قصور میں ایک مرتبہ پھر سے بچوں سے زیادتی کے کیس میں اضافہ

مقامی پولیس بچوں سے زیادتی کے واقعات کو دبانے لگی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ مئی 13:30

قصور میں ایک مرتبہ پھر سے بچوں سے زیادتی کے کیس میں اضافہ
قصور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔26 مئی 2018ء) : قصور میں ایک مرتبہ پھر سے بچوں سے زیادتی کیسز میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ قصور کے نواحی گاؤں گہلسن ہٹھاڑ میں درندہ صفت ملزمان نے دو معصوم بچوں وک جنسی درندگی کا نشانہ بنایا۔ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والوں میں ایک بچہ حساس ادارے کے اہلکار کا بیٹا اور دوسرا بھتیجا ہے۔ پولیس نے کئی روز گزر جانے کے بعد بالآخر مقدمہ درج کر لیا۔

حساس ادارے کے اہلکار محمد مرتضٰی کی جانب سے پولیس کو تحریری طور پر دئے گئے بیان کے مطابق اس کا سات سالہ بیٹا اور آٹھ سالہ بھتیجا دونوں اے پی ایس اسکول میں زیر تعلیم ہیں، اسکول سے واپسی پر ایک روز گاؤں کے بدقماش ملزم قیوم نے اس نے اس کے بیٹے کو اغوا کر لیا اور کھیتوں میں لے جا کر اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔

(جاری ہے)

بعد میں ایک روز مذکورہ ملزم نے اس کے بھتیجے کو بھی مسجد کے غسل خانے میں لے جا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور بچے کو نازک حالت میں چھوڑ کر فرار ہو گیا۔

اہل علاقہ اور بچوں کے ورثا نے مبینہ طور پر اس امر کی اطلاع قصور پولیس کو کی مگر پولیس نے کارروائی کرنے میں دیر سے کام لیا۔ جب اس بات کی اطلاع محمد مرتضیٰ کو ملی تو وہ چھٹی لے کر گاؤں آیا اور تحریری درخواست لے کر پولیس کے پاس گیا تو پولیس نے دونوں بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کے مقدمات درج کر لیے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم قیوم کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ بچوں کی گمشدگی اور زیادتی کے پھر سے بڑھنے والے واقعات کے خلاف ضلع قصور کے عوام میں سخت غم و غصہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

یاد رہے کہ قصور ویڈیو اسکینڈل کے بعد 8 سالہ ننھی زینب کے ساتھ ہونے والی جنسی درندگی نے پولیس اور اعلٰی حکام کی آنکھیں کھولیں، متاثرہ بچی زینب کا تعلق بھی قصور سے تھا جسے درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر کے لاش کو کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دیا گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے ان واقعات کے خلاف اپنی آواز بلند کی تو چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اس واقعہ کا نوٹس لیا اور بالآخر ملزم عمران کو گرفتار کر کے اسے گھناؤنے جُرم میں پھانسی کی سزا سنائی گئی۔