مقبوضہ کشمیر: کٹھ پتلی انتظامیہ جان بوجھ کر حالات کو درہم برہم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے،حریت فورم

جامع مسجد کے ارد گرد فورسز کی تعیناتی او ر پر امن مظاہرین پر طاقت کے وحشیانہ استعمال کی مذمت

ہفتہ مئی 12:55

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں حریت فورم نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میںبھی مقبوضہ وادی کے اطراف و اکناف میں پابندیوں ، جامع مسجد سرینگر کے اطراف میں بھارتی فورسز کی تعیناتی ، پر امن مظاہرین پر طاقت کے وحشیانہ استعمال کے ذریعے نوجوانوں کو زخمی کرنے اورجبر و استبداد کے دیگر ہتھکنڈوں کی شدید مذمت کی ہے۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق حریت فورم کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میںکہاکہ رمضان کے بابرکت مہینے میں مقبوضہ وادی کے اطراف و اکناف سے بڑی تعداد میںلوگ سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ پڑھنے کیلئے آتے ہیں لیکن مسجد کے ارد گرد علاقے کو فوجی چھائونی میں تبدیل کرنے کا عمل حالات کو کشیدہ بنانے کا موجب بنتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ کٹھ پتلی انتظامیہ جان بوجھ کر جامع مسجد کے ارد گرد بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کر کے حالات کو درہم برہم کرنے کی مذموم پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

یاد رہے کہ بھارتی فورسز نے جمعہ کے روز سرینگر کے علاقے نوہٹہ میں پر امن مظاہرین کے خلاف پیلٹ چھروں اور آنسو گیس کے گولوں کا بے دریغ استعمال کیا تھا جس کے نتیجے میںدرجنوں افراد زخمی ہو گئے تھے ۔ پندرہ نوجوان آنکھوں میں پیلٹ لگنے سے زخمی ہو ئے تھے جن میں سے دو کی آنکھیں بری طرح سے متاثر ہوئی ہیں۔نوہٹہ ہی کے علاقے میں سرینگر کی تاریخی جامع مسجد واقع ہے ۔ بھارتی فورسز کی طرف چلائے جانے والے آنسو گیس کے کچھ گولے جامع مسجد کے احاطے میں بھی جا کے پھٹے تھے۔