پاکستان بھارت تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے ایک بامعنی مذاکراتی عمل کا آغاز کریں، میر واعظ

کنٹرول لائن پر گولہ باری اور انسانی جانوں کے زیاں پر اظہار تشویش

ہفتہ مئی 22:39

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈی پرجاری کشیدگی کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے دونوں ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے ایک بامعنی مذاکراتی عمل کا آغاز کریں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈی پر گولہ بارے کے نتیجے میں دونوں اطراف قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیںجو انتہائی افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں اطراف کی کشمیری قیادت کو ملنے کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے کیونکہ تنازعہ کشمیر کے حوالے کسی بھی عمل کو آگے بڑھانے کیلئے اس طرح کا اقدام ناگزیر ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اور حریت قیادت ہر اٴْس عمل میں تعاون دینے کیلئے تیار ہے جس کا مقصد مسئلہ کشمیر کا کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق ایک دیرپا حل تلاش کرنا ہو۔

میر واعظ نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام اور ترقی کے لیے تنازعہ کشمیر کا منصفانہ حل ناگزیر ہے لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب بھارت یہ حقیقت تسلیم کر لے کہ آج نہیں تو کل اسے اس تنازعے کو حل کرنا ہی پڑے گا۔میرواعظ نے بھارتی فوج کے بدنام زمانہ میجر گگوئی جس نے گزشتہ برس بڈگام میں نام نہاد بارتی پارلیمانی نتخابات کے دوران فاروق احمد ڈار نامی ایک نہتے شہری کو اپنی جیب کے بونٹ کے ساتھ باندھ کر انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا تھاکے سرینگر کے ایک ہوٹل میں پکڑے جانے کے حالیہ واقعہ کو انتہائی شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر گوگوئی کو ماضی میں اس کے کئے کی سزا دی گئی ہوتی تو آج اسکا دوسرا جرم سامنے نہ آتا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کالے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کی وجہ سے مقبوضہ علاقے میں کھلے عام جرائم کرتی پھر رہی ہے۔ میر واعظ نے کہا کہ جس فوج کو سرحدوں یا پھر کیمپوں اور بارکوں میں ہونا چاہیے وہ کشمیرکے شہروں ، قصبوں اور دیہات میں دندناتی پھر رہی ہے۔انہوںنے میجر گوگوئی کے حوالے سے حالیہ واقعے کی فوری تحقیقات اور اسے اسکے جرم کی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔