندھ سے لو گو ں کو جبر ی لا پتہ کیا جا رہا ہے ،انہو ںنے کہا کہ اگر جن لو گو ں کو لا پتہ کیا گیا ہے انکے خلاف کو ئی کیس داخل ہے تو انہیں ملک کے قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جا ئے،رہنمائوں نے پولیس کی جانب سے کیمپ ختم کرنے کیلئے دی جانے والی دھمکیوں پر سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پولیس اہلکاروں کی دھمکیوں کا نوٹس لیا جائے۔

(جاری ہے)

کو ٹر ی بھٹا ئی کا لو نی کے رہا ئشی اور نجی فیکٹر ی سے جبر ی بر طر ف کیئے جانے والے مز دور غلام مصطفی قمبرانی نے بقایا تنخو اہیں نہ ملنے اور نوکری پر دوبارہ بحا ل نہ کیئے جانے کے خلاف حیدرآباد پریس کلب کے سامنے دسوری روز بھی احتجاج کر تے ہوئے بتا یا کہ جو لا ئی 2015ء میں کو لگیٹ کمپنی کی انتظامیہ نے بلا جواز نو کر ی سے برطر ف کر دیا جبکہ وہ 9سالو ں سے مذکورہ کمپنی میں 8گھنٹے کے بجا ئے 12گھنٹے ڈ یو ٹی کر ر ہا تھا لیکن تین سال قبل کمپنی کی انتظا میہ نے بلا جواز نو کر ی سے فارغ کرکے بے روز گار کر دیا ،انہو ںنے بتا یا کہ روز گا ر اور اپنا گھر نہ ہو نے کے سبب وہ اپنے بچوں سمیت دربدر کی زند گی گذ ار نے پر مجبو رہے ،انہو ںنے خبر دار کر تے ہو ئے کہا کہ اگر 2جو ن تک میر ی بقایا تنخواہیں جا ری کرکے نو کر ی پر بحا ل نہیں کیا گیا تو وہ حیدرآباد پر یس کلب کے سامنے اپنے بچوں سمیت سخت احتجاج کر ے گا جس کی تمام تر ذمہ داری کو لگیٹ کمپنی کی انتظامیہ اور محکمہ لیبر سندھ پر عائد ہو گی ۔

میر پور خاص کے تعلقہ شجاع آباد کے علاقہ سے گذشتہ روز قبل مبینہ طور پر اغواء ہونے والے وکیل ہیرا لا ل میگھواڑ کی بازیابی کیلئے سندھ زرعی یونیورسٹی کے طلباء اور وکیل کے ورثاء کی جانب سے حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اس دوران وکیل کی بازیابی کیلئے سخت نعرے بازی کی ،اس موقع پر مغوی وکیل ہیرا لال میگھواڑکے بھتیجے اشوک کمار اور دیگر نے الزام عائد کرتے ہوئے بتا یاکہ گذشتہ روز تین گاڑیوں میں سوار نامعلوم افراد وکیل ہیرا لال میگھواڑ کو اپنے ساتھ زبر دستی گاڑی میں بٹھا کر ساتھ لے گئے اور اس حوالے سے پولیس سمیت کوئی ادارہ کوئی معلومات فراہم نہیں کر رہاہے،انہوں نے بتا یاکہ ہیرا لال میگھواڑ پر امن شہری اور وکالت کے پیشہ سے وابستہ ہے ،انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی کہ وکیل ہیرا لال میگھواڑ کی جبری گمشدگی کا نوٹس لیکر بازیاب کرا کر وکیل کے ا ہلخانہ کو انصا ف فراہم کیا جائے ۔

بدین کے گوٹھ خاصخیلی کے رہائشی مسماة رخسانہ زوجہ نور احمد کپری نے اپنء ماں مسماة سیانی کی جانب سے شوہر سے زبردستی طلاق لینے کیلئے دی جانے والی دھمکیوں کے خلاف حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے بتا یاکہ میری والدہ مسماة سیانی نے ڈیڑھ ماہ قبل اپنی مرضی سے میری شادی نور احمد کپری نامی نوجوان سے کرائی تھی اور اب میری ماں لالچ میں آکر بھاری رقم کے عیوض میری شادی کسی دوسرے شخص سے کرا نا چاہتی ہے جس کے کیلئے شوہر سے طلاق لینے کیلئے دبائو ڈال رہی ہے اور انکار کرنے پر میری ماں مجھے ،میرے شوہر نور احمد اور سسر میر محمد کو جھوٹے کیس میں ملوث کرنے کیلئے دھمکیاں دے رہی ہے ،مسماة رخسانہ نے ارباب اختیار سے اپیل کی کہ معاملے کا نوٹس لیکر مجھے اور میرے سسرالیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے ۔