بلیک لسٹ این ٹی ایس صوبے میں لا کر مفادات حاصل کرنے والوں کی نشاندہی ضروری ہے، سردار حسین بابک

جمعہ مئی 23:41

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) عوامی نیشنل پارٹی نے خیبر پختونخوا کی صوبائی کابینہ کے الوداعی اجلاس میں بھرتیوں کیلئے ایٹا کی شرط لازمی قرار دینے کے فیصلے پر حیرت اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانچ سال تک صوبے کے ادارے کو نظر انداز کر کے بلیک لسٹ ادارے این ٹی ایس کی خدمات حاصل کرنے کی وجوہات بیان کی جائیں، پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ این ٹی ایس پنجاب کی بلیک لسٹ اور دیوالیہ کمپنی تھی جسے صوبائی حکومت نے پانچ سال تک صوبے پر مسلط کئے رکھا اور ان کے ذریعے بھرتیاں کی جاتی رہیں جبکہ اس دوران صوبے کے اپنے ادارے ’’ایٹا‘‘ کو نظر انداز کیا گیا ، انہوں نے کہا کہ قوم جانتی ہے کہ بعد ازاں اس این ٹی ایس کے خلاف کتنے کرپشن کیسز سامنے آئے تاہم حکومت کو وضاحت کرنی چاہئے کہ این ٹی ایس کو یہاں لانے میں کس کا مفاد تھا انہوں نے کہا کہ کابینہ کے الوداعی اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے شفاف بھرتیوں کیلئے پھر اے ایٹا کو لازمی قرار دے دیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ این ٹی ایس کو ذاتی مفادات کیلئے استعمال کیا گیا، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اور خصوصاً اے این پی نے بار ہا اس بات کی نشاندہی بھی کی تھی لیکن ہماری بات نہیں سنی گئی ، سردار حسین بابک نے پانچ سال تک وزیر اعلیٰ مجموعی تخصیص ’’ امبریلا اسکیم‘‘ کے تحت اپنے من پسند حلقوں میں سیاسی بنیادوں پر فنڈز تقسیم کرتے رہے اور اپوزیشن سمیت نا پسندیدہ ممبران کو فنڈز سے محروم رکھا گیا ، کابینہ کے الوداعی اجلاس میں آندہ مالی سال کیلئے جداگانہ حیثیت سے فنڈز کی تقسیم کے اعلانات عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہیں ، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا یہ پہلا اور آخری دور حکومت تھا اور صوبے میں ان کا دوبارہ حکمرانی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ۔

(جاری ہے)

فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حوالے سے سردار بابک نے ایک بار پھر پختون قوم اور قبائلی عوام کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ آئین کی رو سے فاٹا اصلاحات بل کی صوبائی اسمبلی سے منظوری لازمی ہے اور اس بل کی منظوری کے وقت اے این پی کے ممبران اپنی حاضری یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں صوابی یونیورسٹی کو تمباکو سیس سے فنڈ دینے کے صوبائی کابینہ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صوابی یونیورسٹی کو تمباکو سیس کی مد میں فنڈز جاری کرنے کا سہرا اے این پپی کے سر ہے جسے موجودہ صوبائی حکومت نے اقتدار میں آ کر بند کر دیا تھا ، انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی جاتے ہوئے جو سیاسی چالیں چلنے کی کوشش کر رہے ہیں قوم ان سے بخوبی واقف ہے ، اور عوام اب ان کے دھوکے میں نہیں آئیں گے ، انہوں نے کہا کہ پانچ سال تک صوبے کے تمام اداروں تک تباہ حال کیا گیا لیکن وزیر اعلیٰ رخصتی کے وقت ایک بار صوبے کے عوام کو ورغلانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں ۔