نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان کے لئے مشاورت جاری ،

وزیراعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان دو سری ملاقات ،پانچ ناموں کی فہرست تیار ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر کا جوڈیشل مجسٹریٹس کے ہمراہ دورہ ڈسٹرکٹ جیل ملیر ڈسٹرکٹ جیل ملیر کے دورے کے دوران 37قیدیوں کی فوری رہائی کا حکم، قیدیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

ہفتہ مئی 16:48

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر مشتاق احمد لغاری نے کہاہے کہ انصاف کی جلد فراہمی کو نچلی سطح تک پہچانا اولین ترجیح ہے اس مقصد کیلئے جج صاحبان ہر ہفتے باقاعدگی سے جیلوں کا دورہ کرکے قیدیوں سے ان کے مقدمات کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ جیل ملیر کے دورے کے موقع پر قیدیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹس آصف رضا میر، غلام اکبر، عتیق الرحمان ، شیر محمد کولاچی ، اصغر علی تانوری ،اظہر علی کلہوڑوکے علاوہ اسسٹنٹ کمشنر زاہد حسین جونیجو اور سائبان کے جنرل سکریٹری حیدر علی حیدر ان کے ہمراہ تھے۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر مشتاق احمد لغاری نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ عید الفطر سے قبل زیادہ سے زیادہ قیدیوں کی رہائی کو ممکن بنایا جائے تاکہ رہائی پانے والے قیدی اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ عید مناسکیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے اس موقع پر 18قیدیوں کو ان کی بقیہ سزائوں کو معاف کرتے ہوئے فوری رہائی کا حکم دینے کے علاوہ 19قیدیوں کے جرمانے کی رقم کی ادائیگی کرکے انہیں بھی رہا کرنے کا حکم دیا اس طرح 37قیدیوں کو فوری رہائی مل گئی اور قیدیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ جرمانے کی خطیر رقم ڈسٹرکٹ جج ملیر مشتاق احمد لغاری، سائبان کے جنرل سکریٹری حیدر علی حیدر، اسسٹنٹ کمشنر زاہد حسین جونیجو اور جیل سپرنٹنڈنٹ ممتاز اعوان نے مل کر ادا کی۔

بعدازاں جج صاحبان نے مختلف بیرکوں کا دورہ کیا جہاں قیدیوں نے اپنے مقدمات میں رکاوٹوں کے بارے میں بتایا اور انہیںدرخواست پیش کیں۔ قیدی صدام حسین ولد راجن نے بتایا کہ وہ 5ماہ سے جھوٹے مقدمے کی وجہ سے جیل میں سزا کاٹ رہا ہے جبکہ جیل میں ہونے کے باوجود تھانہ بن قاسم نے اسے انڈرسیکشن 380کے تحت دوسرا مقدمہ قائم کردیا خدارا جھوٹے مقدمے سے نجات دلاکر اسے انڈرگون کیا جائے۔

قیدی عبدالمجید ولد رمضان نے بتایا کہ وہ 19جنوری 2017سے جیل میں ہے اس پر انڈر سیکشن 324کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا جو کہ ADJ-4ملیر کی عدالت میں زیرسماعت ہے عدالت سے جلد فیصلہ سنانے کی استدعا ہے۔ عبدالرزاق ولد سکندر نے بتایا کہ تھانہ شاہ لطیف ٹائون میں اس پر 23(I)Aاور 392کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے جو کہ AJD-4کی عدالت میں زیرِ سماعت ہے معزز جج صاحب کیس بھی نہیں چلا رہے اور نہ ہی ضمانت پر رہا کر رہے ہیں جس کے باعث وہ پریشان ہے۔

قیدی محمد شان ولد محمد عرس نے کہا کہ اس پر تھانہ سچل نے انڈرسیکشن 380کے تحت مقدمہ قائم کیاہے وہ قبول داری کرنے کو تیار ہے اور اپنے کئے پر شرمندہ ہے اسے رہا کیا جائے۔ قیدی سجن ولد علی جان نے کہا کہ اسے ضمانت کے آرڈر تو دیئے گئے ہیں لیکن شیورٹی کی رقم کو کم کرنے کا حکم دیا جائے۔ قیدی عمران حیات ولد روشن علی نے بتایا کہ وہ ایک سال سے جیل میں ہے ۔

6تاریخوں سے آئی او عدالت نہیں آرہا جس کی وجہ سے اس کا کیس نہیں چل رہا خدارا ضمانت کا آرڈر ہی دیدیا جائے تاکہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ عید منائے۔ قیدی عبیدالرحمان ولد محمد شوکت نے اپنی درخواست پیش کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 14/04/2018سے پابندِ سلاسل ہے تھانہ اسٹیل ٹائون کی پولیس نے راستے میں روکا موٹرسائیکل کے کاغذات چیک کرنے کے باوجود رشوت کیلئے دبائو ڈالا نہ دینے پر جیل بھیجدیا خدارا اسے رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔

قیدی عرفان ولد عبداللہ، ظاہر خان ولد عبدالعلی، نیاز ولد میر خان اور دیگر نے اپنی درخواستوں میں کیس جلد چلانے اور جلد انصاف دلانے کی اپیل کی۔ بعدازاں جج صاحبان نے جیل ہسپتال اور جیل کچن کا بھی دورہ کیا اور مریضوں سے ملاقات علاج معالج کے بارے میں معلومات حاصل کیں جبکہ کچن میں کھانا چیک کیا اور اپنے اطمینان کا اظہار کیا۔