نظام اور اداروں کو درست کئے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں،پرویزخٹک

دُنیا میں کونسا ایسا ملک ہے جہاں ڈالر درختوں پر اُگتے ہوں، دُنیا کے پاس بھی وہی وسائل ہیں جو ہمارے پاس ہیں پھر ہم ترقی میں پیچھے کیوں رہ گئے ہم عوام کے استحصال ،گھسے پٹے نظام پر سمجھوتہ کیوں کئے ہوئے ہیں، پاکستان مقروض ترین ممالک میں آگے ہے اس پر ظلم یہ قرض واپس کرنے کا بھی کوئی پلان موجود نہیں،وزیراعلی خیبرپختونخوا کاتقریب سے خطاب

ہفتہ مئی 19:56

نظام اور اداروں کو درست کئے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں،پرویزخٹک
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ نظام اور اداروں کو درست کئے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں ۔ دُنیا میں کونسا ایسا ملک ہے جہاں ڈالر درختوں پر اُگتے ہوں۔ دُنیا کے پاس بھی وہی وسائل ہیں جو ہمارے پاس موجود ہیں پھر ہم ترقی میں پیچھے کیوں رہ گئے ہم عوام کے استحصال اور گھسے پٹے نظام پر سمجھوتہ کیوں کئے ہوئے ہیں۔

پاکستان مقروض ترین ممالک میں آگے ہے اس پر ظلم یہ کہ قرض واپس کرنے کا بھی کوئی پلان موجود نہیں۔ نااہل حکمرانوں کی ترقی کا ڈھونڈرا پیٹنے کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں ۔ ہم دُنیا کے سامنے آنکھیں نہیں اُٹھا سکتے ۔ چوراور کرپٹ ہماری پہچان بن چکی ہے جس کے ذمہ دار ہمارے مفاد پرست اور نااہل سیاست دان ہیںجو 70 سال گزرنے کے باوجود عوام کو بنیادی سہولیات تک نہیں دے سکے ۔

(جاری ہے)

اب عوام کو اپنی ترقی و خوشحالی اور مستقبل کیلئے اپنی ترجیحات بدلنی ہو ں گی ۔ نمائندے تبدیل کرنے ہوں گے ۔ صرف جذبات پر مبنی وابستگی کافی نہیں ۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ہمارے مسائل کا خاتمہ ہو ، حقدار کو حق ملے اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو تو ہمیں ایماندار لیڈر کو آگے لانا ہو گا۔یہی واحد راستہ ہے جو ہمیں اقوام عالم میں سرخر و کر سکتا ہے ۔

یہ ایسی ناقابل تردید حقیقت ہے جس پر ترقیافتہ دُنیا کی تاریخ شاہد ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے ضلع ہری پور میں2 ارب 65 کروڑ روپے کی مجوزہ لاگت سے 22 کلومیٹر طویل ہری پور ۔حطار ۔ ٹیکسلا روڈ کی تعمیر نو و بحالی اور2 ارب 6 کروڑ روپے کے تخمینہ لاگت سے لورہ سے جبڑی کوہالہ روڈ کی تعمیر کے منصوبوں کی افتتاحی تقاریب/ جلسوں اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ہری پور میں بار کی نو منتخب کابینہ کی حلف برداری کی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

پی ٹی آئی کے مقامی رہنما عمر ایوب خان، یوسف ایوب خان، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات اکبر ایوب خان، ضلعی صدر پی ٹی آئی راجہ احتشام ، اُمیدوار برائے صوبائی اسمبلی ارشد ایوب خان ، قمر حیات اورہمایوں خان نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی حکومت نے صوبہ بھر میں عوامی آسانی کیلئے تاریخی ترقیاتی کام کئے ہیں۔

انہوںنے حطار ، ہری پور ، ٹیکسلا روڈ کے افتتاح پرعوام کو مبارکباد دی اور کہاکہ یہ پراجیکٹ اُن چند پراجیکٹس میں سے ایک ہے جس کو مکمل فنڈ دیئے جاچکے ہیں۔ یہ منصوبہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے تعمیر کیا جارہاہے جس پر معاہدہ ہو چکاہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ عوامی نمائندوں پر منحصر ہو تا ہے کہ وہ کس قدر کام کرنے کا جذبہ اور تجربہ رکھتا ہیں۔

انہوںنے کہاکہ نمائندے سب کے ہوتے ہیں مگر نمائندوں نمائندوں میں فرق ہو تا ہے اگر عوام کا منتخب کردہ نمائندہ باشعور ہو متعلقہ قوانین ، اداروں یا فورمز تک رسائی رکھتا ہو ، کام کرنا جانتا ہو، عوام کی تکالیف کا درد رکھتا ہو تو ترقی کے راستے نکل آتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر عوام کے نمائندے یا رہنما جو عوام کے منتخب کردہ ہوتے ہیں مفاد پرست ہوں ، اپنی ذات کے حصار سے باہر نہ نکلیں تو اُن کی اپنی زندگی تو شاہانہ انداز رکھتی ہے مگر عوام کیلئے کچھ نہیں کر پاتے ۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ عوام کو چاہیے کہ وہ صرف جذبات پر مبنی سیاسی وابستگیوں کی بجائے زمینی حقائق کے مطابق فیصلہ کریں اپنے مستقبل کی فکر کریں اور صرف ایماندار قیادت اور نمائندوں پر اعتماد کریں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ 70 سال گزرنے کے باوجود پاکستان کے عوام پانی،، بجلی،، گیس ، تعلیم،،صحت اور انصاف جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

سوال پیدا ہو تا ہے کہ عام آدمی کب تک اس طرح ذلیل ہو تا رہے گا ،کب تک عوام سرمایہ داروں کے مرہون منت رہیں گے ۔ کیا یہ ملک جاگیر داروں کی میراث ہے ۔ یہ وہ کڑک سوالات ہیں جن کے جوابات ہمیں تلاش کرنا ہوں گے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان مسائل کا خاتمہ اورقومی خوشحالی کے راستے نکالنا کوئی پیچید ہ سائنس نہیں یہ کام بڑی آسانی سے ہو سکتا ہے مگر اس کے لئے ایماندار قیادت چاہیئے جو قوم کو شفاف نظام دے سکے اور اداروں کو خدمات کی انجام دہی کے قابل بنا سکیں۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ پاکستان میں آج تک جتنی بھی سیاسی پارٹیاں آئیں اُن کا کوئی منشور ہی نہیں تھا ۔ کو ئی ایجنڈا نہیں تھا ملک قرضوں پہ چلتا رہا اور ووٹ دیتے ہوئے کبھی کسی نے نہیں سوچا کہ ہم جسے ووٹ دے رہے ہیں اُس کا ایجنڈا کیا ہے ۔ عمران خان نے پہلی بار عوام کے حقوق کی جنگ لڑنے اور پاکستان کو کرپٹ مافیا سے آزاد کرانے کیلئے آواز بلند کی ۔

22 سال سے نظام کی تبدیلی کیلئے اور ملک سے چوری کے خاتمے کیلئے جدوجہد کر رہا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ عمران خان کی بات اسلئے نہیں کررہے ہیں کہ وہ ہمار ا لیڈر ہے بلکہ ہم چیلنج کرتے ہیں کہ آج تک کسی پارٹی نے بھی الیکشن میں دیئے گئے منشور پر عمل نہیں کیا ۔ اس صوبے کی بھی تاریخ ہے کہ کوئی پارٹی دوبارہ حکومت نہیں بنا سکی ۔ وجہ یہی ہے کہ عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے کسی نے کام نہیں کیا۔

واحد تحریک انصاف ہے جس نے اپنے ایجنڈے کے مطابق عوام کو سہولیات کی فراہمی اور نظام کی تبدیلی کیلئے دستیاب وسائل کے مطابق ہر ممکن اقدامات کئے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج حالات ماضی سے مختلف ہیں اورپی ٹی آئی بدستو ر عوام کی مقبول ترین جماعت ہے دو ماہ کے بعد ہمارے اقدامات کے نتائج بھی سامنے آجائیں گے ۔ پی ٹی آئی دوبارہ برسر اقتدار آکر عوامی تکالیف سے بے بہرہ نااہل حکمرانوں کی چوری چکاری کا صفایا کرکے قوم کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرے گی ۔