سندھ اسمبلی، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے 1145 ملازمین کی برطرفی کے مذمتی قرارداد متفقہ طور پرمنظور

جمعہ مئی 22:58

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے 1145 ملازمین کی برطرفی کے خلاف سندھ اسمبلی نے جمعہ کو ایک مذمتی قرارداد متفقہ طور پرمنظور کرلی ایوان میں یہ قراردادپیپلزپارٹی کے ڈاکٹر بہادر ڈاھری نے پیش کی تھی جس کی اپوزیشن ارکان نے بھی حمایت کی۔قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار کا کہنا تھا کہ ہم ایک ملازم کو بھی برطرف نہیں ہونے دیں گے۔

بعد میںقرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ملازمین کو برطرف کئے جانے کے بجائے معاملہ وزارتی کمیٹی کے سپرد کیا جائے جو وزیرقانون کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے۔ قبل ازیںسندھ اسمبلی میں جمعہ کو اس وقت خاصا شور شرابہ شروع ہوگیا جب پیپلز پارٹی کے بعض ارکان نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے گیارہ سو سے زائد ملازمین کی برطرفی کے خلاف ایوان میں احتجاج کیا غلام قادر چانڈیوملازمیننے کہا کہ ان ملازمین کو کیوں برطرف کیا جارہا ہے۔

(جاری ہے)

اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ میرٹ پر بھرتی ہونے والے ملازمین کو کوئی برطرف نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کی جعلی ڈگری ہے تو اسکی حمایت نہیں کرونگا۔سینئر وزیر پارلیمانی امور نثار احمد کھوڑو نے بتایا کہ متعلقہ ملازمین کو تاحال فارغ نہیں کیا گیا۔یک جنبش قلم کسی کو برطرف نہیں کیا جائیگا۔ ایوان کی کارروائی کے دوران یہ معاملہ اس وقت زیر بحث آیا جب پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی نادر مگسی نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ملازمین کے احتجاج کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کیاہم حکومت کے اختتام پر روزگار چھین کر جائینگی غلام قادر چانڈیونے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ملازمین کو سندھی ہونے کی سزا دی جارہی ہے۔

اسپیکر نے کہا کہان ملازمین کو میرٹ پر ملازمتیں دی گئی تھی لیکن اب زیادتی ہورہی ہے۔نثار کھوڑو نے کہا کہ گیارہ سو سے زائد ملازمین قواعد مکمل ہونے پر بھرتی ہوئے ،محکمہ بلدیات نے ان ملازمین کو 2014میں ریگولرائز بھی کیااب انکوائری کے زریعے ان ملازمین کو نکالنے کی بات کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی کی ڈگری کا کوئی مسئلہ ہے تو وزرا کمیٹی معاملہ دیکھ لے۔

انہوں نے کہا کہ جو تقرریاں ضابطہ کار کے تحت ہوئیںانہیں بیروزگار نہیں کرنا چاہیے ۔سیکریٹری محکمہ بلدیات کیا کررہے ہیں حکومت دیکھے، ہم کسی کو بیروزگار کرنے کے خلاف ہیں۔۔ایم کیو ایم کے فیصل سبزواری نے کہا کہ سیکریٹری غلط آرڈر جاری کرکے خود فرار ہوگیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے رکن سندھ اسمبلی نعیم کھرل نے اسپیکر سے کہا کہ یہ ملازمین آپکے دور میں بھرتی ہوئے تھے۔

جس پرآغا سراج درانی نے کہا کہ میرے دور میں کسی کی اتنی مجال نہیںہوتی تھی کہ ایسا حکم نامہ جاری کرے۔ اسپیکر نے کہا کہ کوئی ایس بی سی اے کے ملازمین کو فارغ نہیں کرسکتا۔ سیکریٹری محکمہ بلدیات کو بھی دیکھ لیں گے۔ وزیر پارلیمانی امور نثار کھوڑو نے کہا کہ اسمبلی قرارداد کے ذریعے ملازمین کی برطرفی کو روک سکتی ہے۔اس لئے ہم ایک مشترکہ قرارداد لانا چاہتے ہیں۔تاکہ یہ پیغام دیا جاسکے کہ کسی غریب کی نوکری چھیننے کی کوشش نہ کی جائے۔