سندھ اسمبلی، توجہ دلائو نوٹس کے وقفے کے دوران ڈپٹی اسپیکر اور ایم کیو ایم کے رکن کامران اختر کے درمیان کوٹہ سسٹم کے معاملے پربحث کے دوران تلخی کلامی

جمعہ مئی 22:58

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) سندھ اسمبلی میں جمعہ کو ارکان کے توجہ دلائو نوٹس کے وقفے کے دوران ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا اور ایم کیو ایم کے رکن کامران اختر کے درمیان کوٹہ سسٹم کے معاملے پربحث کے دوران تلخی پیدا ہوگئی ۔کامران اختر نے اپنے توجہ دلائو نوٹس میں دریافت کیا کہ موجودہ حکومت کے دور میں کوٹہ سسٹم پر کتنے افراد کو بھرتی کیا گیا اورکتنے شہری علاقوں سے افراد کو بھرتی ہوئے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ کوٹہ سسٹم اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں کے قتل عام کا سلسلہ بنا ہوا ہے مختلف محکموں میں نوکریاں بیچی جارہی ہیں جعلی ڈومیسائل پر نوکریاں دی گئیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی نے کہا کہ ہم مے ہزاروں نوکریاں دیں بلاشبہ دیں مگر میرٹ پر نوکریاں دیں کراچی کو ہر لحاظ سے محروم رکھا گیا عملی کام کیا جائے۔

(جاری ہے)

توجہ دلائو نوٹس کے دوران کامران اختر بولتے رہ گئے ڈپٹی اسپیکر نے انکا مائک بند کرادیا ۔

اس موقع پرنثار کھوڑو نے کہا کہ جو معزز ممبر نے لکھ کر بھیجا وہی ایجنڈے میں شائع کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ محکمہ ایس این جی ڈی میں فوتی کوٹہ کے تحت ایک سال میں 69 افراد کو بھرتی کیا گیا دیگر محکموں میں بھرتیاں اسکے علاوہ ہیں۔۔ نثار کھوڑو کی وضاحت کے باوجودکامران اختر بولتے رہے جس پر کھوڑو نے کہا کہ شاید یہ سیکھ جائیں جاتے جاتے انہیں سیکھا دیں۔

ڈپٹی اسپیکر شہلا رضانے ریمارکس یہ اگلی بار نہیں آئینگے۔ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کے ریمارکس پر فیصل سبزواری اور کامران اختر نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ الفاظ واپس لئے جائیں ۔۔کراچی پریس کلب کے باہر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے بھوک ہڑتال پر بیٹھی خواتین پر تشدد کے خلاف نصرت سحر عباسی کے ایک توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں وزیر داخلہ سہیل انور سیال پولیس اور متعلقہ ادارے کام کررہے ہیں۔

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ کوشش ہے کہ لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے ورثاء سے ملاقات بھی کی ہے لواحقین کی درخواست پر حکومت کی مدت پوری ہونے کے بعد پولیس کی طرف سے فوکل پرسن مقرر کردیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ بعض افراد کے مقدمات ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں، لاپتہ افراد کے معاملے پر انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔