کاشتکار کیمیائی کاشتکاری میں تبدیل کر کے مقامی و عالمی منڈیوں میں زرعی اجناس اور سبزیات کی بہترین قیمت حاصل کرسکتے ہیں، ماہرین زراعت

ہفتہ مئی 12:33

فیصل آباد۔26 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) کاشتکار کیمیائی کاشتکاری کو 3سال کے عرصہ میں نامیاتی کاشتکاری میں تبدیل کر کے مقامی و عالمی منڈیوں میں زرعی اجناس اور سبزیات کی بہترین قیمت حاصل کرسکتے ہیںکیونکہ آرگینک فارمنگ ایسا طریقہ کاشتکاری ہے جس میں مصنوعی کیمیائی کھادوں ، زرعی زہروں اور دوسرے مضر مادوں کا استعمال نہیں کیا جاتا اس لئے ا س طریقہ کاشت میں زمین کی زرخیزی کو بحال کرنے کیلئے فصلوں کے ادل بدل، فصلات کی باقیات ، گوبر کی کھاد ، پریس مڈ اور سبز کھادوں پر انحصار کیاجاتاہے۔

ماہرین زراعت نے بتایاکہ خالص اور عمدہ خوراک کے حصول کیلئے آرگینک فارمنگ کا طریقہ دنیا بھرمیں روز بروز مقبول ہو رہاہے کیونکہ اس طریقہ کاشتکاری سے حاصل ہونے والی خوراک ہرقسم کے کیمیائی اثرات سے پاک اور قدرت کے اصولوں کے قریب ترین ہوتی ہے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ مقامی اور عالمی منڈیوں میں بھی ایسی اجناس اور سبزیات کو نہ صرف فروغ حاصل ہورہا ہے بلکہ اس کی زیادہ قیمت بھی مل رہی ہے جس سے کاشتکاروں کے منافع میں اضافہ ہو رہاہے ۔

انہوںنے بتایاکہ ابتدائی 3سالوں کے دوران نامیاتی کاشتکاری کی پیداور غیر نامیاتی کاشتکاری کی نسبت سے کچھ کم ہوتی ہے لیکن بتدریج ان فصلات کی پیداوار بہتر ہوتی جاتی ہے۔ انہوںنے بتایاکہ کاشتکار آرگینک فارمنگ اپناتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ آرگینک فارم سے متصل کھیتوں سے کوئی کیمیائی مادے جذب نہ ہو رہے ہوں کیونکہ اس سے کھیت کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔

متعلقہ عنوان :