سیز فائر لائن پر بھارتی فائرنگ اہم مسئلہ ، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ آزاد کشمیر حکومت کو اٹھانا چاہیے، سردار عتیق احمد

آزاد حکومت کو وفاقی حکومت کے پاس سیز فائر لائن سے متعلق پیکیج میں حصہ لینے کی کوشش کرنی چاہئے،مہاجرین کیمپوں کا احوال معلوم کرنے کیلئے حکومتی وزراء کو یہاں کا دورہ کرنا چاہیے، بڑے حجم کا بجٹ پیش کرنے پر وزیر خزانہ ، محکمہ مالیات اور منصوبہ بندی و ترقیات کو مبارکباد دیتا ہوں، سابق وزیراعظم کا بجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال

ہفتہ مئی 18:18

مظفر آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ مسئلہ کشمیر کشمیریوں کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کا کیس ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ آزاد کشمیر حکومت کو اٹھانا چاہیے ۔

انہوں نے کہاکہ سیز فائر لائن پر بھارتی فائرنگ بھی ایک اہم مسئلہ ہے ۔ وفاقی حکومت کے پاس 11ارب روپے کا سیز فائر لائن سے متعلق ایک پیکیج ہے جس سے حصہ لینے کیلئے آزاد حکومت کو کوشش کرنی چاہیے تاکہ سیز فائر لائن کے قریب بسنے والے لوگوں کیلے حفاظتی بنکرز کی تعمیر ، میڈیکل سہولیات اور سستی کھانے پینے کی اشیاء کا بندوبست ہو سکے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ حریت کانفرنس مقبوضہ کشمیر کی قیادت کو آزادکشمیر آنے کی دعوت دیں ۔

حریت کانفرنس کی قیات کو ماضی میں بلایا جاتا رہا جس کا بڑا مثبت اثر تحریک آزادی پر پڑا ۔ انہوں نے کہاکہ مہاجرین کیمپوں کا احوال معلوم کرنے کیلئے حکومتی وزراء کو یہاں کا دورہ کرنا چاہیے ۔ بڑے حجم کا بجٹ پیش کرنے پر وزیر خزانہ ، محکمہ مالیات اور منصوبہ بندی و ترقیات کو مبارکباد دیتے ہیں ۔ ختم نبوت کی قانون سازی پر بھی مبارکباد دیتے ہیں ۔

این ٹی ایس نافذ کرنے پر بھی مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ایکٹ74ہمارے بڑے سینئر لوگوںنے بنایا ہے ۔ 1985سے لیکر آج تک مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان اور سردر سکندر حیات خان اور میری وفاقی حکومت کے ساتھ خط وکتابت موجود ہے ۔ آزاد جموں وکشمیر کونسل کو ختم نہیںکیا جا سکتا اس کو ختم نہیں ہونا چاہیے ۔ اس کے مالیاتی اختیارات کم ہو سکتے ہیں ۔

آزاد خطہ ایک نظریاتی خطہ ہے یہاں کے باسیوں نے قیام پاکستان سے قبل ہی اپنا مستقبل پاکستان سے وابستہ کیا تھا۔ اصلاحات کے ایجنڈے سے سار ی جماعتیں اتفاق رائے کیلئے تیارہیں اس کا مسودہ تمام جماعتوں کو بھی دکھایاجائے ۔ انہوںنے کہاک پاک فوج کا ملک سے دہشتگردی ختم کرنے میں بہت بڑا کردار ہے ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان چاروں طرف سے مشکلات میں گھرا ہو ا ہے جس کو پاک افواج نے بچا کر رکھا ہوا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ مہاجرین جموں وکشمیر کے ووٹوںکے بغیر ریاست نامکمل ہے ۔ مہاجرین کے ووٹوں کا تحفظ ہونا چاہیے ۔ ان کیلئے ترقیاتی فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔ مہاجرین کی بے چینی کو دور کیا ۔ نیلم جہلم ٹرانسمیشنلائن کے متاثرین کو معاوضہ دیا جائے ۔ ضلع باغ کی سڑکوں کی تعمیر کی جائے ۔ نیلم جہلم منصوبے میں بھرتی پولیس اہلکاران کومستقل کیا جائے۔

محکمہ اکلاس کے ملازمین کے واجبات ادا کیے جائیں۔ آئی ٹی کے ایڈھاک ملازمین کومستقبل کیا جائے ۔ اے جے کے ٹیلی ویژن کے ملازمین کو مستقل کرایا جائے ۔ سنٹرل ٹورازم ڈیپارٹمنٹ قائم کیا جائے ۔ پولیس ملازمین کی اپ گریڈیشن کا مسئلہ حل کیا جائے ۔ قائد حزب اختلاف چوہدری محمد یاسین نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ حکومت نے اپوزیشن ارکان سے جتنی بھی کمٹمنٹس کیں پوری نہیں کی گئیں اور اپوزیشن کو دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش کی گئی ۔

انہوں نے کہاکہ آئینی ترامیم مسودہ پر اتفاق رائے کیلئے آل پارٹیز کانفرنس بلائیں ۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کا صرف ایک کام ہے جس پر یہ مبارکباد کی مستحق ہے وہ ختم نبوت کا بل ایوان سے پاس ہونا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ 1985سے بلا تخصیص سب کا احتساب کیا جائے ۔ پن بجلی آزاد کشمیر کا اہم شعبہ ہے آزادکشمیر کو قدرت نے پن بجلی کے بے پناہ وسائل سے نوازا ہے ۔ وزیر اعظم ہائیڈل کا محکمہ کسی وزیر کو دیں یہ محکمہ وقت مانگتا ہے ۔ محکمہ صحت کیلئے مزید فنڈز مختص کرنے کی ضرورت ہے ۔ حکومت اپنا ہیلی کاپٹر خریدے۔ حکومت پولیس ملازمین کو رسک الائونس دے ۔ حکومت کو یہ بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔