سعودی خواتین اپنے معاشی معاملات کا کنٹرول خود اپنے ہاتھ میں رکھنے کی راہ پر گامزن

muhammad ali محمد علی ہفتہ مئی 19:22

سعودی خواتین اپنے معاشی معاملات کا کنٹرول خود اپنے ہاتھ میں رکھنے کی ..
جدہ:(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 26 مئی 2018ء) سعودی عرب میں خواتین اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی سے جُڑے مالی معاملات کا کنٹرول خود اپنے پاس رکھنے کی راہ پر چل نکلی ہیں۔ اُن میں مالی معاملات سے نمٹنے کا شعور بہت تیزی اُجاگر ہوا ہے۔جس کے باعث اُن کی اگلی خواتین نسل میں کاروباری معاملات چلانے کا شعور آج کی نسبت بہت زیادہ موجود ہو گا۔

ان خیالات کا اظہار برطانوی مالیاتی امور کے ماہرایمی برائنٹ نے ایک تقریب کے دوران کیا۔ ایمی برائنٹ جرسی فنانس نامی ادارے کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفسر ہیں۔ اسی ادارے کی جانب سے خواتین میں مالیاتی معاملات کے بارے میں شعور و آگاہی بڑھانے کے لیے اس تقریب کا اہتمام کیا گیاتھا۔یہ تقریب خصوصی طور پر صرف خواتین کے لیے منعقد کی گئی تھی۔

(جاری ہے)

ایمی برائنٹ کا کہنا تھا کہ اس تقریب کا انعقاد سعودی خواتین کی جانب سے روز بروز بڑھتے ہوئے مطالبے کی کڑی ہے جس کے تحت وہ مستقبل میں اپنے معاشی معاملات میں خود مختاری سے فیصلہ کرنا چاہتی ہیں۔

ابھی اس حوالے سے اُنہیں خود پر بہت محنت کرنا ہو گی مگر اُنہوں نے اس مقصد کے لیے سیکھنے اور جاننے کے خواہش کا اظہار کر دیا ہے۔ ایمی برائنٹ مزید یہ کہا کہ اُن کا ادارہ سعودی خواتین کو باشعور کرنے کے اور اُنہیں مالی معاملات میں اپنے فیصلے آپ لینے کی غرض سے مالی طور پر بھرپور تعاون کر رہا ہے۔ اس تقریب میں خواتین کے معاشی معاملات سے نبرد آزما ہونے‘ بیرونِ مُلک اکاؤنٹس کا انتظام چلانے سے متعلق سُوجھ بُوجھ حاصل کرنے‘ مستقبل کے لیے دولت کا تحفظ اور جانشینی کی منصوبہ بندی‘ حاصل شدہ دولت کے ساتھ زندگی گزارنے کا طریقے‘ بچوں کے فیصلوں کے خاندان کی دولت پر معاشی و دیگر اثرات‘ اور خواتین کی صحت کا دولت اور معاشی معاملات پر اثر جیسے موضوعات پر بات چیت کی گئی۔

اس تقریب میں پچاس سے زائد خواتین نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کے موجودہ فرمانروا شاہ سلمان نے سعودی عرب کے معاشرے کو اعتدال پسندی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے بہت سے انقلابی اقدامات اُٹھائے ہیں۔ خواتین کو ڈرائیونگ کا حق دِیا گیا ہے۔ اُنہیں فٹ بال میچز دیکھنے اور دیگر تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی آزادی بھی مِل گئی ہے اس کے علاوہ بھی کئی اصلاحی اقدامات اُٹھائے جا رہے ہیں۔ سعودی خواتین کو معاشرے کا کار آمد عنصر بنانے کے لیے اُن کے تعلیمی اور سماجی استعداد پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

متعلقہ عنوان :