خطہ پوٹھوہار میں سالانہ 3.5ملین ایکڑ فٹ پانی ضائع ہوجاتا ہے

ہفتہ مئی 17:27

راولپنڈی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) زرعی ماہرین نے کہاہے کہ خطہ پوٹھوہار میں بارشی پانی کو ذخیرہ کرنے کے ناکافی وسائل کے باعث سالانہ 3.5ملین ایکڑ فٹ پانی ضائع ہوجاتا ہے اور بڑے پیمانے پر زمینی کٹائو کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ،خطہ پوٹھوہار میں سیکڑوں سمال ڈیمز کے ساتھ ساتھ مزید6000منی ڈیمز کی تعمیر کی گنجائش موجود ہے جوکہ کسانوں کی تقدیر بدل دیں گے ، ۔

زرعی ماہرین کے مطابق خطہ پوٹھوہار مں بڑی تعداد میں منی ڈیمز بنانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ایک اندازے کے مطابق خطہ پوٹھوہار میں ہر سال 1.88ملین ایکڑ فٹ بارشی پانی ضائع ہو جاتا ہے جبکہ صرف 12فی صد یا 0.22ملین ایکڑ فٹ پانی ہی سمال ڈیمز و منی ڈیمز کے ذریعے محفوظ کیا جا سکتا ہے ۔ ماہرین نے کہاکہ خطہ میں پانی کی آمد زیادہ جبکہ ذخیرہ کرنے کی استعدا د کار کم ہونے کی وجہ سے پانی کا ضیاع ہو رہاہے جس پر توجہ کی خاص ضرورت ہے ۔

(جاری ہے)

اسی طرح منی اور سمال ڈیمز کے قیام کی بدولت نہ صرف زمینی کٹائو روکا جاسکتا ہے بلکہ ضائع ہونے والے پانی کا سود مند استعمال کر کے زرعی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پانی کے ذخائر کی بدولت زیر زمین پانی کی سطح بلند کرنی(واٹر ری چارجنگ ) میں بھی از حد معاونت حاصل کیا جا سکتی ہے ۔ماہرین نے کہاکہ زرعی زمینوں کی آبادکاری سے دیہی علاقوں سے آبادی کی شہروں کو نقل مکانی ازخود رک سکتی ہے کیونکہ دیہی علاقوں میں ہی روزگار کے مواقع میسر ہوں گے ۔

ڈائریکٹر شعبہ تحفظ اراضیات محکمہ زراعت پنجاب غلام اکبر ملک نے قومی خبر ایجنسی کو بتایا کہ پنجاب حکومت نے گذشتہ دوبرس میں کسان پیکیج کے تحت پوٹھوہار ریجن میں 102 منی ڈیمز، 174 پانی محفوظ کرنے کے لئے تالاب، 39 واٹر ٹینکس، 192 سپل ویز، 198 آئوٹ لٹس، 81 پشتہ جات اور 29 بند بنائے اور ان تمام سکیموں پر 80 فیصد سبسڈی دی گئی۔ اس کے علاوہ رعائتی قیمت پر کاشتکاروں کی ناہموار زمین کو بلڈوزروں کے ذریعے ہموار کر کے قابل کاشت بنا یا گیا۔

غلام اکبرملک نے قومی خبررساں ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے بتایاکہ پانی کے ذخائر کے قیام اور زمینی کٹائو کے روک تھام کے اقدامات کی بدولت کسان پیکیج کے تحت پوٹھوہار ریجن میں 32 ہزار 1 سو 90 ایکڑ رقبہ کو قابل کاشت بنایا گیا ۔ اس سے پہلے بھی شعبہ تحفظ اراضی محکمہ زراعت پنجاب کی طرف سے 1200 سے زائد منی ڈیمز بنائے گئے تھے۔ انہو ں نے اے پی پی کو بتایاکہ منی ڈیمز اور تالابوں کی تعمیر سے موسمیاتی تبدیلیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوئے اور ان اقدامات کی بدولت زیر زمین پانی کی سطح بلند ہو نا شروع ہو گئی ہے جبکہ ان علاقوںمیں روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں اور ماہی پروری اور گلہ بانی کے شعبے کو تقویت مل رہی ہے ۔ یہ اقدامات دیہی ترقی کے لئے بہت بڑی مثبت تبدیلی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :