آئندہ تاریخ میں خوش آئند باب رقم کرنے کے لئے پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر کا پرامن حل نکالیں ، میرواعظ

ہفتہ مئی 15:34

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) کل جماعتی حریت کانفرنس’’’ گ ‘‘ گروپ کے چیئرمین سید علی گیلانی نے لائن آف کنٹرول کے آر پار دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان محاذ آرائی اور معصوم انسانی جانوں کے اتلاف پر اپنے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے ارباب اقتدار پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ متنازعہ سرحد پر روز روز کی خونین جھڑپوں کے دوران عام لوگوں پر پڑنے والے مضر اثرات ، مال و جان کے حوالے سے شدید خطرات اور عدم اطمینان کی کیفیت کا سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کر کے انسانی تاریخ میں ایک نئے خوش آئند باب کو رقم کرنے کے لئے مسئلہ کشمیر کو حقائق کی روشنی میں حل کرنے کا آغاز کرنا چاہئے کیونکہ سرحدوں پر خاک اور خون کی ہولی کھیلنے سے نہ صرف ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں ، بلکہ جموں کشمیر سمیت بھارت اور پاکستان میں بود و باش رکھنے والی انسانی آبادی کو بھی بری طور سے متاثر کر کے رکھ دیا ہے ۔

(جاری ہے)

اپنے ایک بیان میں حریت راہنما نے اس ضمن میں بھارت کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پوری ریاست کو اس کے قابض افواج نے آگ و آہن کی بھٹی میں جھونک دیا ہے لیکن اس کے باوجود لوگ آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کر رہے ہیں ۔۔بھارت اس حقیقت کو جھٹلا رہا ہے اور یہاں کی نوشتہ دیوار پڑنے کے بجائے سڑکوں کے جال بچھانے ، پاور پروجیکٹوں کی تعمیر ، حصول روزگار اور معاشی ترقی کو فروغ دینے جیسے پرفریت نعروں کو ایجاد کر کے عام لوگوں کی توجہ حق خودارادیت کی تحریک سے ہٹائے جانے کی امید لئے بیٹھا ہے حریت راہنما بے بھارت کے ارباب اقتدار کو صلاح دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی سرزمین پر ان پرفریب نعروں کا کوئی خریدار نہیں ہے لوگ حق خودارادیت کی تحریک اپنی تقدیر سازی کے خواب سجا رہے ہیں جس کے حصول کے لئے انہوں نے بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں۔

حریت راہنما نے عام لوگوں کے اندر معاشی ترقی کے حوالے سے موروثی طور پر موجود بھرپور صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری لوگ اپنی معیشت کی قدر کرنا اچھی طرح سے جانتے ہیں اور اس حقیقت سے ہمارے قدرتی وسائل ، جنگلات اور آبی ذخائر کا استحصال کرتے ہوئے ہماری قومی دولت کو دو دو ہاتھوں لوٹتا رہا ہے۔ حریت راہنما نے اس حقیقت کا برملا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ہمیں معاشی ترقی کی طفل تسلیوں سے تحریک حق خودارادیت سے محروم کرنے میں بری طرح سے ناکام ہو چکا ہے ۔ ۔