ایکسپورٹرز کے مئی 2017تک کے کسٹمز ریبیٹ کی ادائیگیاں کردی گئی ہیں، چیف کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ سائوتھ

ہفتہ مئی 17:09

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) ایکسپورٹرز کے مئی 2017تک کے کسٹمز ریبیٹ کی ادائیگیاں کردی گئی ہیں۔کوشش ہے کہ ادائیگیوں کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہے۔ ریبیٹ کی ادائیگیاں ماہ جون میں بھی کی جائیں گی۔ ماضی میں کسٹمز ریبیٹ کا بیک لاگ 18ماہ پر محیط تھا جسے کم کر کے 11ماہ تک لایا گیا ہے۔یہ 11ماہ کا بیک لاگ بھی فنڈز کی عدم دستیابی کے سبب ہے ۔

فنڈز کی فوری دستیابی کو یقینی بنانے اوربیک لاگ کو کم کرنے کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں۔ہماری خواہش ہے کہ ہم ایکسپورٹرز کو ایک ماہ کے دوران ریبیٹ کی ادائیگیاں کر دیں مگر یہ فنڈز کی فوری دستیابی کے باعث ممکن ہو سکے گا۔اعتراضات کی بنا پر رکے ہوئے فنڈز ایکسپورٹرز کے اعتراضات دور کرنے پر فوری ادا کر دیئے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار منظور حسین میمن، چیف کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ سائوتھ نے پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے دورے کے موقع پر ایکسپورٹرز سے خطاب کے دوران کیا۔

(جاری ہے)

جاوید بلوانی، چیف کوآرڈینٹر پی ایچ ایم اے اور چیئرمین پاکستان اپیرئل فورم کی دعوت پرچیف کلکٹر کسٹمز اپنی ٹیم بشمول کلکٹر کسٹمز ایکسپورٹ ڈاکٹر سیف الدین جونیجو اور کلکٹر کسٹمز ایکسپورٹ محمد ثاقف سعید اور دیگر ایڈیشنل کلکٹرز کے ساتھ ایسوی ایشن کے دورے پر آئے تھے۔ جاوید بلوانی اور دیگر معروف ایکسپورٹرز کی جانب سے متعلقہ امور اور معاملات کے حوالے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات میں انھوں نے کہا کہ ویلیوایڈیڈ ٹیکسٹائل سیکٹر مجموعی اور ٹیکسٹائل ایکسپورٹ کے کثیر حصہ پر مشتمل ہے لہٰذ ا ایکسپورٹس کو ترجیح دینا ضروری ہے۔

ایکسپورٹرز پاکستان میں تیار مصنوعات اقوام عالم میں ایکسپورٹ کرکے ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔ ملکی معاشی اشاریئے، تجارتی خسارہ اور ایکسپورٹ کا حجم تسلی بخش نہیں ہے۔ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ایکسپورٹس کو بڑھایا جائے تاکہ معیشت مستحکم ہو سکے۔ اس ضمن میں ایف بی آر میں فیصلہ سازوں کو سفارشات بھیجی ہیں۔وی باک سسٹم میں متواتر آٹومیشن اور اپ گریڈنگ کے باعث سسٹم فعال ہو چکا ہے۔

ایکسپورٹرز کے کسٹمز ریبیٹ پر اعتراضات سسٹم کے زریعے ایکسپورٹر کو موصول ہوتے ہیں جو ایکسپورٹرز کے بروقت چیک نہ کرنے کے باعث تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اکثر ایکسپورٹرز نے یہ ذمہ داری اپنے کلیئرنگ ایجنٹس کو دی ہوتی ہے جو بروقت ایکسپورٹرز کو اعتراضات کے بارے میں نہیں بتاتے۔انھوں نے کہا جن ایکسپورٹرز کے مئی2017سے پہلے کے کلیمزادا نہیں ہوئے وہ اپنے انفرادی کیس کے ہمراہ متعلقہ کلکٹر سے رابط کریں اور اعتراضات دور کریںتاکہ ان کے ریبیٹ ادا کئے جائیں۔

منظور حسین میمن، چیف کلکٹر کسٹمز نے بتایا کہ ڈی ٹی آر ای قوانین میں ترامیم کی گئیں ہیں۔اب اسکیم کے تحت گارمنٹس مینوفیکچرنگ یونٹس ایکسپورٹ مصنوعات کی تیاری کی خاطر خام مال اور یارن امپورٹ کر سکیں گے اورباہر سے وینڈنگ کی سہولت بھی حاصل کر سکیں گے۔ ایکسپورٹ کنسائنمنٹ میں مصنوعات کی کمپوزیشن اور دستاویز میں فرق صحیح کرنے کے حوالے سے انھوںنے کہا کہ ایسی غلطیوں کو نظر انداز کر دیا جائے گا جن میں ریبیٹ کا فرق20000تک ہو جبکہ اس سے زائد فرق کو چیک کر کے درست کیا جائے گا۔

ایکسپورٹ شپمنٹس کے معائینہ کیلئے پی آئی سی ٹی ، کے آئی سی ٹی اور کیو آئی سی ٹی ٹرمینلز پر معائنہ کیلئے علیحدہ جگہ متعین کرنے کے مطالبے پر انھوں نے بتایا کہ ٹرمینلز پر جگہ کی کمی کی وجہ سے فی الحال ایسا کرنا ممکن نہیں اگر کوئی امپورٹ کی شپمنٹ کیو میں ہو تو بھی ایکسپورٹس کی شپمنٹ کو ترجیح دی جائے گی۔ پہلی ترجیح ایکسپورٹس اور دوسری ترجیح امپورٹس کو دی جائے گی۔

علاوہ ازیں ٹرمینلز پر متعلقہ اسٹاف کی بھی قلت ہے جس کی وجہ سے ایک آدمی تین لوگوں کا کام کرتا ہے۔ تاہم اس ضمن میں تمام کنٹینر ٹرمینلز کے متعلقہ اہلکاروں کی میٹنگ بلائی جائے گی جس میں غور و خوض کے بعد اس کا کوئی حل نکالیں گے۔قبل ازیں جاوید بلوانی ، چیئرمین پاکستان اپیرئل فورم او ر چیف کوآرڈینٹر پی ایچ ایم اے نے چیف کلکٹر کسٹمز کا پی ایچ ایم اے میں خیر مقدم کیا ۔

انھوں نے بتایا کہ ایکسپورٹس کا کردار ملکی معیشت کے استحکام میں ناگزیر ہے۔ ایکسپورٹرز اربوں روپے کے ریفنڈز کلمیز کی ادائیگیاں نہ ہونے کے سبب شدید مالی دشواریوں کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کا رننگ کپیٹل ختم ہو رہا ہے۔کسٹمز سے متعلق امور اور معاملات اجاگر کرتے ہوئے انھوں نے کہا ایکسپورٹرز کے کسٹمز ریبیٹ کی ادائیگیاں جلد از جلد کی جائیں ۔

انھوں نے تجویز دی کہ ریبیٹ کی ادائیگیاں ایکسپورٹ پروسیڈز کے ساتھ کی جائیں۔حکومت امپورٹس پر ایکسپورٹس کو ترجیح دے ۔گیارہ ماہ کے کسٹمز ریبیٹ بیک لاگ پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بیک لاگ دراصل گیارہ نہیں بلکہ چودہ ماہ کا ہے کیونکہ ایکسپورٹ پروسیڈز کو رئیلائز ہونے میں بھی تین ماہ کا عرصہ لگتا ہے۔ انھوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایکسپورٹ ریمٹنس اگر 180یوم میں رئیلائز نہ ہو تو اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکسپورٹرز کو نوٹس جاری کرد یتا ہے جبکہ دوسری طرف اگر ایکسپورٹرز کے ریفنڈز کے کلیمز کی ادائیگیاں قوانین میں درج وقت کے مطابق نہیں ہوتیں اور حکومت ا س طرف توجہ نہیں دیتی۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت امپورٹس پر ایکسپورٹ کو ترجیح دے۔ ایکسپورٹ پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ ایکسپورٹ مصنوعات کی شپمنٹس کے ایگزامینیشن یعنی معائنہ کیلئے تمام کنٹینر ٹرمینلز یعنی پی آئی سی ٹی، کے آئی سی ٹی، کیو آئی سی ٹی اور ایس اے پی ٹی پر علیحدہ ایریا ہونا چاہئے ۔ اس وقت امپورٹ اور ایکسپورٹ شپمنٹس کا معائنہ ایک ہی جگہ پر ہوتا ہے۔

ایکسپورٹرز کو معائنہ اوقات میں بھی دشواری ہوتی ہے۔رات میں پی آئی سی ٹی، کے آئی سی ٹی اور ایس اے پی ٹی پر معائنہ کی سہولت میسر نہیں۔جبکہ کیو آئی سی ٹی پر صرف رات میں معائنہ کی سہولت میسر ہے۔لہٰذا دن او ر رات تمام کنٹینر ٹرمینلز پر ایکسپورٹ شپمنٹس کے معائنہ کی سہولت فراہم کی جائے اور معائنہ کاروں کی تعداد کو بھی بڑھایا جائے۔انھوں نے معائنہ کے بعد ری پیکنگ سسٹم کو بھی بہتر بنانے پر زور دیا اورکہا کہ کیوآئی سی ٹی پر ری پیکنگ سسٹم بہتر ہے جس کا اطلاق دیگر کنٹینر ٹرمینلز پر بھی کیا جائے۔

انھوں نے بتایا کہ دوران معائنہ ایکسپورٹ کنسائمنٹ کی کمپوزیشن مثال کے طور پر 60/40کاٹن پولیسٹر کا کنسائمنٹ اور دستاویز میں فرق آجائے، اگر ریبیٹ کے ریٹ میں کوئی فرق نہ ہو اور ریوینیو کا نقصان نہ ہو تو ایسے اعتراض کونظرانداز کرنا چاہئے۔اسی طرح انسانی غلطی کی وجہ سے اگر وزن کی سسٹم میں غلط انٹری کر دی گئی ہے تو کوئی مکینزم بنا کر اسے درست کیا جائے تاکہ ایکسپورٹ شپمنٹ تاخیر کا شکار نہ ہوں۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ جی ڈی بھی چوبیس گھنٹوں میں جاری کر دی جائے۔ علاوہ ازیں ڈی ٹی آر ای اسیکم کو آسان بنایا جائے اور اس کا فائدہ مینوفیکچررز کم ایکسپورٹرز اسٹچنگ یونٹس کو دیا جائے جس کے تحت ایکسپورٹس کیلئے بنائی جانے والی مصنوعات کی خاطر خام مال اور یارن امپورٹ کرنے کی اجازت ہو۔انھوں نے کہاکہ وی باک سسٹم میں ایکسپورٹرز کو تمام مقامی طور پر خریدی گئی اشیاء کولائسنس، اینالسس کارڈ اور گڈز ڈکلریشن کیلئے ڈکلیئر کرنا ضروری کردیا گیا ہے جو دقت کا باعث ہے لہٰذ ا مزکورہ قوانین میں ترمیم کر کے اس شرط کو ختم کیا جائے۔

اجلاس میں محمد زبیر موتی والا، چیئرمین، کونسل آف آل پاکستان ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنز، طارق منیر، چیئرمین، پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن، عبدالجبار گاجیانی، سینئر وائس چیئرمین ، جنید ماکڈا، ڈپٹی چیف کوآرڈینیٹر ، عرفان باوانی سابق چیئرمین پی ایچ ایم اے، سلیم پاریکھ، چیئرمین، آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن، معروف ایکسپورٹرز ثاقب بلوانی، فواد عثمان اور دیگر ایکسپورٹرز نے شرکت کی اور اظہار خیال کیا۔

متعلقہ عنوان :