آزاد کشمیر کا ریکارڈ بجٹ پیش کرنے پر وزیر خزانہ ڈاکٹر نجیب نقی اور اُنکی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے، حکومت نے جہاں تمام محکموں پر فوکس کیا وہاں محکمہ تعلیم میں این ٹی ایس کا نفاذ انتہائی قابل ستائش عمل ہے ممبر اسمبلی اسد علیم کا بجٹ تقریر میں اظہار خیال

ہفتہ مئی 16:33

مظفرآباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں بجٹ2018-19 پر جاری عام بحث کے دوران ممبر اسمبلی اسد علیم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ بجٹ پیش کرنے پر وزیر خزانہ ڈاکٹر نجیب نقی اور اُنکی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے میں اُنہیں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اسکے ساتھ ساتھ میاں محمد نواز شریف کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ اُنہوں نے اس خطے کے لیے قابل قدر خدمات سرانجام دیں اور بجٹ میں واضح اضافہ کیا۔

حکومت نے جہاں تمام محکموں پر فوکس کیا وہاں محکمہ تعلیم میں این ٹی ایس کا نفاذ انتہائی قابل ستائش عمل ہے اور آج اساتذہ کی تعیناتیوں کے ضمن میں دیگر سیاسی پارٹیوں کے لوگ بھی معترف ہیں ، کیونکہ این ٹی ایس کے نفاذ کے بعد ہر ایک پر یہ بات عیاں ہو چُکی ہے کہ اب تعیناتیاں پسند و ناپسند کی بنیاد پر نہیں بلکہ قطعی میرٹ پر ہو رہی ہیں اور تعیناتیوں کا معیار اب سیاسی وابستگی نہیں بلکہ قابلیت ہے۔

(جاری ہے)

اُنہوں نے کہا کہ فوڈ اتھارٹی کا قیام بھی انتہائی خوش آئند ہے اور لیب کے لیئے فنڈز کا مختص کیا جانا بھی لائق تحسین ہے۔ وزیر خوراک انتہائی تجربہ کار ہیں امید واثق ہے کہ وہ اعلیٰ طریقے سے اتھارٹی کو ایکٹو کریں گے اور عوام کو کوالٹی فوڈ میسر ہو گا۔اسد علیم ممبر اسمبلی نے مزید کہا کہ جہاں تک سیاحت کا تعلق ہے اسکی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔

نیلم میں ہی دیکھیں جہاں ایک سرکاری گیسٹ ہائوس ہوتا تھا آج متعدد سرکاری اور پرائیویٹ گیسٹ ہائوسز بن چُکے ہیں اور سیاحت کو فروغ مل رہا ہے ۔ سیاحت کے بجٹ میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاحوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دی جائیں ، اُنہیں ہر طرح کی انفارمیشن بآسانی مہیا کی جائے تاکہ وہ مارے مارے نہ پھریں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریٹس کے ضمن میں مکمل چیک رکھے، چاہے وہ ریٹس گیسٹ ہائوسز میں رہائش یا فوڈ کے سلسلہ میں ہیں۔

سیاحوں سے پروقار رویہ رکھا جائے۔ پبلک سروس کمیشن جس پر سے عوام کا اعتماد اُٹھ گیا تھا، ہماری حکومت نے اس ادارہ پر دوبارہ عوام کے اعتماد کو بحال کیا اور اب ناکام ہونے والا امیدوار کسی قسم کی اُنگلی نہیں اُٹھاتا بلکہ مطمئن نظر آتا ہے۔اسطرح انتہائی قابل فخر کام جو ہماری حکومت نے کیا وہ ختم نبوت کے سلسلہ میں تاریخی قانون سازی ہے۔ اسکے لیے ایوان مبارکباد کا مستحق ہے۔اُنہوں نے بجٹ کو اتفاق رائے سے پاس کرنے کی بھرپور تائید کی۔