تحریک انصاف دوبارہ حکومت بنا کر خیبرپختونخوا کی روایت بدل دے گی ، پرویز خٹک

تحریک انصاف نے اُدھورے وعدوں اور کھوکھلے نعروں کی سیاست کا باب بند کر دیا ہے، سال صحیح معنوں میں اپنے ایجنڈے کے مطابق عوام کی خدمت کی ہے رشوت کے خلاف جہاد کیا،وزیر اعلی خیبر پختون خوا

جمعہ مئی 23:05

تحریک انصاف دوبارہ حکومت بنا کر خیبرپختونخوا کی روایت بدل دے گی ، پرویز ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں کسی بھی سیاسی جماعت کو دوبارہ حکومت بنانے کا موقع نہیں ملاتاہم آئندہ عام انتخابات میں یہ روایت بدلنے جارہی ہے ۔ تحریک انصاف دوبارہ حکومت بنا کر خیبرپختونخوا کی روایت بدل دے گی کیونکہ اس وقت تحریک انصاف مقبول ترین جماعت اور متوسط اور غریب طبقے کی آواز بن چکی ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوںنے وزیراعلیٰ ہائوس پشاور میںنوشہرہ کینٹ ، پبی اور نوشہرہ کلاں کے متعدد سرکردہ سیاسی ورکروں کی پی ٹی آئی میں شمولیتی تقریبات اورپی کے ۔62 نوشہرہ اورامان گڑھ سے پی ٹی آئی یوتھ کے ساتھ تعارفی تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پبی سے معروف سیاسی شخصیات وہاب خان اور طلاء خان مرحوم کے خاندان کے سرکردہ افراد آفتاب احمد خان، شہاب احمد خان ایڈوکیٹ ، تیمور احمد خان ، رشید حسین ایڈوکیٹ جبکہ پبی ہی کے احتشام، بلاول ، زاہد علی، زاہد خان، صادق عزیز ، اسماعیل خان، بلال خان، شہریار خان ودیگر اور نوشہرہ کلاں ابا خیل کے محمد ایاز ، اسرا ر خان، عمران ، ابراہیم ، عبد الصمد ، ماجد خان،نوشہرہ کینٹ سے حاجی کفایت الله، صابر شاہ، عنایت شاہ، جعفر شاہ، جہانگیر شاہ، شیر شاہ، زبیر خان، حمزہ خان، سلیمان خان، طاہر خان، عبد اللهاور دیگر افراد نے اپنی پارٹیوں سے مستعفی ہو کر پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا۔

(جاری ہے)

وزیراعلیٰ نے پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے ورکرز کا خیر مقدم کرتے ہوئے اُن کو پارٹی کی ٹوپیاں پہنائیں اور اُنہیں مبارکباد دی ۔ اس موقع پر صوبائی وزیرایکسائز و ٹیکسیشن میاں جمشید الدین کاکا خیل، اراکین صوبائی اسمبلی میاں خلیق الرحمن، ادریس خان خٹک، ضلع نوشہرہ کے نائب ناظمین اشفاق خٹک و دیگر مقامی لیڈران بھی موجود تھے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ انہوںنے زندگی بھر سیاست کی ہے اور حکومتوں کے آنے اور جانے کے معاملات بڑے قریب سے دیکھے ہیں جبکہ کسی حکومت کا آخری وقت آتا ہے تو لوگ برسراقتدار پارٹی سے علیحدگی اختیار کرلیتے ہیں مگر اب کی بار صورتحال مختلف ہے آئندہ انتخابات میں اس صوبے کے عوام پی ٹی آئی پر دوبارہ اعتماد کرکے تاریخ بدل دیں گے ۔

تحریک انصاف نے اُدھورے وعدوں اور کھوکھلے نعروں کی سیاست کا باب بند کر دیا ہے ۔ پانچ سال صحیح معنوں میں اپنے ایجنڈے کے مطابق عوام کی خدمت کی ہے رشوت کے خلاف جہاد کیا ۔ تعلیم ، صحت، پولیس اور دیگر شعبوں کو سیاسی مداخلت سے آزاد کرکے خدمات کی انجام دہی کے قابل بنایا ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پی ٹی آئی نے نظام کی تبدیلی کا نعرہ اس لئے لگایا کہ سیاستدانوں نے کرپشن اور سیاسی مداخلت کے ذریعے سماجی خدمات کے سرکاری شعبوں کو مفلو ج بنا دیا تھا ۔

سرکاری اداروں کی تباہی سے امیر کو کوئی فرق نہیں پڑتا ،تکلیف تو غریب کو ہوتی ہے جس کے پاس پرائیوٹ اداروں میں جانے کیلئے وسائل نہیں ہوتے ۔ عام آدمی سرکاری اداروں پر منحصر ہے اور اُنہی پر اعتماد کرتا ہے یہ اُس کی مجبوری ہے کیونکہ اُس کے پاس کوئی دوسری آپشن موجود نہیں۔ مفاد پرست اور پیداگیر سیاستدانوں نے غریب کی اسی مجبوری کا ناجائز فائدہ اُٹھایا اور اُس کے اعتماد کا قتل عام کیا ۔

اسلئے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سیاستدان غریب کے مجرم ہیں جنہوںنے ایک محدود طبقے کی خوشحالی کیلئے کروڑوں غریب عوام کی زندگی کو جہنم بنا دیا ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس ملک میں غریب کے نام پر ووٹ لینے والوںنے جان بوجھ کر غریب کا استحصال کیا تاکہ غریب میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہ آجائے اور حکمرانوں کی بادشاہت قائم رہے ۔

پرویز خٹک نے کہاکہ یہی روایتی سیاسی جماعتیں یکے بعد دیگرے حکومتیں بناتی رہیں کسی نے غریب کی فکر نہیں کی ۔ واحد تحریک انصاف ہے جو غریب دشمنی کے خلاف کھڑی ہوئی اور عام آدمی کے حقوق کی بحالی کیلئے نظام کی تبدیلی اور اداروں کی بحالی کا بیڑا اُٹھایا ۔ سیاستدانوں کی اُمید کے برعکس عام آدمی نے پی ٹی آئی پر اعتماد کیا اور تبدیلی کے نعرے کو تقویت دی ۔

عمران خان کی کرپشن کے خلاف 22 سالہ جدوجہد کے نتائج آج دیکھے جا سکتے ہیں۔ قبل ازیں پی ٹی آئی کے نوجوان کارکنوں اور عہدیداروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی حکومت نے نوجوانوں کیلئے ہر شعبے میں اقدامات کئے ہیں۔ نوجوان سابق حکومتوں اور موجودہ حکومت کے کردار کا موازنہ کریں اور اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کریں ۔ انہوںنے کہاکہ نوجوانوں سے اُمید ہے اور وہی اس قوم کا مستقبل ہیں اس ملک کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے جس کیلئے ہمیں ذاتی مفادات کی جگہ قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگا۔