گائے کا دودھ، موٹے بچوں کو ذیابیطس سے بچاتا ہے، تحقیق

بچوں کو روزانہ دودھ کے دو گلاس پلائیں جس سے وہ ذیابیطس اور دیگر امراض سے محفوظ رہیں گے، ماہرین

ہفتہ مئی 22:13

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) امریکہ:: بچوں میں موٹاپا اس وقت دنیا بھر میں ایک چیلنج بن چکا ہے اور ایسے بچے آگے چل کر ذیابیطس، بلڈ پریشر اور استحالہ میں خرابی (میٹابولک سنڈروم)کے شکار ہوسکتے ہیں۔اس ضمن میں یونیورسٹی آف ٹیکساس میں ہیلتھ سائنس سینٹر کے ماہرین نے کہا ہے کہ اگر موٹاپے کی جانب مائل بچوں کو روزانہ دو گلاس گائے کا کسی بھی قسم کا دودھ دیا جائے تو اس سے نہ صرف ان میں انسولین کا انجذاب بہتر ہوتا ہے بلکہ آگے چل کر خون میں شکر کی مقدار بھی کنٹرول میں رہتی ہے۔

اس سروے کی تفصیلات ویانا میں یورپین کانفرنس آن اوبیسٹی میں پیش کی گئی ہیں جس سے بچوں میں دودھ پینے کی اہمیت مزید واضح ہوتی ہے۔ غذائی ماہر ڈاکٹر مائیکل یافی نے بتایا کہ روزانہ دودھ پینے کی عادت بچوں کو میٹابولک سنڈروم سے بچاتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے اعتراف کیا کہ سروے میں شامل صرف دس بچے ہی ایسے تھے جو دودھ کی ضروری مقدار پی رہے تھے۔۔ڈاکٹر مائیکل نے بتایا کہ والدین دودھ کو بچوں کیلیے مضر سمجھنے لگے ہیں اور ان کیلیے ہمارا پیغام ہے کہ وہ دودھ سے نہ گھبرائیں اور ہر عمر کے بچوں کو دودھ ضرور پلائیں۔

میٹابولک سنڈروم ایک جسمانی کیفیت ہے جس میں پانچ میں سے کوئی تین مضر حالتیں ایک جگہ موجود ہوسکتی ہیں: خون میں زیادہ شکر، زیادہ کولیسٹرول، ہائی بلڈ پریشر، پیٹ پر چربی اور اچھے کولیسٹرول (ایچ ڈی ایل) میں کمی۔ یہ کیفیات امراضِ قلب، فالج اور ذیابیطس کا راستہ کھولتی ہیں۔اس سے قبل ماہرین نے انکشاف کیا تھا کہ بڑوں میں بھی دودھ کا استعمال ان کیفیات سے بچاتا ہے لیکن اب یہ بات موٹاپے کے شکار بچوں اور نوعمروں کیلیے بھی ثابت ہوچکی ہے۔

سروے میں 353 موٹے بچوں اور نوعمر افراد کو شامل کیا گیا اور دو برس تک مسلسل ان کا جائزہ لیا جاتا رہا جن کی عمریں 3 سے 18 برس تھیں۔ اس دوران فاسٹنگ انسولین کو بھی شروع میں نوٹ کیا گیا۔ ان میں سے ایک تہائی ہسپانوی بچے تھے جب کہ لڑکیوں میں دودھ پینے کی مقدار لڑکوں سے بھی کم تھی۔ان میں سے جن بچوں نے مقررہ مقدار سے کم دودھ پیا ان میں فاسٹنگ انسولین کی شرح بقیہ کے مقابلے میں کم تھی۔ اس سے ثابت ہوا کہ دودھ کا باقاعدہ استعمال بچوں میں میٹابولک سنڈروم اور ذیابیطس کے خطرے سے بچا میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

متعلقہ عنوان :