حافظ آباد:ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ایمرجنسی میںآنے والے مریض رل گئے

فوری علاج معالجہ سے قبل پرچی لینے کے لیے شدید گرمی میں کھلے آسمان تلے لمبی لائنوں میں لگنادشوار ہو گیا، رمضان المبارک میں پرچی کائونٹر پر کوئی سایہ نہ ہونے کی وجہ سے مریض اور ان کے لواحقین ہسپتال انتظامیہ کے خلاف سراپا احتجاج ، ڈی سی سمیت دیگر ارباب اختیار سے اصلاح احوال کا مطالبہ

ہفتہ مئی 21:22

حافظ آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ایمرجنسی میںآنے والے مریضوں کوفوری علاج معالجہ سے قبل پرچی لینے کے لیے شدید گرمی میں کھلے آسمان تلے لمبی لائنوں میں لگنادشوار ہو گیا۔ رمضان المبارک میں پرچی کائونٹر پر کوئی سایہ نہ ہونے کی وجہ سے مریض اور ان کے لواحقین ہسپتال انتظامیہ کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے۔

ڈی سی سمیت دیگر ارباب اختیار سے اصلاح احوال کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ضلع حافظ آباد کی تقریباً ساڑھے گیارہ لاکھ آبادی کے لیے واحد ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہے جہاں ضلع بھر سے تشویشناک حالت کے پیش نظر مریض آتے ہیںجن کی فوری طبی امداد نہایت از ضروری ہوتی ہے لیکن ایمرجنسی پہنچ کر انتظامیہ کی جانب سے مریض کی فوری دیکھ بھال سے قبل ہدایت کی جاتی ہے کہ پہلے پرچی بنوائی جائے۔

(جاری ہے)

دوسری جانب ایمرجنسی کے لیے پرچی بنوانے کا صرف ایک کائونٹر ہے جہاں پرچی لینے والوں کی ایک لمبی لائن ہوتی ہے اور رمضان المبارک میں سخت گرمی کے موسم میں پرچی لینے والوں کے لیے سایہ کا کوئی بھی مناسب بندوبست نہیں کیا گیا جس سے نہ صرف مریضوں اور ان کے لواحقین کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ مریضوں کی پرچی لیٹ ہونے کی وجہ سے تشویشناک حالت کے مریضوں کے علاج معالجہ میں تاخیر بڑے خطرے کا باعث بن جاتی ہے اور مریض کو فوری دوسرے شہر کے بڑے ہسپتال ریفر کرنے کا حکم صادر فرما دیا جاتا ہے۔

شہر بھر کی عوامی، سماجی اور فلاحی تنظیموں نے ڈی سی صالحہ سعید اور محکمہ صحت کے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ ایمرجنسی میں آنے والے تشویشناک حالت کے مریضوں کے فوری علاج معالجہ کو یقینی بنایا جائے اوردن کے اوقات میں ایمرجنسی کے لیے پرچی کے حصول کے کائونٹرز کی تعداد بڑھائی جائے اور ان کے اوپر سایہ اور بیٹھنے کے لیے بینج وغیرہ بھی رکھے جائیں۔