تمام مسائل کا حل سیاستدانوں کو اتفاق رائے سے نکالنا چاہیے ،ْ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے آئندہ 20برسوں کیلئے بجلی کا انتظام کر لیا ہے ،ْ تھر میں آئندہ سال کوئلے سے بجلی کی پیداوار شرو ع ہوگی ،ْ قوم کے سامنے دعوئوں اور کام فرق واضح ہے ، ایک طرف خدمت ، شرافت اور پاکستان کی ترقی کی سیاست ہے ،ْ دوسری طرف گالم گلوچ کی سیاست ہے ،ْ جولائی میں الیکشن میں فیصلہ بھی عوام کرینگے ،ْ عوام کاووٹ اگر ضائع ہوگیا تو انہیں پچھتانا پڑے گا ،ْ تقریب سے خطاب

ہفتہ مئی 19:35

تمام مسائل کا حل سیاستدانوں کو اتفاق رائے سے نکالنا چاہیے ،ْ وزیر اعظم ..
لله- کوٹ مٹھن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ تمام مسائل کا حل سیاستدانوں کو اتفاق رائے سے نکالنا چاہیے ،ْ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے آئندہ 20برسوں کیلئے بجلی کا انتظام کر لیا ہے ،ْ تھر میں آئندہ سال کوئلے سے بجلی کی پیداوار شرو ع ہوگی ،ْ قوم کے سامنے دعوئوں اور کام فرق واضح ہے ، ایک طرف خدمت ، شرافت اور پاکستان کی ترقی کی سیاست ہے ،ْ دوسری طرف گالم گلوچ کی سیاست ہے ،ْ جولائی میں الیکشن میں فیصلہ بھی عوام کرینگے ،ْ عوام کاووٹ اگر ضائع ہوگیا تو انہیں پچھتانا پڑے گا۔

وہ راجن پور کے علاقہ کوٹ مٹھن میں این 55 اور این 5 کو ملانے والے پل کا افتتاح کرنے بعد منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔ شہید بے نظیر بھٹو پل دریائے سندھ پر تعمیر کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

دریائے سندھ پر تعمیر کیا جانے والے بے نظیر بھٹو شہید پل کا منصوبہ جی ٹی روڈ پر واقع ظاہر پیر (این 5) اور انڈس ہائی وے (این55) پر واقع کوٹ مٹھن کو ملانے میں معاون ثابت ہوگا۔

اس پل کی تعمیر سے ملک کے کئی شہروں کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس سے کراچی اور کشمور سمیت رحیم یار خان ، بہاولپور ، ملتان ، فیصل آباد اور لاہور کے درمیان فاصلے کو بھی کم کیا جا سکے گا۔ یہ منصوبہ علاقے کی عوام کا قدیمی مطالبہ تھا جس کی تکمیل سے دریائے سندھ کے دونوں جانب واقع علاقوں اور شہروں کی معاشی ترقی میں مدد ملے گی۔

یہ پل 1.2کلو میٹر طویل ہے جبکہ اس کی چوڑائی 12.2میٹر ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ محمد نواز شریف کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے عوام کی خدمت کی ۔ ہم نے پاکستان مضبوط کیا اور اسے ترقی کی شاہراہ پر گامزن کیا۔آج جس منصوبے کا افتتاح کیا گیا ہے وہ آپ کے سامنے ہے ، اس منصوبے پر آٹھ ارب روپے خرچ ہوئے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ منصوبہ پچھلی حکومت کے دور میں شروع ہوا تھا ، ماضی میں جو منصوبے شروع کئے جاتے تھے اس کیلئے نہ کوئی منصوبہ بندی ہوتی اور نہ ہی اس کیلئے فنڈز مختص کئے جاتے ، محض اعلانات کئے جاتے تاکہ عوام کو بے وقوف بنایا جاسکے ۔

محمد نواز شریف کی حکومت واحد حکومت تھی جس نے نا صرف پرانے منصوبے مکمل کئے بلکہ نئے منصوبے بنائے اور انہیں پائیہ تکمیل تک پہنچایا ۔ آج جس منصوبے کا افتتاح ہوا ہے اس کے دونوں اطراف کی سڑکیں مکمل ہیں اور اس سے کئی علاقوں کو ایک دوسرے ساتھ ملایا گیا ہے ۔ پل پار کرنے کے بعد موٹر وے کی سہولت میسر ہوگی جس کے ایک حصہ کا آج افتتاح کر دیا گیا ہے۔

منصوبے سے اس علاقے سے کراچی تک سفر سات گھٹنے ، لاہور چار اور ملتان دو گھنٹوں کی مسافت پر آجائیگا۔ یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جس سے علاقے کی تقدیر بدل جائیگی ۔ سفر سہولیات کی بہتری سے علاقوں میں تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں ۔۔وزیراعظم نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے دس برسوں میں جتنا کام کیا ہے وہ 60برسوں میں نہیں ہوسکاہے ۔یہ وہ ترقی ہے جو ماضی میں ہوتی تو ہم کافی پیشرفت کرچکے ہوتے ۔

2013ء میں پاکستان کے عوام نے ایک فیصلہ کیا جس کے نتیجہ میں ملک میں ترقی کا سفر جاری ہوا۔ 2013ء میں ملک میں بجلی اور گیس کا بحران تھا ہم نے پانچ سالوں میں منصوبہ بندی کی ۔ وسائل کو بروئے کار لایا گیا اور ان مسائل کو حل کیاگیا جو پاکستان کے عوام کو درپیش تھے ۔ آج اللہ کے فضل و کرم سے قومی گرڈ میں 10400میگاواٹ بجلی شامل کر دی گئی ہے ، کچھ مشکلات اب بھی ہیں لیکن وہ 2013ء کی مشکلات سے کم ہیں ، وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے آئندہ 20برسوں کیلئے بجلی کا انتظام کر لیا ہے ۔

تھر میں آئندہ سال کوئلے سے بجلی کی پیداوار شرو ع ہوگی۔ وزیر اعظم نے واضح طور پر کہا کہ اگر پاکستان نے ترقی کرنی ہے تو صرف جمہوریت کی وجہ سے ترقی کرے گا۔۔جمہوریت میں فیصلہ ملک کے عوام کرتے ہیں ، جولائی میں پاکستان کے عوام نے ایک فیصلہ کرنا ہے، عوام کے پاس بہت سے لوگ آئیں گے انکے پاس نعرے اور دعوے ہونگے مگر لوگوں نے انہیں پرکھنا ہے ۔

وزیر اعظم نے کہاکہ گزشتہ انتخابات میں جنوبی پنجاب صوبہ کے حوالے سے بات کی گئی ، وہ لوگ یہ بھول چکے تھے کے اس ضمن میں پنجاب اسمبلی کی ایک قرار داد موجود ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں قومی اتفاق رائے کو فروغ دیا جائے اور اہم مسائل پر قومی اتفاق رائے حاصل کی جائے ۔ بہاولپور کے علاوہ دیگرعلاقوں میں بھی نئے صوبوں کے حوالے سے مطالبات موجود ہیں جو قومی اتفاق رائے مانگتے ہیں۔

قومی اتفاق رائے کا حصول سیاستدانوں کا کام ہے ، اگر آپ نے پانچ برس دھرنوں ، گالم گلوچ اور الزامات میں نہ گزارے ہوتے ، اگر آپ اسمبلی میں آتے اور اس حوالے سے کام کرتے ، قرار داد لاتے تو کافی پیشرفت ہوتی ۔ ان لوگوں نے جنوبی پنجاب کیلئے کچھ نہیں کیا ہے ، شہباز شریف نے جنوبی پنجاب کیلئے گزشتہ دس برسوں میں جتنا کام کیا ہے یہ اگر آپ مل کر گزشتہ 60برسوں میں نہیں کرسکے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ الزامات اور خدمت کی سیاست میں فرق ہے ۔ پاکستان کی عوام نے خود دیکھا کے فاٹا کے شہریوں کی اکثریت پاکستان کا قانون چاہتے تھے ، ہم نے کوشش کی اوراس پر قومی اتفاق رائے حاصل کیا۔ قومی اتفاق رائے کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت سے بل کی منظوری دی گئی ۔ اگر ہم نے نئے صوبے بنانے ہیں تو بھی اسی طرح قومی اتفاق رائے سے بنیں گے ۔

دیگر معاملات بھی اسی طرح قومی اتفاق رائے سے حل کئے جائیں گے۔ سیاسی جماعتیں اور قیادت قوم کے سامنے ہیں ، قوم کے سامنے دعووں اور کام فرق واضح ہے ، ایک طرف خدمت ، شرافت اور پاکستان کی ترقی کی سیاست ہے جبکہ دوسری طرف گالم گلوچ کی سیاست ہے ۔ فیصلہ عوام نے کرنا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جن لوگوں نے سیاسی وفاداریاں تبدیل کیں ہیں اس سے پاکستان یا پاکستان کی سیاست کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا ۔

پاکستان کے عوام اس طرح کے لوگوں کو عزت کے قابل نہیں سمجھتے ، جولائی میں پاکستان کے عوام نے اپنی قسمت کا فیصلہ کرنا ہے ، یہ ایسا فیصلہ ہوگا جو پاکستان کو ترقی راہ پر گامزن کر ے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے جتنے منصوبے اور جتنے ترقیاتی کام کئے ہیں اسکی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔انہوں نے کہاکہ راجن پور ، فاضل پور اور دیگر علاقوں میں گیس کی فراہمی میں مشکلات کا دور کیاجائیگا ۔

پاکستان کے ہر اس ضلع میں جہاں یونیورسٹی نہیں وہاں یونیورسٹی بنائیں گے یہ عوام کا حق ہے جو انہیں ہر صورت میں ملے گا۔ ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں لوگوں کو مایوسی نہیں ہوگی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں خنجراب سے گوادر اور کراچی سے پشاور تک سڑکوں اورموٹرویزے کے منصوبے مکمل ہوئے ۔ یہ عوام کے اس فیصلے کا نتیجہ تھا جو انہوں نے 2013ء میں ووٹ کی پرچی کی شکل میں مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کا اظہار کر کے دیا تھا۔

جولائی میں پاکستان کے عوام نے ایک بار پھر پاکستان مسلم لیگ (ن) پر اپنے اعتمادکا اظہار کرنا ہے کیونکہ عوام کاووٹ اگر ضائع ہوگیا تو انہیں پچھتانا پڑے گا ۔ 2008ء کے انتخابات میں عوام نے ایک فیصلہ کیا تھا وہ پوری قوم کو یاد ہے ۔اس لیے عوام کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہئے۔