پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں دونوں عام انتخابات کی وجہ سے نفرت پھیلا رہے ہیں ، ایاز لطیف پلیجو

ان میں طلاق اور حلالہ معمول کی بات ہے، حکمرانوں نے سندھ کو کرپشن اور نااہلی کے ذریعے تباہ کرکے رکھ دیا ہے لوگ پانی بجلی سمیت بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، سحرش نگر بینظیر کالونی میں تین سال میں بجلی کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا،دھرنے سے خطاب

جمعہ مئی 23:11

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) قومی عوامی تحریک کے صدر ایاز لطیف پلیجو نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں دونوں عام انتخابات کی وجہ سے نفرت پھیلا رہے ہیں ان میں طلاق اور حلالہ معمول کی بات ہے، حکمرانوں نے سندھ کو کرپشن اور نااہلی کے ذریعے تباہ کرکے رکھ دیا ہے لوگ پانی بجلی سمیت بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، سحرش نگر بینظیر کالونی میں تین سال میں بجلی کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا، ہر طرف کچرے کے ڈھیر اور گندے پانی کے جوہڑ نظر آتے ہیں۔

وہ قاسم آباد میں بینظیر کالونی، سحرش نگر اور سپکی میان میں پانی کی قلت،، تین سال میں بجلی کا ٹرانسفارمر نہ لگنے، صحت و صفائی ی بدتر صورتحال پر قومی عوامی تحریک کی طرف سے دیئے گئے دھرنے سے خطاب کر رہے تھے، اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے بھی گفتگو کی۔

(جاری ہے)

ایا ز لطیف پلیجو نے کہا کہ کراچی سے جیکب آباد، قمبر شہدادکوٹ سے ننگرپارکر، اچھڑو تھر،، سانگھڑ، خیرپور، ٹھٹہ اور بدین سمیت سندھ بھر سے حکمرانوں نے برا حشر کیا ہے۔

لوگ پینے کے پانی کے لیئے پریشان ہیں۔ روڈ کھنڈر ہیں، ترقیاتی کاموں کے اربوں روپئے ہڑپ کر کے دبئی کے اکائونٹس میں منتقل کیئے گئے ہیں۔ نوکریوں کے جعلی آرڈر بھی لاکھوں روپئے میں بیچ کر 2 سال تک لوگوں کو کسی ڈپارٹمنٹ میں مقرر کر کے ان سے کام لیکر بعد میں کہا جاتا ہے کے آپ کا آرڈر جعلی تھا نوکری نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ قاسم آباد کے علاقے سحرش نگر میں بینظیر کالونی کی بجلی 3 سال سے کاٹی ہوئی ہے۔

پیپلز پارٹی اور حیسکو کے کرپٹ افسروں کی گٹھ جوڑ ہے۔ وہ بینظیر کالونی کی بجلی بحالی میں رکاوٹ ہیں۔ بجلی نا ہونے کے باوجود بینظیر کالونی کے لوگوں کو لاکھوں روپئے کے بل بھیجے جا رہے ہیں، انہوں نے حیسکو سربراہ کو انتباہ کیا کہ فوری طور پر ٹرانسفارمر لگا کر بجلی بحال کی جائے ورنہ آپ کے گھرگہواور حیسکو کے دفاتر کا گھیرائو کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کے 10 سے عوام کی دولت لوٹ کر سندھ کو تباھ کرنے والی ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے ڈرامہ شروع کیا ہے۔ دنیا میں ان کا واحد نکاح ہے جو 4 سال 6 مہاں چلتا ہے۔ الیکشن قریب آتے ہی دونوں میں طلاق ہو جاتی ہے اور پہر الیکشن کے حلالے کے بعد دوبارہ شادی ہوجاتی ہے۔ ملکر پریس کانفرنسیں کرتے ہیں کے سندھ ہماری ماں ہے۔ ہمیں دشموں نے لڑایا۔

اب ملکر سندھ اور عوام کی خدمت کریں گے اور پھر وزارتوں کی بندرباٹ ہوتی ہے۔ اربوں روپئے کے کام کاغذات میں دکھا کر عوام کی لوٹی ہوئی دولت لندن، آمریکا، دبئی اور دوسرے ممالک منتقل کرتے ہیں۔ عالمی ہدایتوں پر پاکستان اور اس ریجن کو ڈی اسٹیبلائیز کرنے کے لیئے ایم کیو ایم اور الطاف حسین نے کراچی،، حیدرآباد اور دوسرے شہروں میں اردو، سندھی، پنجابی اور دوسری زبان بولنے والوں کو قتل کروایا۔

حفیظ قریشی، فہمیدہ قریشی اور دوسرے دوستوں سے ملکر عدالت میں جاکر دہشتگردی کے متاثر لوگوں کے لیئے سحرش نگر کی زمین لی تھی، عدالت نے حکم دیا تھا کے دہشتگردی کے متاثر سحرش نگر کے لوگوں کو روزگار بھی دیا جائے مگر آج وہ سحرش نگر کھنڈر بنا ہوا ہے۔ قاسم آباد میں درجوں وزیر، سینیٹرز، صلاحکار، حکومتی ایم پی ایز اور ایم این ایز کے گہر ہیں مگر سندھ کے مرکز والے علائقے قاسم آباد کو منشیات،، جرائم اور بدحالی میں مبتلا کیا گیا ہے۔

میونسپل کمیٹی ٹیکس کے نام پر دکانداروں، کیبن والوں، ٹھیلا چلانے والوں سے بھتہ خوری کرتی ہے۔ مسو بھرگڑی، وانکی وسی، گوٹھ جمعو مگسی، گوٹھ محمد بخش شورو سے لیکر قاسم آباد کے چہوٹے بڑے علائقوں کو گندگی کے ڈہیروں، ڈرینج کی تباہی،، پانی کی قلت اور دوسرے مسائل کا گڑھ بنایا گیاہے۔ لطیف آباد اور حیدرآباد کے دوسرے علائقے مصنوعی پانی کی قلت کے متاثر ہیں۔

انہوں نے کہا کے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے شہر نئوں دیرو سے معصوم بچی کائنات اور اس کا بھائی اڑھائی برس کا نور 2 دن سے گم ہے مگر حکمرانوں کو ووہ نظر نہیں آ رہے۔ خواتین، بچوں اور اقلیتوں سے ظلم ہو رہا ہے۔ دولتپور میں قتل ہونے والے نوجوان سجاد جوکھیو کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جا رہا۔ اس موقعے پر انور سومرو، شہزاد جمالی، جنید ابڑو، عباس پٹھان اور دوسرے رہنما شریک تھے۔