حکومت نی1سال8ماہ انتھک محنت کر کے آزادکشمیر کو مالیاتی خود مختاری دلادی ہے ۔ اب فنڈز آزادکشمیر کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گے، راجہ فاروق حیدر خان

آزادکشمیر کا ترقیاتی بجٹ بڑھا کر ساڑھے 25ارب روپے سالانہ کرنے او ر وفاقی محاصل سے آزادکشمیر کا حصہ3.64فیصد فکس کرنے پر قائد محمد نواز شریف ، وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی ، وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ، وزیر امورکشمیر برجیس طاہر ، وزیر منصوبہ وترقیات احسن اقبال چیئرمین پلاننگ کمیشن کے شکرگزار ہیں ، وزیراعظم آزاد کشمیر محکمہ تعمیرات عامہ اور محکمہ شاہرات کے دس سال پرانے عارضی ملازمین کو مستقبل کرینگے ۔ تحریک آزادی کشمیر میں نمایاں کردار ادا کرنے والیوں کے نام مظفرآباد میں قومی یادگار کے علاوہ قومی میوزیم تعمیر کرینگے ۔ تحریک آزادی کشمیر حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔ 18اپریل کو لندن میں مودی کے خلاف مظاہرے میں تمام کشمیری سیاسی قیادت کے متحدہو کر احتجاج کرنے سے تحریک آزادی مضبوط ہوئی، قانون ساز اسمبلی میں بجٹ میزانیہ پر بحث

ہفتہ مئی 21:27

ٍمظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے ہفتہ کے روز ہفتہ کے روز آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں تخمینہ میزانیہ2018-19پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ حکومت نی1سال8ماہ انتھک محنت کر کے آزادکشمیر کو مالیاتی خود مختاری دلادی ہے ۔ اب فنڈز آزادکشمیر کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گے ۔

آزادکشمیر کا ترقیاتی بجٹ بڑھا کر ساڑھے 25ارب روپے سالانہ کرنے او ر وفاقی محاصل سے آزادکشمیر کا حصہ3.64فیصد فکس کرنے پر قائد محمد نواز شریف ، وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی ، وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ، وزیر امورکشمیر برجیس طاہر ، وزیر منصوبہ وترقیات احسن اقبال چیئرمین پلاننگ کمیشن کے شکرگزار ہیں ۔

(جاری ہے)

محکمہ تعمیرات عامہ اور محکمہ شاہرات کے دس سال پرانے عارضی ملازمین کو مستقبل کرینگے ۔

تحریک آزادی کشمیر میں نمایاں کردار ادا کرنے والیوں کے نام مظفرآباد میں قومی یادگار کے علاوہ قومی میوزیم تعمیر کرینگے ۔ تحریک آزادی کشمیر حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔ 18اپریل کو لندن میں مودی کے خلاف مظاہرے میں تمام کشمیری سیاسی قیادت کے متحدہو کر احتجاج کرنے سے تحریک آزادی مضبوط ہوئی ۔مسلم لیگ ن اپنے قائد محمد نواز شریف کے ساتھ کھڑی ہے ۔

اس مالی سال کا ترقیاتی بجٹ مکمل طور پر خرچ کیا جائے گا۔ حکومت ڈٹ کر اپنی 5سالہ مدت پوری کریگی ۔ وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہاکہ بجٹ76فیصد غیر ترقیاتی اور24فیصد ترقیاتی ہے ۔ گزشتہ سال کی نسبت غیر ترقیاتی بجٹ میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے ہیلتھ ورکرز کو نارمل میزانیہ پر لانا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ مالی سال 2017-18کے ترقیاتی بجٹ کے جو پیسے خرچ نہیں ةوئے وہ 30جون تک ہو جائیں گے اس میں زیادہ رقم حصول اراضی کی ادائیگی اور فرنیچر وغیرہ کی خریداری کی رقم ہے جس کو خرچ کرنے میں وقت نہیں لگتا۔

انہوں نے کہاکہ حالات کچھ بھی ہوں پارٹی اپنے قائد محمد نوازشریف کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بعد شاہد خاقان عباسی ، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا شکرگزارہوں کہ انہوںنے اازادکشمیر کی ترقی کیلئے وافر فنڈز فراہم کیے اور وفاقی محاصل سے 3.64فیصد آزادکشمیر کے فکس کیا ۔ انہوں نے کہاکہ شملہ معاہدہ سے مسئلہ کشمیر باہمی مسئلہ بن گیا ۔

انہوںنے کہاکہ این ایف سی ایوارڈ میں آزادکشمیر کا حصہ نہ رکھ کر پیپلز پارٹی نے آزادکشمیر کے ساتھ زیادتی کی ۔ انہوں نے کہاکہ آزادکشمیر کومالیاتی طور پر خود مختاری مل گئی ہے ہم اپنے وسائل کفایت شعاری سے خرچ کرینگے ۔ انہوںنے کہاکہ میں احسن اقبال وفاقی وزیر کا بھی شکرگزار ہوں ،وفاقی وزیر امور کشمیر برجیس طاہر اور چیئرمی پلاننگ کمشین اور وزیر اعظم پاکستان کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کاشکرگزار ہوں۔

آزادکشمیر کے سیکرٹری مالیات ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات اور وزیر خزانہ کا شکرگزار جنہوںنے ایک بہترین بجٹ تیار کیا ۔ انہوں نے کاکہا کہ ہم نے اپوزیشن سے ملکر کر برطانیہ کا دورہ کیا اور مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا۔ 18اپریل کو تمام کشمیری رہنمائوں نے لندن میں متحد ہو کر بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ انہوںنے تمام اپوزیشن کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اکھٹے چلنے کی دعوت دی ۔

انہوںنے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو بہت بڑے سیاستدان تھے مگر جمہوریت پر کوئی یقین نہیں رکھتے تھے ۔ انہوں نے کہا خورشید نیشنل لائبریری کو کشمیر ورثہ میں شامل کرینگے اور تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے خصوصی یادگار بھی تعمیر کی جائیگی ۔ انہوںنے کہاکہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ کے متاثرین کیلئے شہد اء کے لواحیقن کیلئے امداد3لاکھ سے بڑھا کر 10لاکھ روپے کر دی ہے ۔

اس کے علاوہ ساڑھے تیزہ کروڑ روپے کا منصوبہ بھی سالانہ تگرقیاتی پروگرام میں شامل کیا گیاہے ۔ اس منصوبے کے تحت تعلیم ، صحت ، ایمبولینس سہولیات اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیںگی ۔ انہوںنے کہا کہ متاثرین کے انڈوومنٹ فنڈ بھی قائم کیا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے اپنے مختصر عرصہ1سال8ماہ میں عوام کی بھرپور خدمت کی ہے انتقامی سیاست اور انتقامی احتساب پر یقین نہیں رکھتے ۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں اسے اپنے منشور میں تحریک آزادی کشمیر کو شامل رکھیں۔ہم پاکستانی ہیں مگر باغیرت پاکستانی ہیں۔ رائے شماری میں ہمارا ووٹ پاکستان کے حق میں ہو گا۔ مسلم لیگ حکومت کو کریڈٹ جاتا کہ فاٹا اور گلگت بلتستان کے عوام کو آئینی حقوق ملے۔انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت کی تحریک آزادی کشمیر ، پائیدار ترقی، گڈگورننس ترجیحات تھیں جن پر دو سالوں میں قابل ذکر پیش رفت ہوئی ہے ۔

انہوںنے کہاکہ آزادکشمیر کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ پیش کرنے پر اللہ رب العز ت کے حضور سجدہ شکر ادا کرتے ہیں جس نے ہماری کاوشوں کو بارآور بنایا اور ہمیں ریاست کے عوام کے سامنے سرخرو کیا۔بجٹ میں جہاں ترقیاتی میزانیہ میں اضافہ کیا گیا وہاں غیر ترقیاتی میزانیہ میں بھی قابل ذکر اضافہ کیا گیا جو ایک ریکارڈ ہے۔اس سارے عمل میں بھرپور تعاون و سرپرستی پر میں قائد مسلم لیگ ن جناب محمد نواز شریف ،وزیراعظم پاکستان جناب شاہد خاقان عباسی ،چئیرمین پلاننگ کمیشن و فاقی وزیراحسن اقبال صاحب ،وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں اس سارے عمل میں پلاننگ ڈویڑن ،فنانس ڈویڑن حکومت پاکستان کے آفیسران ،پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ،فنانس ڈیپارٹمنٹ آزادکشمیر کے آفیسران بالخصوص سابق چیف سیکرٹری ڈاکٹر اعجاز منیر،ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات ڈاکٹر سید آصف حسین شاہ ،سیکرٹری مالیات ،سمیت دیگر ریاستی بیوروکریسی کا بھی بڑاکردار رہا انہیں بھی مبارکباد دیتا ہوں۔

ہماری حکومت نے تین ترجیحات متعین کی تھیں جن میں سب سے پہلی تحریک آزادی کشمیر ہے۔جس کے محاذ پر حکومت نے خلوص نیت کے ساتھ ایک سال کے دوران قابل ذکر اقدامات اٹھاے جن کے نتائج برآمد ہونا شروع ہو گئے ہیں۔سب سے پہلے تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے ان اقدامات کا مختصر سا خاکہ یہاں پیش کرنا چاہوں گا ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ میں نے سئینر وزیر کے ہمراہ یورپین یونین کے دورے کے دوران برسلز میں کشمیر کانفرنس میں شرکت کی۔

پریس کلب میں تصاویری نمائش میں شرکت کی ،یورپین کمیشن کے آفیشلزکے ساتھ تاریخ میں پہلی مرتبہ آزادکشمیر کے کسی وزیراعظم کی باضابطہ سرکاری ملاقات ہوئی جس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو دستاویزی ثبوتوں کے ہمراہ ان کے سامنے پیش کیا گیا۔کشمیر کونسل یورپ کے زیر اہتمام کشمیر یورپین یونین ہفتہ کی تقریبات میں شرکت کی ،اراکین یورپین پارلیمنٹ ،انسانی حقوق کی تنظیموں ،اقوام متحدہ کے ادارہ براے انسانی حقوق سے بھی ملاقاتیں کی گئیں،انہوں نے کہاکہ ہندوستانی وزیراعظم کی برطانیہ آمد پرتاریخ ساز مشترکہ احتجاج ،ہاوس آف لارڈز ،ہاوس آف کامنز کا دورہ ،برطانوی پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کے اراکین سے ملاقات ،وادی کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہی دی گئی ،آئندہ کیلئے تجویز ہے کہ ایک دن مختص کیا جائے جس میں پوری دنیا میں احتجاج کیا جائے۔

انہوںنے کہاکہ آزادکشمیر بھر میں مقبوضہ وادی کے اندر ہونے والے حالات پر بھرپور ردعمل یوم مذمت اور یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا، مقبوضہ کشمیر میں حریت قائدین سے رابطے کیے گئے آل پارٹیز حریت کانفرنس آزادکشمیر شاخ سے مشاورت ان کے دفتر میں جاکر کی گئی ، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر آزادکشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔

انہوںنے کہاکہ دارلحکومت میں مزاحمتی و تاریخی میوزیم بنایاجائے گا۔ مقبوضہ کشمیر کے وہ شہدا جنہوں نے اپنا کل ہمارے آج پر قربان کیا کی یاد میں نیو سیکرٹریٹ میں یادگار تعمیر کی جائیگی۔انہوںنے کہاکہ دارلحکومت میں شہدا گیلیری کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے جس میں تحریک آزادی کشمیر کے مشاہیر اور جدوجہد کو نمایاں کیا جائیگا۔حکومت آزادکشمیر نے مسلہ کشمیر کے حوالے سے تحقیقی مقالہ جات کی تیاری اور پاکستان میں نوجوان نسل کی بھرپور آگاہی کے لیے یونیورسٹی آف پشاور ،پنجاب یونیورسٹی لاہور ،قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد،انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی و دیگر نمایاں تعلیمی اداروں سے مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں اور رواں سال مزید یونیورسٹیز اور تھنک ٹینک کے ساتھ بھی مزید اس طرح کی یاداشتوں پر دستخط ہونگے۔

تحریک آزادی کشمیر اور پاکستان سے نظریاتی اور فکری تعلق کو نوجوان نسل تک منتقل کرنے کے لیے آزادکشمیر کے نصاب میں تبدیلی لانے اور بہتری کے لیے کمیٹی قائم کی جاچکی ہے نصاب کو تحریک آزادی او ر نظریہ الحاق پاکستان کے حوالے سے تاریخی اور تحقیقی مواد شامل کیا جائیگا۔انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر لبریشن سیل کو مزید فعال بنانے کے لیے اس کے قواعد میں تبدیلی کردی گئی ہے اور آئندہ جملہ مستقل گزٹیڈ تقرریاں بذریعہ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہونگی۔

انہوںنے کہاکہ آزادکشمیر کے اندر تحقیقی رحجان کو فروغ دینے اور تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے پالیسی سازی کے لیے پہلا تھنک ٹینگ پالیسی ریسرچ فورم قائم کیا ہے جس کے تحت انٹرنیشنل جرنل آف کشمیر سٹڈیز کی اشاعت کا آغاز کیا جارہا ہے۔اور اس ریسرچ جرنل کے لیے نہ صرف پاکستان سے بلکہ بیرون ملک سے بھی کشمیر پر کام کرنے والے ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

انہوںنے کہاکہ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی،او آئی سی حالیہ اجلاس،مشترکہ تعاون تنظیم سمیت بین الاقوامی فورمز پر کھل کر کشمیریوں کی حمایت کی گئی حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کیجانب سے کشمیریوں کے ساتھ لازوال وابستگی اور ہر خوشی غم میں بے مثال اظہار یکجتہی پر ان کے شکرگزار ہیں ۔انہوں نے کہاکہ لائن آف کنٹرول پر ہندوستانی فائرنگ سے شہید ہونے والوں کا معاوضہ 10 لاکھ کر دیا گیا ہے جبکہ زخمیوں کوچالیس ہزار سے لیکر آٹھ لاکھ روپے تک دیے جائیں گے ، ایل او سی پر پاک فوج کے تعاون سے کیمونٹی بنکرز کی تعمیر کی جائیگی ۔

انہوںنے کہاکہ وزیراعظم پاکستان اور آرمی چیف نے لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا ،ایل او سی پر بسنے والے کشمیری عوام،پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ دفاع وطن کے لیے قربانیاں دینے والے شہدا،شہید ہونے والے سویلین کو سرکاری اعزاز کے ساتھ دفنانے ،دفاع وطن کے لیے شہید ہونیوالے پاک فوج کے جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں ۔

انہوںنے کہاکہ ایل او سی پر بنیادی سہولیات کی ترجیحی بنیادوں پر فراہمی اور اس حوالے سے ان کا ترقیاتی و انتظامی امور میں کوٹہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ایل او سی پر ہمہ وقتی صحت کی سہولیات کی فراہمی ،بنیادی انفراسٹریکچر کی بہتری کے لیے اقدامات اس بجٹ کا حصہ ہیںاس کے علاوہ لائن آف کنٹرول کے متاثرین کیلئے علیحدہ Endowment Fund کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔

وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان کی ساری سیاسی جماعتیں انتخابی منشور میں مسلہ کشمیر کو سرفہرست رکھیں ،یہاں موجود مختلف جماعتوں کے نمائندگان اس حوالے سے اپنی قیادت کے ساتھ بات کریں۔وزیر اعظم نے کہا کہ اس ایوان میں 1985 ء سے لیکر اب تک وقتاً فوقتاً اکثریت ارکین کی حکومت میں یا اپوزیشن میں آتی جاتی رہی ہے۔ ماضی کے جملہ حالات و واقعات سے کسی نہ کسی طرح ہم وابستہ رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اس ایوان کی روایات کیا رہی ہیں اور ان روایات کو برقرار رکھنے کیلئے کیا گیا ہوتا رہا ہے۔ ہماری بھی کوشش یہی ہے کہ اس ایوان کی روایات برقرار رکھی جائیں مگر بدقسمتی سے پاکستان میں آنے والے کلچر کا اثر اس ایوان میں بھی ہوتا جارہا ہے جو کہ تشویشناک ہے۔وزیر اعظم نے کہاکہ اسرائیل کو بھی تسلیم کرنے کی بات ہوتی رہی، مودی کو داد بھی دی جاتی ہے، اپنے آپ کو برٹش کہہ کر پاک فوج کیلئے ہرزہ سرائی بھی ہوتی رہی، تحریک آزادی کشمیر کے نام پر کروڑوں روپے ہضم بھی ہوتے رہے۔

انہوںنے کہا کہ 2008 ء میں محبوبہ مفتی کی آمد پر زرداری صاحب کے بیان کے باوجود اس ایوان کا وقار اور اسکی روایات کے باعث بہت سارا دیگر مواو زیر بحث نہیں لایا گیا جسکی بڑی وجہ روایات تھیں، بجٹ تقریر کے موقع پر روایت سے ہٹ کر احتجاج پر دلی دکھ ہوا۔ہم سب کو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے لیے پاکستان کے تمام سیاسی قائدین یکساں ہونے چاہئیں، چونکہ ابھی ہم نے منزل حاصل کرنی ہے ، منزل کے حصول تک ایسی چیزوں سے گریز کرنا چاہیے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ 2016 کے عام انتخابات میں بے مثال کامیابی کے نتیجہ میں خطہ کے عوام نے مسلم لیگ ن کو جب عوام خدمت کا واضح مینڈیٹ دیا تو یہ ریاست شدید مالی مشکلات ، حکومتی اداروں پر عوام کا عدم اعتماد اور انتظامی بد حالی کا شکار تھی۔انہوںنے کہاکہ بروقت انصاف کی فراہمی کیلئے تمام اضلاع میں فیملی کورٹس کے قیام کے ساتھ ساتھ ہائیکورٹ میں شریعہ اپیلٹ بینچ کی تشکیل کی گئی ،،ججز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا،لا کمیشن کو فعال کیا گیا ،سروس ٹریبونل کی تشکیل نو،مقدمات کی موثر پیروی ،جوڈیشل پالیسی ورکنگ کمیٹی ایکٹ ،جس کے تحت چیف جسٹس سپریم کورٹ کی سربراہی میں کمیٹی بنی ہے مقدمات کے بروقت فیصلوں اور انصاف کی فراہمی کے عمل میں تاخیر کو روکنے کے لیے کام کررہی ہے۔

مقدمات کی موثر پیروی کے لیے بھی نظام وضع کیا جارہا ہے۔انہوںنے کہاکہ آزادکشمیر کو تاریخ میں پہلی مرتبہ مالیاتی خود مختاری دیدی گئی ہے جس کے تحت آزادکشمیر کو وفاقی NFC فریم ورک کے تحت محصولات کی مد میں مالی سال 2018-19 سے ملنے والی گرانٹ کی موجودہ شرح کو 2.27 فیصد سے بڑھا کر 3.64 فیصد کیا جاچکا ہے۔ اس اضافہ کی وجہ سے وفاق سے ملنے والی Revenue Deficit Grant کو ختم کر دیا گیا ہے۔

واٹر یوز چارجز کی مد میں آزادکشمیر کے مطالبے پر دوسرے صوبوں کے برابر اس کی موجودہ شرح کو 15 پیسے سے بڑھا کر 1 روپیہ 10 پیسے فی کلوواٹ آور (kwh) کا حق تسلیم کر لیا گیا ہے۔یہاں یہ بات میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اس سے ہماری ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں ہمیں اپنے اخراجات کو کنٹرول کرنا ہو گا اوراپنے وسائل کے اندر رہ کر اخراجات کرنے کے ساتھ ساتھ آمدن میں اضافے کے لیے بھی اقدامات اٹھانا ہونگے۔

انہوںنے کہاکہ آزادکشمیر حکومت نے آئندہ مالی سال کو ریونیو جنریشن ( ریاستی آمدن میں اضافے ) کا سال قرار دیا ہے جس کے تحت ریاستی آمدن میں اضافے اور غیر ضروری اخراجات کو کنٹرول کیا جاے گا تمام محکمہ جات کو ہدایت کرتا ہوں کہ اپنی آمدن کے طے شدہ اہدا ف کا حصول بہرصورت یقینی بنایا جاے۔ انہوںنے کہاکہ میرٹ کی بحالی کے لیے این ٹی ایس کا نظام کامیابی سے کام کررہا ہے پڑھے لکھے بے روزگار افراد کی تعداد بہت زیادہ ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف محکمہ تعلیم میں اس سال 2500 آسامیوں کے خلاف 55 ہزار بی اے بی ایڈ امیدواران سامنے آے جبکہ گزشتہ سال 1200 آسامیوں کے خلاف 36000 لوگوں نے اپلائی کی تھا۔

پبلک سروس کمیشن کی تشکیل سے غریبوں کے بچوں کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کیے گئے گزشتہ کئی سالوں سے زیر التوا آسامیوں کے خلاف میرٹ پر تقرریاں کی گئیں۔وزیرا عظم نے کہاکہ عقیدہ ختم نبوت ہمارے ایمان کا بنیاوی حصہ ہے۔ آزادجموں وکشمیر عبوری ایکٹ 1974 ء میں مورخہ 6 فروری2018 ء کو قانون ساز اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس میں آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔

CPEC کا پروگرام ہماری معاشی ترقی کیلئے ایک گیم چینجرکی حیثیت رکھتا ہے۔جس میں 720 میگاواٹ کیروٹ، 1124 میگاواٹ کوہالہ پر کام کا آغاز ہو چکا ہے نیز 650 میگا واٹ ماہل اور 700میگاواٹ آزاد پتن منصوبہ جات ، میرپور میں سپیشل اکنامک زون کا قیام، مانسہرہ۔مظفرآباد۔میرپورایکسپریس وے بڑے منصوبوں میں شامل ہیں۔میرپور اکنامک زون کے قیام کے لیے جگہ کا انتخاب کر لیا گیا ہے۔

جبکہ بھمبر میں ایک پولی ٹیکنیکل کالج بھی قائم کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2018-19 میں ریاست کے بجٹ کا کل حجم 108.2 ارب ہے جو کہ ریاست کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ ہے۔ اسی طرح آئندہ مالی سال2018-19 کا 25.5 ارب کا ترقیاتی پروگرام بھی آزادکشمیرکی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام ہے جو رواں مالی سال کے مقابلے میں تقریبا2.3ارب زیادہ ہے۔جبکہ حکومت پاکستان کے سالانہ ترقیاتی پروگرام اور وزارت امور کشمیر کے زیر انتظام 49 ارب روپے کے منصوبہ جات اس کے علاوہ ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ مالی سال2017-18میں جہاں عوام کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی کیلئے آزادکشمیر کو پاکستان سے ملانے والی اہم شاہرات ، بین الاضلاعی اور ضلع سے تحصیل صدر مقامات کی 540 کلومیٹر شاہرات کی ری کنڈیشننگ کا عمل زیر تکمیل ہے -انہوںنے کہاکہ آزادکشمیر میں سلائیڈٹریٹمنٹ، روڈ سیفٹی اور انٹر پوائنٹس پر Weigh Stations کے قیام کے منصوبہ جات پر عملدرآمد کیا جائے گا تاکہ سڑکوں پر ہونے والے حادثات کی روک تھا م کے علاوہ ان کو ٹوٹ پھوٹ سے بچایا جاسکے۔

لنک روڈ کی تصریحات میں بھی اضافہ کیا گیا ہے تاکہ سڑک زیادہ دیر تک قابل استعمال رہے اسی طرح مرکزی شاہرات اور بین الاضلاعی شاہرات کے لیے بھی تصریحات میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ٹینڈرنگ کے نظام میں شفافیت لانے کے لیے اقدامات اٹھاے گئے ہیںآزادکشمیر کو پاکستان اور بین الاضلاعی شاہرات جو تعمیر ہو چکی ہیں یا ہو رہی ہیں کسی بھی طورپر بین الاقوامی معیار سے کم نہیں۔

ٹول ٹیکس بھی نافذ کیا جائیگا جس کے اخراجات اسی سڑک کی مرمت میں کیے جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ محکمہ تعمیرات عامہ میں برس ہا برس سے سالانہ مرمتی پروگرام کے خلاف کام کرنے والے ایسے افراد جن کی مدت دس سال سے زائد ہو چکی ہو کو آئندہ مالی سال سے مستقل کرنے کا بھی اعلان کرتا ہوں۔اس بجٹ میں پہلی مرتبہ شہری علاقوں میں بنیادی ضروریات،صحت ،صفائی ،صاف ستھرے ماحول کی فراہمی اور خوبصورتی کے لیے ریاستی بجٹ سے ارن ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 25 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ترقیاتی ادارہ جات کے لیے بھی بڑے شہروں میں پارکس کی تعمیر ،شہری حدود میں سڑکوں کی تعمیر کے لیے 20 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہاکہ محکمہ لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی کے زیر اہتمام دیہی علاقوں میں عوام کو بنیادی اور فوری ضروریات کی فراہمی کیلئے وزیراعظم کمیونٹی انفراسٹرکچر پروگرام کا آغازاور بنیادی ضروریات کے منصوبہ جات کی تکمیل کی جارہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ پروگرام کے تحت گزشتہ مالی سال کے دوران تین لاکھ آبادی مستفید ہوئی جس کے تحت کروڑوں روپے کی رابطہ سڑکیں منصفانہ اور مساویانہ بنیادوں پر تعمیر کی گئیں 25 کروڑ روپے کی پختہ گلیاں ،پینے کے پانی کی واٹر سپلائی سکیمز 10 کروڑ روپے جبکہ ساڑھے چھ کروڑ روپے مالیت کے نئے ٹرانسفارمرز اور تاروں کی خریداری کی گئی ،پندرہ کروڑ روپے کے پختہ راستے ،قبرستان ،سیوریج و سنیٹیشن سے متعلق بنیادی منصوبہ جات مکمل کی گئے۔

مالی سال 2016-17 اور 2017-18میں مجموعی طورپر ساڑھے چھ لاکھ کی آبادی اس سے مستفید ہوئی۔ ابتدائی مرحلے میں ضلع میرپور اور مظفرآباد میں سولر سٹریٹس لائیٹس کی تنصیب مکمل کی اس مالی سال کے دوران آزادکشمیر بھر کے دس اضلاع کے ضلعی ہیڈ کوآرٹرز دس کروڑ مالیت سے سٹریٹ لائیٹس تنصیب کی جائیں گی ۔ہماری حکومت نے پہلی مرتبہ تعلیمی اداروں بالخصوص گرلز سکول کے ساتھ بنیادی سنیٹیشن و ہائی جین کی فراہمی کا منصوبہ شروع کیا ہے جس سے تعلیمی اداروں کے اندر موزوں ماحول میسر آئیگا منصوبے کے تحت 200 سے زائد سکولز کے ساتھ واش رومز کی تعمیر کی جائیگی۔

انہوںنے کہاکہ ضلعی ہیڈ کوآرٹرہسپتال کوٹلی ،ڈسٹرکٹ ہیڈ کوآرٹر ہسپتال میرپور کی پرانی عمارتوں کی رئیپرنگ کروائی گئی اس کے علاوہ آزادکشمیر کے اندر 12 تھانوں کی رئیپرنگ کے لیے بھی خاطر خواہ فنڈز فراہم کیے گئے ہیں رابطہ سڑکیں ،معلق پل ہا کی تعمیر کے لیے بھی رقم مختص کی گئی ۔ شیخ زید ہسپتال کے چلڈرن وارڈ کی تعمیر کے لیے ساڑھے چھ کروڑ روپے فراہم کیے گئے ہیں جس سے 120 بیڈ پر مشتمل جدید سہولیات سے مزین چلڈرن وارڈ تعمیر کیا جائیگا۔

انہوںنے کہاکہ تعمیراتی سکیموں کی فورم سے منظوری اور شفاف مانیٹرنگ کا نظام وضع کیا گیا جس کے تحت سو فیصد منصوبہ جات پر کام کیا گیا۔اس کے علاوہ پہلی مرتبہ مہاجرین جموں وکشمیر مقیم آزادکشمیر 89 باغ ،مظفرآباد،کوٹلی ،جہلم ویلی کے کیمپس کے اندر جوبنیادی ضروریات کی شدید کمی کا شکار تھے حکومت نے ان کی مشکلات کا ادراک کرتے ہوے ان کے لیے کالونیوں کی تعمیر کے لیے جگہ کا انتخاب او ر زمین کی خریداری کے لیے رقم مختص کی گئی اور زمین خریداری کی جارہی ہے جبکہ کیمپس کے اندر پختہ گلیاں ،پینے کے صاف پانی کی فراہمی سیوریج لائنز کی تنصیب ،واش رومز کی تعمیر کے منصوبہ جات پر کام جاری ہے۔

انہوںنے کہاکہ مہاجرین مقیم پاکستان کے مختلف حلقہ جات میں کالونیوں کے اندر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھی 13 کروڑ روپے مالیت کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔انہوںنے کہاکہ دیہی و شہری علاقوں میں پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک منصوبہ بندی کے تحت عوام کو بجلی کی بلاتعطل فراہمی کیلئے مالی سال2016-17 میں 208 ٹرانسفارمرز مہیا کیے گئے تھے۔

بجلی کی ترسیل کے نظام کی اپ گریڈیشن مرحلہ وار جاری ہے ۔ مالی سال2016-17 کے وران ضلعی ہسپتالوں میں ایمرجنسی طبی سروسز کا آغاز کیا گیا اور عوام کو مفت ایمرجنسی ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔آئندہ سال بھی یہ منصوبہ جاری رہیگا جس سے ماہانہ آزادکشمیر بھر کے دس ہسپتالوں میں مریضوں کو ہارٹ اٹیک کے انجکشن سے لیکر ڈسپرین کی گولی تک مفت دستیاب ہے۔

اوسطا ہر ماہ اس سے ساٹھ ہزار افراد مستفید ہو رہے ہیں۔لیڈیز ہیلتھ ورکرز اور پاپولیشن ویلفئیر پروگرام کے ساڑھے چار ہزار سے زائد ملازمین کو نارمل میزانیہ پر منتقل کیا گیا ہے۔ مظفرآباد میں کینسر ہسپتال کا منصوبہ حکومت پاکستان کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے اس کے لیے فنڈز بھی مختص کیے گئے ہیں۔میرپور میں انجیوپلاسٹی ،انجیو گرافی کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوآرٹرز ہسپتالوں کے ساتھ اضافی مکانیت تعمیر کی جارہی ہے۔قبل ازیں تحصیل ہٹیاں بالا ، دہیرکوٹ اور ڈڈیال کی حد تک لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کیا جاچکا ہے۔ آئندہ مالی سال میں سات اضلاع کی مزید سات تحصیلوں کے لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کی تجویز ہے۔ مختلف سرکاری محکمہ جات کی کمپیوٹرائزیشن کے سلسلہ میں سکیمیں زیر تکمیل ہیں۔

رواں سال میں کیڈٹ کالج پلندری میں کمپیوٹر لیب قائم کی گئی ہے۔ صدارتی سیکرٹریٹ ، وزیراعظم سیکرٹریٹ ، کشمیر ہاؤس ، آزاد جموں وکشمیر کشمیر سیکرٹریٹ اور ڈویڑنل ہیڈ کواٹرز میں ویڈیو کانفرنسگ کی سہولت فراہم کرنے کیلئے سکیم پر کام جاری ہے۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ حکومت پنجاب نے آزادکشمیر کو اضافی طور پر ڈیڑھ ارب روپے کی گرانٹ فراہم کی ہے جس کیلئے ہم وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے انتہائی شکرگزار ہیں۔

اس رقم میں سے 75 کروڑ روپے کی رقم سے Education Endowment Fundقائم کیا گیا ہے جبکہ 75 کروڑ روپے کی رقم سے فنی و غیر فنی افراد کو کاروبار کیلئے بلاسود قرضہ جات فراہم کیے جائیں گے تاکہ خطے میں کاروبار اور روزگار کے بہتر مواقع دستیاب ہو سکیں۔لائق اور ہونہار طلباء کے تعلیمی اخراجات حکومت آزادکشمیر برداشت کریگی اور پیسے نہ ہونے کے باعث کوئی لائق محنتی اور غریب طالب علم اپنی تعلیم نہیں چھوڑے گا۔

انہوںنے کہاکہ آزادکشمیر میں تقریباً 9255 میگا واٹ پن بجلی پدا کرنے کے آبی وسائل کی نشاندہی ہو چکی ہے اور اب تک واپڈا کے مکمل اور زیر تکمیل منصوبہ جات کے علاوہ مقامی طور پر 58.32 میگا واٹ کے منصوبہ جات مکمل کیے جاچکے ہیں۔ آزاد جموں وکشمیر TEVTA کے زیر انتظام 67 ادارے قائم ہیں جو فنی تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ - مالی سال 2018-19 میں اس ادارہ کو 15 کروڑ روپے فراہم کرنے کی تجویز ہے جس سے جاریہ منصوبوں کے علاوہ ضلع بھمبر میں گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی جبکہ ضلع جہلم ویلی اور حویلی میں ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ قائم کیے جائیں گے۔

ٹیوٹا اور نیو ٹیک کے اشتراک سے اب ریاست بھر کے ان اداروں میں فنی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کا ڈپلومہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جائیگا۔انہوںنے کہاکہ حکومت آزاد کشمیر ایک مربوط پروگرام کے تحت کالج ٹیچرز کی صلاحیت بڑھانے کے لیے کشمیر انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ (KIM) کے ذریعے 2100کالج ٹیچرز کی ٹریننگ کا پروگرام شروع کر رہی ہے۔اس کے علاوہ آزاد کشمیر کے تمام کالجز میں سٹاف اور طلبہ کی حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیو میٹرک سسٹم کی تنصیب اور مانیٹرنگ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

نصاب میں تحریک آزادکشمیر ،نظریہ پاکستان ،اخلاقیات سمیت دیگر اہم مضامین بھی شامل کیے جارہے ہیں۔حکومت آزادکشمیر نے اپنے بجٹ سے آزادکشمیر بھر کے تعلیمی اداروں میں تعلیمی ضروریات کی فراہمی کے لیے 25 کروڑ روپے مختص کیے ہیں جبکہ زلزلہ متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کا عمل مکمل نہ ہونے کے باعث رہ جانے والے تعلیمی اداروں کے حوالے سے بھی ایرا سے بات چیت کی جارہی ہے تاکہ مرحلہ وار انہیں مکمل کیا جاسکے۔

انہوںنے کہاکہ آزادکشمیر میں صحافتی برادری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے حکومتی سرپرستی میں قائم پریس فاونڈیشن کے ایکٹ میں صحافتی برادری کی مشاورت سے ترامیم کی گئیں ہیں فاونڈیشن کو خودکفیل بنانے کے لیے حکومت ایک طویل المدتی منصوبے پر عمل پیرا ہے۔محکمہ اطلاعات کو اشتہارات کی مد میں اضافی فنڈز فراہم کیے گئے ہیں جبکہ مظفرآباد پریس کلب سمیت دیگر پریس کلب ہا کی تعمیر کے لیے بھی حکومت اقدامات اٹھا رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ بلدیاتی نظام جمہوری نظام کی بنیاد ہے حکومت نے پہلی مرتبہ اس کے انعقاد کے لیے سنجیدہ کاوشیںکیں جن میں حلقہ بندیوں ،ووٹر لسٹوں کی ترتیب سمیت دیگر اہم امور پر پیش رفت جاری ہے رواں سال بلدیاتی انتخابات کے لیے پچاس کروڑ روپے کے فنڈز بجٹ میں رکھے گئے ہیں اور انشاء اللہ ہماری حکومت اپنے منشور کے مطابق عوام سے کیا گیا یہ وعدہ پورا کریگی۔

انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ، قائد مسلم لیگ (ن) محمد نواز شریف ، وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کی خصوصی شفقت، وفاقی وزیر امور کشمیر چوہدری برجیس طاہر کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے خطے میں تعمیر و ترقی اور بہتری طرز حکومت کا جو سر شروع کیا گیا ہے اس کے ثمرات کا اعتراف نہ صرف ہمارے ناقدین نے کیا ہے بلکہ ہمارے سیاسی مخالفین بھی اس کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔