عالم اسلام کو جن چیلنجزکا سامنا ہے ان کا مقابلہ اتحاد امت سے ہی ممکن ہے،لیاقت بلوچ

صوبائی اور مقامی حکومتوں نے کراچی کے عوام کو نظر انداز کر کے محرومیوں سے دوچار کیا ہے،دعوت افطار سے خطاب مقتدر طبقات نے ذاتی مفادات کے لیے قوم کولسانیت اور عصبیت کی بنیاد پر تقسیم کیا ،خطبہ جمعہ سے خطاب

جمعہ مئی 23:09

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) سکریٹری جنرل متحدہ مجلس عمل و جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ عالم اسلام کو جن چینلجزکا سامنا ہے ان کا مقابلہ اتحاد امت سے ہی ممکن ہے ۔مجلس عمل کا اتحاد تمام دینی ووٹرز کو متحد کر ے گی ۔ دین کے غلبے اور نظام مصطفی کے قیام کے لیے دینی ووٹرز کو مجتمع ہونا ضروری ہے اسی طرح ہم سیکولر اور لبرل لابی کی ملک کے دینی اور نظریاتی تشخص اور آئین کی اسلامی دفعات کے خلاف سازشو ں کو ناکام بناسکتے ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز ناظم آباد نمبر2میں متحدہ مجلس عمل ناظم آباد و گلبہار کے تحت دعوت افطار اور جامع مسجد الفلاح نارتھ ناظم آباد میں جمعہ المبارک کے خطبہ میں خطاب کرتے ہوئے کیا ۔۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ شہر کراچی کو جماعت اسلامی کی قیادت نے سنوارنے اور بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔

(جاری ہے)

میئر افغانی اور نعمت اللہ نے مثالی خدمات انجام دی ہیں۔

آج جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جوکراچی کے عوام کے حقیقی مسائل اور پریشانیوں کو حل کرنے کے لیے آواز اٹھارہی ہے ۔ کراچی کے عوام کو بجلی ، پانی اور ٹرانسپورٹ کے بے شمار مسائل کا سامنا ہے ، صوبائی اور مقامی حکومتوں نے عوام کو نظر انداز کر کے محرومیوں سے دوچار کیا ہے ۔۔لیاقت بلوچ نے کہاکہ روزے کی عبادت تقویٰ اور صبر کی صفت سے پیدا کرنے کے لیے ہے، روزہ کا مقصد بھوکا اور پیاسا رہنا نہیں ہے بلکہ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہم حقیقی معنوں میں اللہ کی بندگی اختیار کریں ۔

ایک ایک ماہ کی عبادت اور اسپرٹ کو پورے سال اپنی زندگی میں لائیں ۔ رمضان میں قرآن نازل ہوا ، قرآن پوری زندگی کے لیے ایک ضابطہ اور طریقہ ہے جسے انفرادی اور اجتماعی معاملات میں نافذ کرنے کی ضرورت ہے ، رمضان المبارک میں ہی پاکستان قائم ہوا ، پاکستان کو اللہ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے لیکن افسوس کہ حکمرانوں نے اس ملک کو اس کے مقصد وجود سے دورکرکے ملک کو کمزور اور برباد کیا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ جمہوریت اور ووٹ کی طاقت ریاست کے نظام کو چلانے کا ذریعہ ہے یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ عوام کو شفاف اور غیر جانبدار انہ انتخابات ملیں ۔قبل ازیں لیاقت بلوچ نے خطبہ جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان عالم اسلام کا دل ہے ،سیکولر ولبرل لابی اور مقتدر طبقات نے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے لسانیت اور عصبیت کے جھگڑوں میں الجھا کر پوری قوم کو تقسیم کرکے رکھ دیا ہے ۔

متحدہ مجلس عمل تمام دینی و مذہبی جماعتوں کااتحاد ہے ،آئندہ انتخابات میں ساتھ مل کر حصہ لیں گے ۔عوام اللہ کے دین کی بنیاد پر متفق ہوجائیں اور قرآن و سنت کے نفاذ کے لیے متحد ہوکر جدوجہد کریں، پوری دنیا میں عالم کفر مسلمانوں پر حملہ آور ہے ، فلسطین ، کشمیر اور افغانستان میں مسلمان جذبہ حریت سے سرشار کفر کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کررہے ہیں ، آج بحیثیت مسلمان ہم سب کو متحد اور متفق ہونا ہوگا اور عالم کفر کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر مقابلہ کرنا ہوگا۔

لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ ماہ رمضان میں بے شمار رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں ،28مئی خطے میں پاکستان اسلامی ملک ایٹمی قوت کے طور پر ابھرا تھا ۔رمضان کے مہینے میں ہی جنگ بدر رونما ہوئی جس میں کفار کی تعداد مسلمانوں کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی لیکن جذبہ ایمانی سے سرشار مسلمانوں نے جنگ بدر میں کافروں کو شکست دی اور اسی رمضان المبارک میں مکہ فتح ہو ا ۔

انہوں نے کہاکہ روزہ انسان کے اندر صبر اور ایثار کاجذبہ پیدا کرتاہے ، ماہ رمضان میں ہمیں معاشرے میں شدت جذبات پر قابو رکھتے ہوئے غلطیوں کو معاف کرنا چاہیئے اور دراصل جذبات پر قابو رکھنا ہی تقویٰ ہے ۔انہوں نے کہاکہ 1973کے آئین کے مطابق پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جس میں قرآن وسنت سے متصادم کسی قانون کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا لیکن المیہ یہ ہے کہ ملک کے اسلامی آئین پر اس کی روح کی مطابق عمل نہیں کیا جارہا ۔

ملک کی آزادی کے بعد سے کئی بار ملک میں مارشل لاء لگایا گیا لیکن ان سب کے باوجود علماء کرام نے آئین کی پاسداری کرتے ہوئے ملک کی سالمیت کے حوالے سے اپنا کردار ادا کیا ۔۔پاکستان اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جسے قرآن وسنت کا مرکز بننا چاہیئے ریاست کا نظام اسلامی نظام کے مطابق تشکیل دینا چاہیئے اورجس مقصدکے لیے پاکستان بنایا تھا اسی مقصد اور نظریہ کے تحت اسے چلایا جائے ۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ تمام دینی و مذہبی جماعتیں متحد ہیں ،عوام دینی جماعتوں کے ساتھ مل کر ملک سے سیکولر اور لبرل لابی کا خاتمہ کریں ۔