حضرت خدیجہ الکبری ؑ نے اپنے پاکیزہ مال و دولت کے ذریعے شجر اسلام کی آبیاری کی ، علامہ ساجد نقوی

ہفتہ مئی 21:37

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) قائد ملت جعفریہ پاکستان ، اسلامی تحریک کے سربراہ اور مرکزی نائب صدر متحد مجلس عمل علامہ سید ساجد علی نقوی نے ملیکتہ العرب ’’ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہا کے یوم وفات ‘‘ کے موقع پر اپنے پیغام میںکہا کہ اسلام کے سب سے پہلے محسن اور حضور اکرمؐ کے سب سے پہلے محافظ و مربی حضرت ابو طالبؑ اور حضرت خدیجہ الکبری ؑ ہیں۔

حضرت ابوطالبؑ نے اپنی قوت و حشمت و مقام اور اپنی اولاد اور حضرت خدیجہ الکبریؑ نے اپنے پاکیزہ مال و دولت کے ذریعے شجر اسلام کی آبیاری کی اور ایسی توانائی عطا کی کہ اس کا سایہ پوری کائنات پر ہوا اور آج تک اسلام کی ترویج و ترقی حضرت خدیجہ الکبریؑ کی قربانیوں کی مرہون منت ہے۔انہوں نے کہا کہ جب دین اسلام اپنے ابتدائی مراحل طے کررہا تھا‘ جب پیغمبر اکرمؐ تن و تنہا دین حق کی تبلیغ میں مصروف تھے‘ جب کفار و قریش اپنے مال‘ طاقت اور افرادی قوت سے نبی اکرمؐ کے مقابل آگئے تو ایسے میں جناب خدیجہ الکبریؑ نے حضور اکرمؐ سے اپنا دائمی رشتہ جوڑ کر ایسا لازوال اور غیر متزلزل سہارا فراہم کیا جس کے ممنون خود پیغمبر گرامیؐ رہے۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ بی بی خدیجتہ الکبریٰ نے واقعی آنحضرتؐ کی رفیقہ حیات ہونے کا ثبوت دیا چونکہ پیغمبر اکرمؐ کی ذات اقدس اللہ کے راستے اور عبادت و ریاضت سے عبارت تھی جبکہ ام المومنین پیغمبر اکرمؐ کے دکھ درد میں برابر شریک رہیں اور زندگی کے تمام فرائض میں بھرپور حصہ لیا۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ملیکتہ العرب‘ ام المومنین حضرت خدیجہ الکبریؑ نے خواتین میں سب سے پہلے اسلام قبول کرکے اور تصدیق رسالت کرکے ایک دانشمند خاتون ہونے کا ثبوت دیا۔

ان کی دانشمندی کا بارز نمونہ یہ ہے کہ رسالت کی اقتصادی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے اقدامات کئے یہ ان کی زیرکی کی بہت بڑی دلیل ہے۔ اپنے اس عمل اور اپنے جذبہ صادق سے اسلام کی بنیادیں استوار کیں۔ آپ نے اپنے پاکیزہ مال سے نبوت کو ایسا سہارا عطا کیا جس کے بعد اسلام کو اطراف و اکناف عالم میں پھیلنے کا موقع ملا۔موجودہ دور میں مسلمانوں کے تمام طبقات انہی متبرک و مقدس ہستیوں کے اعلی و پاکیزہ کردار سے سبق سیکھیں۔

انہوں نے کہا کہ جاگیر دار‘ صنعت کار اور سرمایہ دار اپنے دین اور اپنے وطن کی خدمت کا درس حضرت خدیجہ الکبریؑ سے حاصل کریں۔ دین و ملک کو لوٹنے اور اپنی تجوریاں بھرنے کی بجائے اپنا مال و دولت بھی دین اسلام اور ملک و ملت کے لئے صرف کریں‘ اسی میں خوشنودی خدا و رسول خداؐ او ر اخروی نجات اور اپنے اور ملک کی کامیابی و ترقی کا راز مضمر ہے۔

متعلقہ عنوان :