قلیل اسٹاک موجود ہونے کی وجہ سے روئی کا کاروباری حجم بہت ہی کم ہوگیا

اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 100 روپے کا اضافہ کرکے اسپاٹ ریٹ فی من 7500 روپے کے بھا ؤپر بند کیا

ہفتہ مئی 17:09

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز کی جانب سے روئی کی خریداری میں عدم دلچسپی اور جنرز کے پاس بھی روئی کی تقریبا سوا لاکھ گانٹھوں کا قلیل اسٹاک موجود ہونے کی وجہ سے روئی کا کاروباری حجم بہت ہی کم ہوگیا ہے جبکہ بھا ؤمیں بھی مجموعی طورپر استحکام کا عنصر ہے کیوں کہ اچھی روئی کی تعداد بہت ہی کم ہے۔

تاہم صوبہ سندھ کے کپاس پیدا کرنے والے زریں علاقوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق کچھ علاقوں میں پانی کی دستیابی ہونے کی وجہ سے کپاس کی جزوی طور پر بوائی ہوئی ہے اور جن علاقوں میں ٹیوب ویل کے زریعہ پانی دستیاب ہے وہاں پھٹی کی جزوی طور پر آمد شروع ہوگئی ہے۔ اور پھٹی کے سودے بھی ہونے کی اطلاعات ہیں جون کے دوسرے تیسرے ہفتہ کی ڈیلیوری کی شرط پر پھٹی کی تقریبا 12 ٹرکوں کے سودے فی 40 کلو 3500 تا 3550 روپے کے بھا ؤپر ہوئے ہیں جبکہ نئی سیزن کی روئی کا پہلا سودا سندھ کی پھٹی سے تیار ہونے والی روئی کی 200 گانٹھیں بورے والا کی ایک جننگ فیکٹری نے فی من 8100 روپے کے بھا ؤپر فروخت کی ہے۔

(جاری ہے)

جس کی ڈیلیوری جون کے تیسرے ہفتہ میں طے پائی ہے۔ جبکہ بورے والہ کے بنولہ کی چار گاڑیوں کا سودا فی من 1500 روپے کے بھا ؤپر 20 تا 30 جون کی ڈیلیوری کی شرط پر طے پایا ہے۔ گو کہ پانی کی قلت کی سبب کپاس کی بوائی میں تاخیر کی خبریں بدستور موصول ہورہی ہیں لیکن کچھ علاقوں میں تھوڑا پانی دستیاب ہونے اور ٹیوب ویل کی وجہ سے پھٹی تیار ہورہی ہے۔ سندھ میں دو تین اور پنجاب میں بورے والا اور ہارون آباد کی 2 تین جننگ فیکٹریاں سندھ کی پھٹی سے جون میں جزوی طور پر چلنے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔

گزشتہ سال کپاس کے کاشتکاروں کو پھٹی کے مناسب بھا حاصل ہوئے ہیں اور گنے کے کاشتکار مایوس ہونے کی وجہ سے نئی فصل میں کپاس کی پیداوار گزشتہ سال سے زیادہ ہونے کی امید کی جارہی ہے تاہم پانی کی کم یابی کا مسئلہ اپنی جگہ پر ہے۔ گو کہ پنجاب کے محکمہ زراعت آئندہ سیزن میں کپاس کی بوائی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے کاشتکاروں کو رعایتی قیمتوں پر سرٹیفائیڈ بیج فراہم کیا جارہا ہے۔

ہم سب دعا گو ہیں اللہ تعلی ملک کی ساری فصلوں میں برکت عطا فرمائے ۔ نسیم عثمان کے مطابق بین الاقوامی کپاس منڈیوں میں روئی کے بھاؤ میں مجموعی طورپر تیزی کا عنصر غالب رہا۔ صوبہ سندھ و پنجاب میں روئی کا بھاؤ فی من 6000 تا 7400 روپے رہا۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 100 روپے کا اضافہ کرکے اسپاٹ ریٹ فی من 7500 روپے کے بھا ؤپر بند کیا۔

کہا جارہا ہے کہ موجودہ حکومت کی مدت ختم ہونے میں صرف 4 تا 5 روز باقی رہ گئے ہیں ٹیکسٹائل سیکٹر اور برآمد کنندگان کیلئے کئی رعایتی پیکیجز کا اعلان کیا گیا ہے لیکن عملدرآمد کا مسلسل انتظار ہی ہورہا ہے۔ حکومت کی مدت ختم ہوجائیگی اور پیکیجز ہوا میں تہلیل ہوجاینگے ۔دریں اثنا جاتے جاتے FBR نے کئی SRO جاری کر دئے ہیں جس میں یارن کی درآمدی ڈیوٹی میں بھی اضافہ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے APTMA اور ٹیکسٹائل مصنوعات کے اداروں میں کشمکش کا رجحان غالب رہے گا اور--- اور --- موجودہ حکومت ختم ہوجائے گی ساری پالیسیاں- رعایتیں- اربوں روپے کے ریفنڈ دھرے کے دھرے رہ جاینگے۔

متعلقہ عنوان :