ہندو خاتون سے دوستی کیوں کی ؟

ہندو کمیونٹی کے کارکن نے مسلم کمیونٹی کے کارکن کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ مئی 16:07

ہندو خاتون سے دوستی کیوں کی ؟
کانپور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔26 مئی 2018ء) : ہندو مسلم منافرت پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے پہلے سے لے کر اب تک بھارت میں اپنے قدم جمائے ہوئے ہے۔ ہندوستان میں مذہبی منافرت کی بنیاد پر کیےجانے والے جرائم میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ حال ہی میں بھارت کے شہر کانپور میں ہندو خاتون سے دوستی کرنے پر مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے نوجوان کو پندو تنظیم کے کارکن نے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ بھارت ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور میں پیش آیا۔ کانپور کا رہائشی 24 سالہ نوجوان اپنی ہندو دوست سے ملاقات کے لیے ریلوے اسٹیشن گیا، جہاں اسے ہندو تنظیم کے کارکنوں نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہی نہیں نوجوان پر تشدد کرنے والے کچھ افراد نے اس تشدد کی ویڈیو بھی بنائی۔

(جاری ہے)

دو منٹ دورانیے کی اس ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ہندو تنظیم کے کارکنوں نے نہ صرف 24 سالہ نوجوان کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اسے دھمکیاں دیں ، ہندو خاتون سے تعلق کے حوالے سے پوچھ گچھ بھی کی اور کہا کہ اسے اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

ویڈیو میں ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ '' تمہاری زندگی اگر برباد نہ کی تو ہم اپنا نام بدل لیں گے''۔ 24 سالہ نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی۔ تاہم تاحال اس کیس کی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ 24 سالہ متاثرہ نوجوان نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ میں اور میری ہندو دوست ایک دوسرے کو کافی عرصہ سے نہیں ملے تھے ، کافی عرصے کےبعد ہم نے ملاقات کرنے کا منصوبہ بنایا اور میں اس سے ملاقات کرنے ہی ریلوے اسٹیشن گیا تھا جب کچھ لوگوں نے مجھے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔