اے ٹی ایچ اور ریڈیو پاکستان کے اشتراک سے صحت کے حوالہ سے آگاہی پروگرام عوام میں انتہائی مقبول ہو گیا

ہفتہ مئی 21:31

ایبٹ آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ اور ریڈیو پاکستان کے اشتراک سے عوام میں صحت کے حوالہ سے آگاہی کیلئے شروع کیا گیا پروگرام رابطہ عوام میں انتہائی مقبول ہو رہا ہے اور عوام کی ایک بڑی تعداد اس کاوش کو سراہا رہی ہے۔ یہ پروگرام طبی ماہرین اور عوام کے درمیان رابطہ کا ایک ذریعہ ہے۔

پروگرام رابطہ ہر منگل کو سہ پہر دو بجے سے تین بجے کے درمیان براہ راست نشر کیا جاتا ہے۔ پروگرام میں سامعین کال کر کے سوالات بھی کرتے ہیں اور اپنی آراہ بھی شامل کر تے ہیں۔ ایوب ٹیچنگ ہسپتال کی میڈیا منیجر امبر ملک ہسپتال کے ماہر معالجین کو پروگرام مدعو کرتی ہے اور ان کے شعبوں کے متعلق خصوصی گفتگو کی جاتی ہے، یہ معالج نہ صرف سامعین کو قیمتی طبی مشوروں سے نوازتے ہیں بلکہ ان کے سوالات کے تسلی بخش جوابات بھی دیئے جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

گذشتہ پروگرام میں مہمان خصوصی ماہر نفسیات پروفیسر ڈاکٹر آفتاب عالم خان نے ذہنی صحت کی اہمیت کو اجاگر کیا اور یہ بتایا کہ انسان کی جسمانی صحت کے ساتھ اس کی ذہنی صحت بھی اتنی ہی ضروری ہے، ہمارے معاشرے میں ذہنی صحت اور نفسیاتی بیماریوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور شعبہ نفسیات کے ماہرین کے پاس علاج کیلئے جانے میں شرم محسوس کی جاتی ہے حالانکہ ذہنی صحت کا براہ راست تعلق انسانی کی جسمانی صحت سے ہے، ایک اچھی ذہنی صحت انسان کے رویہ اور شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہے اور اسے ایک مثبت طرز زندگی گذارنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

شعبہ نفسیات ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کے پاس ماہر سائیکاٹرسٹ، سائیکلوجسٹ اور سپیچ تھراپسٹ موجود ہیں، شعبہ نفسیات ہر پیر، بدھ اور جمعہ کو او پی ڈی سروسز مہیا کرتا ہے، یہ شعبہ 26 بیڈز پر مشتمل ہے اور کثیر تعداد میں مریضوں کو علاج معالجہ کی سہولیات مہیا کرتا ہے۔ سال2017ء میں شعبہ نفسیات نے تقریباً 10,000 مریضوں کو او پی ڈی سروسز مہیا کی اور تقریباً 800 مریضوں کو وارڈ میں داخل کر کے ان کا علاج کیا۔

ڈاکٹر آفتاب عالم نے پروگرام رابطہ میں امبر ملک ذہنی صحت کے متعلق خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عام لوگوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ شعبہ نفسیات صرف پاگل پن کی بیماری کو ڈیل کرتا ہے اور صرف پاگل پن کا شکار لوگ ہی سائیکاٹرسٹ کے پاس جاتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے، یہ شعبہ تمام ذہنی امراض اور نفسیاتی بیماریوں جیسا کہ ڈپریشن، ذہنی دبائو، گھبراہٹ، مرگی، بچوں میں پیدائشی معذوری، فالج والے مریضوں میں بولنے کی بیماری، منشیات اور جنسی مسائل کو ڈیل کرتا ہے، پوری دنیا میں اس وقت ڈپریشن کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے، متعدد لوگوں نے پروگرام رابطہ میں فون کر کے ڈپریشن غصہ اور عدم برداشت کی شکایت کی جس کے جواب میں ڈاکٹر آفتاب عالم نے ڈپریشن، اس کی وجوہات اور علاج کو مفصل طور پر بیان کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج کل ہماری پریشانیوں کی ایک بڑی وجہ مادہ پرستی بھی ہے جو ہمیں ایک مطمئن زندگی گذارنے نہیں دیتی حالانکہ دنیاوی چیزوں کا تعلق خوش اور مطمئن رہنے سے کبھی نہیں ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈپریشن صرف اداسی کی ایک کفیت کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کی جسمانی صحت کیلئے بھی نقصان دہ ہے اور اس سے انسان کا دل، دماغ اور معدہ بھی متاثر ہوسکتا ہے۔ عام لوگوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ڈپریشن کی ادویات نشہ آور ہوتی ہے اور مریض کو تمام عمر یہ گولیاں کھانی پڑتی ہے تو اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔